امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی جلد ختم ہو جائے گی اور آبنائے ہرمز بھی دوبارہ مکمل طور پر بحری آمدورفت کے لیے کھول دی جائے گی۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مختلف سطحوں پر بات چیت جاری ہے اور انہیں یقین ہے کہ موجودہ جنگ زیادہ عرصہ جاری نہیں رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں ایران طویل عرصے تک اس جنگ کو جاری رکھنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، اس لیے جلد کسی نہ کسی مثبت پیش رفت کا امکان موجود ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد آبنائے ہرمز بھی دوبارہ کھل جائے گی، جس سے عالمی توانائی کی ترسیل معمول پر آ سکے گی۔
امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک الگ بیان میں وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے کام سے انتہائی مطمئن ہیں۔
تاہم ایرانی حکام متعدد مواقع پر واضح کر چکے ہیں کہ جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے امریکا کے ساتھ اس وقت کوئی براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ اس معاملے میں عمان کے ساتھ ہونے والی بات چیت صرف آبنائے ہرمز کے انتظام اور جہاز رانی سے متعلق ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر خطے میں سفارتی کوششیں کامیاب رہتی ہیں تو اس کے مثبت اثرات عالمی تیل کی منڈی، بحری تجارت اور مشرق وسطیٰ کی مجموعی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔