پاکستان ہاکی ٹیم کو ورلڈکپ کے افتتاحی میچ میں عالمی سطح پر شرمندگی کا سامنا قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اہم اجلاس آج ہوں گے، نئے صوبوں کے قیام پر تفصیلی بحث ہوگی ایران میں مزید پابندیوں اور مہنگائی کا خدشہ، امریکا اور اسرائیل پر معاشی جنگ مسلط کرنے کا الزام ایران جنگ میں ساتھ نہ دینے پر ناراضی، ٹرمپ کا جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقیں کم کرنے کا حکم آبنائے ہرمز پر قبضے کی کوشش امریکا کو مہنگی پڑے گی، ایرانی آرمی چیف کی دھمکی ٹرمپ نے پاسداران انقلاب کے ساتھ کرد صدر کے ذریعے خفیہ رابطے کیے، امریکی ویب سائٹ کا انکشاف گال ٹیسٹ: پڈیکل کی شاندار سنچری، بھارت نے پہلی اننگز میں 462 رنز بنالیے کرسٹیانو رونالڈو کا ریٹائرمنٹ سے متعلق بڑا اعلان سامنے آگیا سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کا نیا دفاعی اتحاد، ٹرمپ نے مکہ معاہدے کو ’بڑا اور اہم قدم‘ قرار دے دیا “چھوٹُو” کُمہار اور آج کی سرکار پاکستان ہاکی ٹیم کو ورلڈکپ کے افتتاحی میچ میں عالمی سطح پر شرمندگی کا سامنا قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اہم اجلاس آج ہوں گے، نئے صوبوں کے قیام پر تفصیلی بحث ہوگی ایران میں مزید پابندیوں اور مہنگائی کا خدشہ، امریکا اور اسرائیل پر معاشی جنگ مسلط کرنے کا الزام ایران جنگ میں ساتھ نہ دینے پر ناراضی، ٹرمپ کا جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقیں کم کرنے کا حکم آبنائے ہرمز پر قبضے کی کوشش امریکا کو مہنگی پڑے گی، ایرانی آرمی چیف کی دھمکی ٹرمپ نے پاسداران انقلاب کے ساتھ کرد صدر کے ذریعے خفیہ رابطے کیے، امریکی ویب سائٹ کا انکشاف گال ٹیسٹ: پڈیکل کی شاندار سنچری، بھارت نے پہلی اننگز میں 462 رنز بنالیے کرسٹیانو رونالڈو کا ریٹائرمنٹ سے متعلق بڑا اعلان سامنے آگیا سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کا نیا دفاعی اتحاد، ٹرمپ نے مکہ معاہدے کو ’بڑا اور اہم قدم‘ قرار دے دیا “چھوٹُو” کُمہار اور آج کی سرکار
پاکستان ہاکی ٹیم کو ورلڈکپ کے افتتاحی میچ میں عالمی سطح پر شرمندگی کا سامنا قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اہم اجلاس آج ہوں گے، نئے صوبوں کے قیام پر تفصیلی بحث ہوگی ایران میں مزید پابندیوں اور مہنگائی کا خدشہ، امریکا اور اسرائیل پر معاشی جنگ مسلط کرنے کا الزام ایران جنگ میں ساتھ نہ دینے پر ناراضی، ٹرمپ کا جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقیں کم کرنے کا حکم آبنائے ہرمز پر قبضے کی کوشش امریکا کو مہنگی پڑے گی، ایرانی آرمی چیف کی دھمکی ٹرمپ نے پاسداران انقلاب کے ساتھ کرد صدر کے ذریعے خفیہ رابطے کیے، امریکی ویب سائٹ کا انکشاف گال ٹیسٹ: پڈیکل کی شاندار سنچری، بھارت نے پہلی اننگز میں 462 رنز بنالیے کرسٹیانو رونالڈو کا ریٹائرمنٹ سے متعلق بڑا اعلان سامنے آگیا سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کا نیا دفاعی اتحاد، ٹرمپ نے مکہ معاہدے کو ’بڑا اور اہم قدم‘ قرار دے دیا “چھوٹُو” کُمہار اور آج کی سرکار پاکستان ہاکی ٹیم کو ورلڈکپ کے افتتاحی میچ میں عالمی سطح پر شرمندگی کا سامنا قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اہم اجلاس آج ہوں گے، نئے صوبوں کے قیام پر تفصیلی بحث ہوگی ایران میں مزید پابندیوں اور مہنگائی کا خدشہ، امریکا اور اسرائیل پر معاشی جنگ مسلط کرنے کا الزام ایران جنگ میں ساتھ نہ دینے پر ناراضی، ٹرمپ کا جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقیں کم کرنے کا حکم آبنائے ہرمز پر قبضے کی کوشش امریکا کو مہنگی پڑے گی، ایرانی آرمی چیف کی دھمکی ٹرمپ نے پاسداران انقلاب کے ساتھ کرد صدر کے ذریعے خفیہ رابطے کیے، امریکی ویب سائٹ کا انکشاف گال ٹیسٹ: پڈیکل کی شاندار سنچری، بھارت نے پہلی اننگز میں 462 رنز بنالیے کرسٹیانو رونالڈو کا ریٹائرمنٹ سے متعلق بڑا اعلان سامنے آگیا سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کا نیا دفاعی اتحاد، ٹرمپ نے مکہ معاہدے کو ’بڑا اور اہم قدم‘ قرار دے دیا “چھوٹُو” کُمہار اور آج کی سرکار

“چھوٹُو” کُمہار اور آج کی سرکار

Link copied!
"چھوٹُو" کُمہار اور آج کی سرکار

تحریر: ثناء اللہ مجاہد

پُرانے اور اچھے وقتوں کی بات ہے، جب زندگی پیدل چلا کرتی تھی۔ گاؤں میں مال برداری کا کام جانوروں سے لیا جاتا تھا، اور وہ جانور آج کے انسانوں سے زیادہ فرمانبردار ہوتے اور مالک کو اپنوں سے بڑھ کر عزیز ہوتے تھے۔ آج کی طرح انسان جانوروں کی طرح کام نہیں کرتے تھے؛ جانور انسانوں کا کام کیا کرتے تھے۔

گاؤں میں ایک تھے چچا چھوٹُو۔ ہر چھوٹے بڑے کے وہ چچا تھے۔ آج کے الفاظ میں کہا جائے تو اُن کا گڈز ٹرانسپورٹ کا اپنا بزنس تھا۔ گاؤں میں کسی کو بھی مال برداری کا کام ہوتا، انہی کی خدمات لی جاتیں۔ اُن کے ذاتی چھ سات گدھے تھے؛ کچھ شرارتی، کچھ سُست، کچھ بوڑھے اور کچھ “ینگ بلڈ”، جو اُن کے بزنس کو بڑے اچھے انداز میں چلا رہے تھے۔

چچا چھوٹُو صبح اپنی ٹرانسپورٹ کمپنی لے کر مال برداری کے لیے اپنے گدھوں سے باتیں کرتے جاتے، جیسے وہ اُن کی ہر بات سمجھتے ہوں۔ فاصلہ زیادہ ہوتا تو آخری گاڑی، یعنی آخری کھوتے پر بیٹھ جاتے۔

زیادہ تر گاؤں میں اُس زمانے میں مکانات کچے بنائے جاتے تھے، جن کے لیے کچی اینٹیں قریبی کھیت میں مٹی سے بنا کر خشک کی جاتی تھیں۔ آج کی طرح اینٹوں کے بھٹے نہیں ہوتے تھے۔

کھیت سے اینٹیں گدھوں پر لاد کر چچا چھوٹُو جب ڈلیوری کے لیے نکلتے تو طاقتور گدھے تیز چلتے، جو سب سے آگے ہوتے۔ “ینگ بلڈ” شرارتی گدھے اُن سے مقابلہ کرتے جاتے۔ طاقتور آج کی طرح کل بھی کام چور تھے۔ وزن ہلکا کرنے کے لیے بھاگتے تاکہ اینٹیں گرتی رہیں اور وزن کم ہوتا رہے۔ اُنہیں دیکھ کر “ینگ بلڈ” بھی ایسی ہی حرکتیں کرتے، جس سے اینٹیں گرتی رہتیں۔

چچا چھوٹُو پیچھے آخری گدھے کے ساتھ چلتے تھے۔

یہ گدھا نہ طاقتور تھا، نہ شرارتی۔ خاموش، شریف اور کمزور تھا۔ وہ اپنا بوجھ سنبھال کر آہستہ آہستہ چل رہا تھا۔

آگے والے گدھوں کو دیکھ کر چچا کو غصہ آتا تو جس شریف اور کمزور گدھے کے ساتھ چل رہے ہوتے، اُسے ڈنڈا مار دیتے۔ قصور طاقتور کا، شرارتی کا؛ سزا کمزور اور شریف کو ملتی—آج کی طرح۔

جو اینٹیں آگے جانے والے گدھے گراتے، چچا اُنہیں اٹھا اٹھا کر آخری کمزور اور بوجھ تلے دبے گدھے پر رکھتے جاتے۔ جب تھک جاتے تو اُسی کمزور گدھے پر بیٹھ بھی جاتے اور اُسے تیز چلنے کے لیے ڈنڈے بھی مارتے۔

بالکل آج کے سسٹم کی طرح!

اس میں بھی طاقتور آج کی طرح دولتیاں مارتا ہوا بھاگ رہا ہے، اپنے بوجھ گراتا جا رہا ہے۔ شرارتی “ینگ بلڈ” اُس کی پیروی کرتے ہوئے اپنا بوجھ گراتے ہوئے آگے نکل رہے ہیں۔ کمزور طبقہ دونوں کا بوجھ بھی اٹھا رہا ہے، ڈنڈے بھی کھا رہا ہے، اور سرکار کا بوجھ بھی اٹھا رہا ہے۔

برسوں بعد بھی کچھ نہیں بدلا؛ بس ڈنڈا مارنے والا ہاتھ بدل گیا ہے۔

اینٹوں کی جگہ ٹیکسز نے لے لی ہے، کمزور گدھے کی جگہ کمزور عوامی طبقے نے لے لی ہے۔ بدلا کچھ بھی نہیں۔

ایک فرق ضرور ہے۔

چچا چھوٹُو کمزور گدھے کو شام کے وقت دوسرے “ینگ بلڈ” اور طاقتور گدھوں سے الگ کر کے زیادہ خوراک دے دیا کرتے تھے، کیونکہ اُنہیں اسی پر بھروسہ تھا۔

آج بھی طاقتور اپنے بوجھ سے بچنے کے راستے نکال لیتا ہے، اپنے اخراجات دوسروں پر منتقل کر دیتا ہے اور کمزور کو پیچھے چھوڑ کر آگے نکل جاتا ہے۔

آج بھی وسائل رکھنے والا طبقہ اپنی سہولتیں محفوظ رکھتا ہے، طاقتور اپنے حصے کا بوجھ دوسروں پر ڈال دیتا ہے، اور متوسط و کمزور طبقہ ہر نئی ذمہ داری، ہر نئے ٹیکس اور ہر نئے معاشی بوجھ کے نیچے دبتا چلا جاتا ہے۔

اور سب سے عجیب بات یہ ہے کہ جب نظام کو کہیں سے ریونیو کم پڑ جائے، جب اخراجات بڑھ جائیں، جب خسارہ سامنے آ جائے، تو پھر نظر اُسی کمزور طبقے کی طرف اٹھتی ہے۔

جس کی کمر پہلے ہی جھکی ہوئی ہے۔

جس کے پاس بچانے کو کچھ نہیں۔

جس نے پہلے ہی اپنا حصہ دے رکھا ہے۔

اُسی سے کہا جاتا ہے:

مزید بوجھ اٹھاؤ۔

لیکن اس پرانی کہانی میں ایک فرق ضرور تھا۔

چچا چھوٹُو کمزور گدھے کو مارتے ضرور تھے، مگر شام کو جب سارے گدھے واپس آتے تو وہ اسی کمزور گدھے کو باقیوں سے الگ کر کے کچھ زیادہ خوراک دیتے تھے۔

کیونکہ چچا چھوٹُو جانتے تھے کہ اُن کے کاروبار کا اصل سہارا یہی کمزور گدھا ہے۔

طاقتور گدھے بھاگ بھی سکتے تھے، شرارت بھی کر سکتے تھے، بوجھ گرا بھی سکتے تھے، مگر آخر میں بوجھ منزل تک پہنچانے والا وہی شریف اور کمزور گدھا تھا۔

آج چچا چھوٹُو نہیں ہیں۔

نظام موجود ہے۔

ڈنڈا موجود ہے۔

بوجھ موجود ہے۔

اینٹوں کی جگہ ٹیکس آگئے، بجلی کے بل آگئے، طرح طرح کے جرمانے آگئے؛ جینے اور مرنے پر بھی ٹیکس اور جرمانے موجود ہیں۔

کمزور گدھے کی جگہ عوام موجود ہیں۔

طاقتور آج بھی طاقتور ہے، شرارتی آج بھی شرارتی ہے، اور کمزور آج بھی سب کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔

بس ایک چیز ختم ہوگئی ہے:

وہ چچا چھوٹُو والا شعور۔

جس کمزور کے کندھے پر پورا نظام کھڑا ہے، اگر اُسے ہی بھوکا، نڈھال اور بے بس کر دیا جائے تو آخرکار بوجھ اٹھانے والا کوئی نہیں بچے گا۔

ریاست کا اصل سرمایہ صرف خزانہ نہیں، اُس کے عوام ہوتے ہیں۔

طاقتور سے اُس کا جائز حصہ لینا، کمزور پر مزید بوجھ ڈالنے سے کہیں بہتر ہے۔

عوام کو مسلسل نچوڑ کر وقتی آمدن تو حاصل کی جا سکتی ہے، مضبوط معیشت نہیں بنائی جا سکتی۔

جو نظام کمزور کو صرف بوجھ اٹھانے کے لیے استعمال کرے اور اُس کی طاقت بحال کرنے کے لیے کچھ نہ کرے، وہ آخرکار اپنے ہی سہارے کو کمزور کر دیتا ہے۔

جس عوام کے کندھوں پر ریاست کا بوجھ رکھا ہے، پہلے انہی کندھوں کو مضبوط کرو۔

کمزور کو ڈنڈا نہیں، سہارا دو؛

کیونکہ بوجھ اٹھانے والا گدھا اگر گر گیا، تو بوجھ بھی وہیں رہ جائے گا اور منزل بھی دور ہو جائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مقبول خبریں
Link copied!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *