ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے زمبابوے نے ٹی ٹوئنٹی کپتان سکندر رضا کو ون ڈے ٹیم کی قیادت سونپ دی انگلینڈ انڈر 19 نے پاکستان کو 2 رنز سے شکست دے دی سڈنی سوینی کے بولڈ اسپورٹس اشتہار پر کھلاڑیوں کا اعتراض، خواتین کی نمائندگی پر نئی بحث حکومت نے پیٹرول ریلیف کے نام پر عوام کو دھوکا دیا، لیوی بھتے کے خلاف اسلام آباد مارچ ہوگا، حافظ نعیم شدید بارشیں اور ممکنہ سیلاب؛ وزیراعظم کی تمام اداروں کو تیار رہنے کی ہدایت امریکی پابندیاں ایران کو اندر سے توڑنے کی سازش ہیں، صدر مسعود پزشکیان مکہ دفاعی اتحاد اسلامی دنیا کے لیے اہم پیغام ہے، ترک صدر اردوان بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں عالمی سرمایہ کاری17سال کی کم ترین سطح پرپہنچ گئی حوثی باغیوں کے حملوں کے بعد سعودی اتحادی افواج نے بھرپور جواب دینے کا اعلان کردیا ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے زمبابوے نے ٹی ٹوئنٹی کپتان سکندر رضا کو ون ڈے ٹیم کی قیادت سونپ دی انگلینڈ انڈر 19 نے پاکستان کو 2 رنز سے شکست دے دی سڈنی سوینی کے بولڈ اسپورٹس اشتہار پر کھلاڑیوں کا اعتراض، خواتین کی نمائندگی پر نئی بحث حکومت نے پیٹرول ریلیف کے نام پر عوام کو دھوکا دیا، لیوی بھتے کے خلاف اسلام آباد مارچ ہوگا، حافظ نعیم شدید بارشیں اور ممکنہ سیلاب؛ وزیراعظم کی تمام اداروں کو تیار رہنے کی ہدایت امریکی پابندیاں ایران کو اندر سے توڑنے کی سازش ہیں، صدر مسعود پزشکیان مکہ دفاعی اتحاد اسلامی دنیا کے لیے اہم پیغام ہے، ترک صدر اردوان بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں عالمی سرمایہ کاری17سال کی کم ترین سطح پرپہنچ گئی حوثی باغیوں کے حملوں کے بعد سعودی اتحادی افواج نے بھرپور جواب دینے کا اعلان کردیا
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے زمبابوے نے ٹی ٹوئنٹی کپتان سکندر رضا کو ون ڈے ٹیم کی قیادت سونپ دی انگلینڈ انڈر 19 نے پاکستان کو 2 رنز سے شکست دے دی سڈنی سوینی کے بولڈ اسپورٹس اشتہار پر کھلاڑیوں کا اعتراض، خواتین کی نمائندگی پر نئی بحث حکومت نے پیٹرول ریلیف کے نام پر عوام کو دھوکا دیا، لیوی بھتے کے خلاف اسلام آباد مارچ ہوگا، حافظ نعیم شدید بارشیں اور ممکنہ سیلاب؛ وزیراعظم کی تمام اداروں کو تیار رہنے کی ہدایت امریکی پابندیاں ایران کو اندر سے توڑنے کی سازش ہیں، صدر مسعود پزشکیان مکہ دفاعی اتحاد اسلامی دنیا کے لیے اہم پیغام ہے، ترک صدر اردوان بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں عالمی سرمایہ کاری17سال کی کم ترین سطح پرپہنچ گئی حوثی باغیوں کے حملوں کے بعد سعودی اتحادی افواج نے بھرپور جواب دینے کا اعلان کردیا ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے زمبابوے نے ٹی ٹوئنٹی کپتان سکندر رضا کو ون ڈے ٹیم کی قیادت سونپ دی انگلینڈ انڈر 19 نے پاکستان کو 2 رنز سے شکست دے دی سڈنی سوینی کے بولڈ اسپورٹس اشتہار پر کھلاڑیوں کا اعتراض، خواتین کی نمائندگی پر نئی بحث حکومت نے پیٹرول ریلیف کے نام پر عوام کو دھوکا دیا، لیوی بھتے کے خلاف اسلام آباد مارچ ہوگا، حافظ نعیم شدید بارشیں اور ممکنہ سیلاب؛ وزیراعظم کی تمام اداروں کو تیار رہنے کی ہدایت امریکی پابندیاں ایران کو اندر سے توڑنے کی سازش ہیں، صدر مسعود پزشکیان مکہ دفاعی اتحاد اسلامی دنیا کے لیے اہم پیغام ہے، ترک صدر اردوان بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں عالمی سرمایہ کاری17سال کی کم ترین سطح پرپہنچ گئی حوثی باغیوں کے حملوں کے بعد سعودی اتحادی افواج نے بھرپور جواب دینے کا اعلان کردیا

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے

Link copied!

اے خاصۂ خاصانِ رسلﷺ وقتِ دعا ہے
امت پہ تری آ کے عجب وقت پڑا ہے
کہاں ہیں مقامات مقدسہ کی پاسبانی کے دعوے دار؟
حوثی جارحیت، مکہ کی طرف ڈرون اور امتِ مسلمہ کی پُراسرارخاموشی۔ اب مذمت نہیں مرمت کا وقت ہے۔
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسے خطرناک موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک واقعہ محض ایک فوجی کارروائی نہیں رہتا بلکہ اس کے پیچھے پورے خطے کی سیاست، مسلکی کشمکش، طاقت کا توازن اور مسلم دنیا کی اجتماعی ذمہ داری کے سوالات کھڑے ہو جاتے ہیں۔ سعودی عرب پر حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملے، تیل اور دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششیں اور اب مکہ مکرمہ کی سمت آنے والے ڈرون کا واقعہ اسی بڑے منظرنامے کی ایک انتہائی تشویش ناک کڑی ہے۔
16 ستمبر 2026 کو سعودی حکام نے کہا کہ حوثیوں کی طرف سے مکہ مکرمہ کی سمت آنے والے ایک ڈرون کو سعودی فضائی دفاع نے روک کر تباہ کر دیا۔
سوال یہ نہیں کہ ڈرون روک کر تباہ کر دیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اب مقدس مقامات بھی علاقائی جنگ کے دباؤ سے محفوظ نہیں رہے؟
حوثی طاقت کے پیچھے کون؟حوثی تحریک کو ایران کے ساتھ منسلک اور ایران کی حمایت یافتہ قوت کے طور پر متعدد بین الاقوامی ذرائع بیان کرتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں حوثیوں کی عسکری صلاحیت میں میزائل، ڈرون اور بحری ہتھیار نمایاں ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایران کی مدد اور علاقائی اتحادیوں کے تعاون نے حوثیوں کو ایک زیادہ طاقتور عسکری قوت بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔
رائٹرز کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے بھی ایران کو پیغام پہنچایا کہ وہ اپنے حوثی اتحادیوں کو سعودی عرب کے خلاف کارروائیاں روکنے پر آمادہ کرے۔ اس سے کم از کم یہ ظاہر ہوتا ہے کہ علاقائی سطح پر حوثیوں اور ایران کے تعلق کو ایک اہم سیاسی و سلامتی کا مسئلہ سمجھا جا رہا ہے۔
ایران البتہ حوثیوں پر براہِ راست کنٹرول کے دعوے کو تسلیم نہیں کرتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اصل پیچیدگی پیدا ہوتی ہے۔ اگر حوثی ایک خودمختار یمنی قوت ہیں تو پھر ان کے پاس اتنی جدید میزائل اور ڈرون صلاحیت کہاں سے آئی؟ اور اگر وہ ایران کے اسٹریٹجک شراکت دار ہیں تو تہران کی ذمہ داری کہاں ختم ہوتی ہے؟
یہ سوال صرف سعودی عرب کا نہیں، پورے خطے کا ہے۔ اس پوری بساط میں اسرائیل کا کلیدی کردار براہِ راست ہے یانہیں مگر اہم کردار ضرور ہے۔
اس بحران کو صرف ایران، حوثی اور سعودی عرب کے مثلث میں دیکھنا بھی مکمل تصویر نہیں۔ اسرائیل اور ایران کی کشیدگی نے پورے خطے کو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے محاذوں میں تقسیم کر دیا ہے۔رائٹرز کے مطابق جون 2026 میں اسرائیل اور ایران کے درمیان دوبارہ شدید کشیدگی کے دوران حوثیوں نے اسرائیلی جہازوں کے خلاف بحیرۂ احمر میں کارروائیوں کی دھمکی دی اور خود کو ایران کے ساتھ جاری بڑے علاقائی تنازعے سے جوڑا۔
یوں یمن کا محاذ محض یمن نہیں رہا۔ بحیرۂ احمر، باب المندب، سعودی تیل کی تنصیبات، اسرائیلی مفادات اور ایرانی علاقائی حکمتِ عملی ایک دوسرے سے جڑ گئے ہیں۔
حوثیوں کی کارروائیوں کو اسرائیل یا ایران کی ہر پالیسی کا براہِ راست نتیجہ قرار دیاجاسکتاہے۔ کیونکہ اسرائیل کے گریٹر اسرائیل منصوبہ کو سب سے دبنگ انداز میں سعودیہ نے ہی رجیکٹ کیا جس کے بعد سعودیہ کو کنٹرول کرنے کے لیے امریکہ تھوڑا پیچے ہٹا اور اسرائیل اور ایران ے حوثیوں کو منظم کیا ہرطرح کی سپورٹ اور پلانگ دی جس سے سعودیہ کی تیل کی صنعت کو نقصان پہنچایاجاسکے اور سعودیہ کو کمزور کرکے جھکایاجائے۔
سعودی عرب صرف ایک ملک نہیں۔ یہ دنیا کے مسلم کے لیے ایک مقدس جگہ ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حفاظت کسی ایک حکومت کا داخلی معاملہ نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔
اسی لیے مکہ کی طرف آنے والے ڈرون نے ایک معمول کے عسکری حملے کو غیر معمولی مذہبی اور نفسیاتی واقعے میں تبدیل کر دیا۔شاید حملہ آور عناصر مسلم امہ کا ری ایکشن دیکھنا چاہتے ہیں جوکہ ابھی تک نہ ہونے کے برابر ہے۔
اگر ایک ڈرون سعودی آئل تنصیب تک آگیاہے تو دنیا اسے توانائی کے بحران کے زاویے سے دیکھتی ہے؛ لیکن اگر وہ مکہ مکرمہ کی طرف بڑھتا ہے تو معاملہ پوری امت کے اجتماعی شعور کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔
یہاں ایک اور پہلو بھی اہم ہے۔ رائٹرز کے مطابق حالیہ حوثی حملوں میں سعودی شہروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ سعودی عرب نے جوابی فضائی کارروائیاں کیں۔
یعنی معاملہ اب محض ایک سرحدی جھڑپ نہیں رہا؛ یہ ایک ایسے تنازعے کی شکل اختیار کر رہا ہے جس کے اثرات توانائی، تجارت، بحری راستوں اور عام شہریوں تک پہنچ رہے ہیں۔
امتِ مسلمہ کی پُراسرار خاموشی یا بے حسی؟یہاں سب سے مشکل سوال سامنے آتا ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم نے واقعے کی حسب عادت لفظی مذمت کی ہے، جبکہ پاکستان اور ترکی سمیت بعض ممالک نے بھی سفارتی ردعمل دیا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا مذمت کافی ہے؟
مسلم دنیا کے پاس 57 رکنی اسلامی تعاون تنظیم ہے۔ خلیجی ممالک کے پاس اپنی اجتماعی سلامتی کے ادارے ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون موجود ہے۔ عرب ممالک کے پاس سفارتی اور اقتصادی اثرورسوخ ہے۔پھر بھی جب ایک مقدس شہر کی فضائی حدود خطرے میں آتی ہیں تو اجتماعی ردعمل زیادہ تر بیانات تک محدود کیوں دکھائی دیتا ہے؟ اس کا جواب ’’خاموشی‘‘ سے زیادہ ’’مصلحت‘‘ ہے تو یہ کیسی مصلحت ہے کہ ایمان کو للکار ہے اور اسکے جواب مصلحت ہے؟ ایسی مصلحت سے موت اچھی ہے یہ حقیقت ہے کہ جب سے مسلم نے جہاد کو چھوڑا ذلیل و خوار ہوئے۔ طاغوت کے سامنے مصلحت دکھائی تو طاغوت نے اِن کی دُرگت بنائی ان کے ہاتھ سے شمشیر پکڑ کر گٹار تھمادی تلوار کی جھنکار سے گٹار کی جھنکار کے نشہ پر لگادیا۔ قرآن سے ہٹاکر ترقی کے نام پر ستاروں پر کمند پر لگا دیا۔تلوار کی ہیبت ختم ہوئی تو مسلمز کا خوف طاغوت کے ذہنوں سے ختم ہوگیا۔ ہم مدہوش ہوتے گئے دنیاکی چاک و چوبند رنگینی میں۔ آج بیت اللہ پر حملہ ہوا تو کسی کے دل میں جذبہ ایمانی نہیں جاگا۔
آج حال یہ ہے کہ کوئی بھی ملک ایران سے اپنے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتا کیونکہ مسلمانوں کے خلاف ایران کو اسرائیل و امریکہ نے اپنا ہراول دستہ بنایاہوہے۔کوئی بھی مسلم ملک آج سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہو کر ایران کے ساتھ تصادم نہیں چاہتا۔ہر ملک اسرائیل۔ایران تنازعے میں براہِ راست فریق بننے سے خوفزدہ ہے۔
یہ سفارتی حساب کتاب اپنی جگہ قابلِ فہم ہے، مگر مقدس مقامات کا معاملہ اس سے کہیں بڑا ہے۔
مسلم دنیا میں کئی ممالک اپنی دفاعی قوت، میزائل ٹیکنالوجی، فضائی دفاع اور فوجی صلاحیت کے حوالے سے بڑے دعوے کرتے ہیں۔مگر اندر سے وہ بھی غلام ہیں ذاتیات کے۔
مگر تاریخ کا ایک تلخ سبق ہے:
دفاعی طاقت صرف ہتھیاروں کی تعداد کا نام نہیں؛ اجتماعی ارادے،ایمان کا نام بھی ہے۔اگر ہر ملک اپنے مفاد کی حد تک سوچے اور اجتماعی خطرے کو صرف دوسرے ملک کا مسئلہ سمجھتا رہے تو بڑی سے بڑی فوجی طاقت بھی بکھری ہوئی رہتی ہے۔
طاغوتی طاقتیں ایک ایک کرکے اپنی چالیں چل رہی ہے اور امت کا ردعمل دیکھ کر اگلا قدم اٹھاتاہے اگر اس کا قدم نہ روکا گیا تو آج سعودی عرب کے خلاف حملے ہیں۔کل بحیرۂ احمر کا بحران ہے۔پرسوں تیل کی تنصیبات خطرے میں ہیں۔اور اگر مقدس مقامات بھی جنگی دباؤ کی زد میں آ جائیں تو پھر سوال صرف سعودی دفاع کا نہیں رہتا۔
یہ سوال پوری امت کے اجتماعی سلامتی کے تصور کا بن جاتا ہے۔اصل خطرہ ڈرون نہیں، جنگ کا پھیلتا ہوا دائرہ ہےمکہ کی طرف آنے والا ڈرون روک دیا گیا۔ یہ سعودی فضائی دفاع کی کامیابی ہے۔ مگر ایک ڈرون روک دینا مسئلے کا خاتمہ نہیں۔اصل خطرہ یہ ہے کہ یمن، سعودی عرب، ایران، اسرائیل، بحیرۂ احمر اور خلیج فارس کے مختلف محاذ ایک دوسرے سے جڑتے جا رہے ہیں۔
رائٹرز نے حالیہ صورتحال میں سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے، باب المندب اور بحری تجارت کو بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کی ہے۔ایران اگر واقعی خطے میں ایک ذمہ دار علاقائی طاقت کا کردار چاہتا ہے تو اسے یہ واضح کرنا ہوگا کہ اس کے اتحادیوں کی کارروائیوں کی حدود کیا ہیں۔
سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات میں بہتری کی کوششیں ہوئی ہیں۔ لیکن اگر ایک طرف سفارتی روابط ہوں اور دوسری طرف ایران سے منسلک قوتیں سعودی سرزمین اور مقدس مقامات کے قریب حملے کریں تو اعتماد کیسے قائم ہوگا؟اگر آپ کی جنگ سیاسی اور عسکری اہداف کے خلاف ہے تو مکہ مکرمہ کی سمت جانے والا ڈرون کس منطق کے تحت قابلِ قبول ہو سکتا ہے؟خطے کے عام انسان، توانائی کی منڈیاں، تجارت، مسلم ممالک کی معیشتیں اور عالمی امن سب متاثر ہوتے ہیں۔
خاموشی کب تک؟آج سب سے بڑا سوال شاید یہ نہیں کہ سعودی عرب اپنے دفاع کے لیے کتنے ڈرون مار گراتا ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ مسلم دنیا اجتماعی طور پر مقدس مقامات کے تحفظ کو کس سطح کی ترجیح دیتی ہے؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب بیانات سے نہیں، پالیسی سے ملیں گے۔
مکہ مکرمہ کی طرف آنے والا ڈرون اپنے ساتھ ایک بڑا سوال چھوڑ گیا ہے۔کیا امتِ مسلمہ صرف اس وقت بیدار ہوگی جب نقصان ہو چکا ہوگا؟جس کا ازالہ نہ ہوسکے گا؟
آج ڈرون روک لیا گیا۔ کل شاید کوئی دوسرا ڈرون ہو، کوئی میزائل ہو یا کوئی ایسا واقعہ جسے روکنے کا موقع نہ ملے۔
مقدس مقامات کی حفاظت صرف سعودی عرب کی ذمہ داری ضرور ہے، مگر ان کے تقدس کا احترام پوری امت کی ذمہ داری بھی ہے۔اسرائیل اور ایران کو سمجھنا ہوگا کہ مسلسل محاذ آرائی پورے خطے کو آگ میں دھکیل سکتی ہے، اور مسلم ممالک کو یہ طے کرنا ہوگا کہ ان کی اجتماعی سلامتی محض کانفرنسوں اور مذمتی قراردادوں کا نام ہے یا واقعی کوئی مشترکہ عملی تصور بھی موجود ہے۔کیونکہ مکہ مکرمہ کسی جغرافیائی محاذ کا نام نہیں؛ یہ ڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمانوں کے ایمان کا مرکز ہے۔
اور اگر دنیا کی سب سے بڑی مسلم اجتماعی طاقت اس مرکز کے گرد پیدا ہونے والے خطرات پر بھی صرف تماشائی بنی رہی، تو آنے والی تاریخ شاید اس خاموشی کو بہت سے سوالات کے ساتھ یاد کرے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Link copied!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *