امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اپنے اختتام کے قریب ہے اور امریکا کسی بھی صورت میں اپنا مشن مکمل کر کے پیچھے ہٹ جائے گا چاہے ایران مذاکرات کی میز پر آئے یا نہ آئے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کو اس حد تک نقصان پہنچایا جا چکا ہے کہ وہ 20 سال پیچھے جا چکا ہے اور اگر امریکا کو یقین ہوگیا کہ ایرانی ایٹمی خطرہ ختم ہوچکا ہے تو وہ بغیر کسی معاہدے کے بھی جنگ سے نکل جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران میں بڑی تبدیلیاں آچکی ہیں اور وہاں ایک کم شدت پسند گروپ سامنے آیا ہے جبکہ ان کے مطابق امریکا کا مقصد رجیم چینج نہیں بلکہ صرف ایٹمی خطرے کا خاتمہ تھا۔
انہوں نے عندیہ دیا کہ آئندہ 2 سے 3 ہفتوں میں جنگ مکمل طور پر ختم ہوسکتی ہے تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر ڈیل ہوتی ہے تو ٹھیک ورنہ امریکا کو اس کی ضرورت نہیں کیونکہ ایران کو ڈیل کی زیادہ ضرورت ہے ہمیں نہیں۔
اپنی گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے داخلی معاملات پر بھی سخت مؤقف اپناتے ہوئے ڈیموکریٹس پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ انہوں نے سرحدیں کھول کر امریکا کو جرائم پیشہ افراد کے لیے آسان بنا دیا تھا تاہم اب سخت قوانین کے ذریعے حالات کو کنٹرول کرلیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ واشنگٹن ڈی سی میں جرائم کی شرح 98 فیصد تک کم ہوچکی ہے اور شہر امریکا کا محفوظ ترین علاقہ بن چکا ہے۔
اسی دوران انہوں نے صدارتی حکم نامہ جاری کرتے ہوئے میل ان ووٹنگ کے نظام کو مزید سخت اور محفوظ بنانے کی ہدایت دی جبکہ وائٹ ہاؤس کی سیکیورٹی کو بھی غیرمعمولی سطح تک بڑھانے کا اعلان کیا جس میں بلٹ پروف شیشے، ڈرون پروف چھت اور بم شیلٹرز شامل ہیں۔
ایرانی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا تو وہ اب تک استعمال کرچکا ہوتا اس لیے امریکا نے بروقت کارروائی کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کو محفوظ بنایا جا رہا ہے اور دنیا کے ممالک وہاں سے باآسانی تیل حاصل کر سکتے ہیں۔