ثنا اللہ مجاہد
ایران نے اسلام آباد کی خلاف ورزی کرتے ہوئےآبنائے ہرمز میں مسلم ممالک قطر اورسعودی عرب کےآئل ٹینکرزپر اورکویت اوربحرین میں میزائل حملہ کرکے اسرائیل امریکہ کو اُکسایا جس جواب میں امریکہ نے میزائل فائیرکئیے۔
ایران کی بجائے اومان کی حدوداستعمال کرتے ہوئے آئل ٹینکرز پرحملہ کیاگیا،ایران کی شرائط پر امن معاہدہ کے بعد ایران خود کو علاقے کا بدمعاش سمجھتے ہوئے حکم جاری کیاہے کہ آبنائے ہرمزصرف ایرانی رستے پراورایرانی شرائط پرپارکی جائے ورنہ حملے ہوں گے اور حملے بھی صرف عرب اورمسلم ممالک کے جہازوں اوررستے پر۔ ایران 47سال مسلم ممالک پرحملے کرتارہا عراق کو شیعہ اسٹیٹ بنانے کے لیے ایران ے طویل عرصہ جنگ لڑی مگر ناکام ہوا پھر اسی ایران نے کوفیانہ کردار اداکرتے ہوئے عراق بارے غلط معلومات امریکہ تک پہنچائیں جس پر امریکہ نے ایک بڑی کاروائی کی صدام حسین کی حکومت الٹنے میں ایران امریکہ کا اتحادی تھا اور عراق میں موجود شیعہ کمیونٹی امریکہ کی سہولت کار۔امریکہ اوراسرائیل سے اس کی جنگ صرف اس لیے ہوگئی کہ وہ ایٹم بم جوایران مسلم ممالک کے خلاف بناناچاہتاہے،اسرائیل نے غلطی سے اسے اپنے لیے بھی خطرہ سمجھ لیااورامریکہ کوساتھ ملاکرایران پرچڑھ دوڑا۔۔۔۔
جن کے خلاف استعمال کے لیے ایٹمی ہتھیار ایران بنارہاہے انہیں مسلم ممالک نے ایران کو بچانے کی کوشش کی اور اس کے جواب میں ایران نے اب تک نوے فیصدحملے بھی انھی عرب ممالک پر کیئے اوراب امریکہ اوراسرائیل سےصلح کرلی مسلم ممالک کے رستے بندکرکے حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔۔۔۔۔
اسرائیل امریکہ بھارت کا مشترکہ مقصد ہے کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان کو اس جنگ میں گھسیٹا جائے جس کے لیے وہ بہت مکاری سے چالیں چل رہے ہیں عرب ممالک پاکستان سے دفاعی معاہدے کررہے ہیں۔ ایران اگر اُن پر حملے جاری رکھے گا تو پاکستان کو دفاع کرنا پڑے گا دفاع میں اگر پاکستان ایران کو جواب دے گا تو ایرن پاکستان پر اٹیک کرے گا پاکستان کے اندر موجود ایران نواز حلقے خانہ جنگی شروع کردیں گے فوج کو کمزور کرنے کے لیے۔
بھارت اور افغان پہلے ہی اپنے پنجے گاڑ چکے ہیں۔بلوچستان میں ایران سے پہلے ہی تخریب کاری جاری ہے۔ اگر پاکستان عرب ممالک کا دفاع نہیں کرے گا ایران کو جواب نہیں دے گاتو عرب ممالک پاکستان مخالف ہوجائیں گے ۔اس گھناؤنی سازش پر بھارت، امریکہ اسرائیل اور ان کے پاکستان میں موجود سہولت کار تیزی سے کام کررہے ہیں۔
ایران اپنی کوفیانہ خصلت سے کبھی با زنہیں آسکتا یہ شرارت بھی خود کرتاہے اور مظلوم بھی خود ہی بن جاتا ہے یہ اس کی فطرت ہے اور ازل سے ہے۔ یہ ھندوانہ کہاوت پر یہ پورا اترتاہے کہ بغل میں چھری منہ میں رام رام ۔اور نہ ہی اسرائیل امریکہ کو امن معاہدے پر عمل درآمد کرنے دے گا۔ ایران نے شرارت سے باز نہیں آنا اسرائیل نے امریکہ کو ٹک کے بیٹھنے نہیں دینا یہ (کُتی چیکا) چلتاہی رہنا ہے جوان کی ہمدردی میں آئے گا وہ پچھتائے گا۔ایران اسرائیل امریکہ کے ٹرائیکا کا مقصد ایک ہے۔ عرب مسلم ممالک کو تباہ کرنا یا تو وہ ابراہم اکارڈ کو تسلیم کرلیں یا پھر تباہی کے لیے تیار ہوجائیں جو انکار کرے گا اسے معاشی طور تباہ کردیاجائے گا معدنیات پر قبضہ ہوجائے گا۔ پاکستان نے اسلام آباد معاہدہ کرواکر دیکھ لیا کہ کتنی پاسداری کی گئی دونوں جانب سے اب پاکستان کو چاہیے کہ اپنے اورعرب ممالک کے دفاع اورپاکستان کی معیشت پرتوجہ دیں،ایران سے متصل بلوچستان اورافغانستان سے متصل بلوچستان اورپختونخواہ میں پاکستانی افواج،پولیس اورعوام طالبان اوربی ایل اے کے مسلسل نشانے پرہیں اورآئے روزدرجنوں جانیں جارہی ہیں ہماری مدد ہمیشہ عرب ممالک ہی کرتے آئے ہیں جب بھی ضرورت پڑی ایران نے ہرموقع پر ہمیں دغا دیا اب بھی جاری بیرونی دہشت گردی کے لیے ایران کی سرزمین استعمال ہوئی بلوچستان میں جتنی دہشت گردی ہورہی ہے اِ ن کُھرے ایران کو جاتے ہیں، اس کے باوجود انسانیت کے ناتے ہم نے عالمی جنگ سے دنیا کو بچانے کے لیے اپنا کردار اداکیا جس کے لیے ہمیں بڑی قیمت اداکرناپڑ رہی ہے۔پہلے ہی پاکستان کی معیشت،صنعت،تجارت اورزراعت سنبھل نہیں رہی،عرب اورترک دوستوں کوناراض کرکے کروڑوں پاکستانیوں کاروزگار،مدداورحمایت بھی ضائع کربیٹھیں گے۔ان ایرانی کوفیوں نے سرداران جنت کے ساتھ دغابازی کی یہ اور کس کے ساتھ وفاکریں گے۔یہ خود ہی قاتل اور خود ہی مدعی بن جاتے ہیں۔