آزاد کشمیر انتخابات میں حمایت کیلیے مسلم لیگ ن کا ایم کیو ایم سے رابطے کا فیصلہ معرکہ حق کے بارے میں عمران خان کی بہن کے بیان سے متعلق پی ٹی آئی چیئرمین کی وضاحت ایران کے خلاف جنگ میں دو ہفتوں کے دوران تقریباً 100 امریکی فوجی زخمی ہوئے، پینٹاگون کی تصدیق ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کے مقدمے کا عبوری چالان جمع، ملزمہ کے خلاف اہم انکشافات حوثیوں کی ناکہ بندی کے اعلان کے بعد سعودی فوجی اتحاد حرکت میں آ گیا، سخت وارننگ جاری جنگ میں مصروف ٹرمپ کو اچانک ٹیرف یاد آ گیا، کینیڈا پر 50 فیصد نئے محصول عائد فیفا ورلڈکپ: فائنل کے بعد ہنگامہ آرائی، ارجنٹینا کیخلاف باضابطہ تحقیقات شروع بنگلادیش کیخلاف ٹیسٹ سیریز کیلیے آسٹریلوی اسکواڈ کا اعلان، اہم کھلاڑیوں کی واپسی گلیشیئرز پگھلنے اور درجہ حرارت بڑھنے سے گلگت بلتستان میں سیلاب، رابطہ سڑکیں بہہ گئیں پی ٹی آئی کا نورین خان کے متنازع بیان اور علیمہ خان کی اسٹریٹ موومنٹ سے لاتعلقی کا اعلان آزاد کشمیر انتخابات میں حمایت کیلیے مسلم لیگ ن کا ایم کیو ایم سے رابطے کا فیصلہ معرکہ حق کے بارے میں عمران خان کی بہن کے بیان سے متعلق پی ٹی آئی چیئرمین کی وضاحت ایران کے خلاف جنگ میں دو ہفتوں کے دوران تقریباً 100 امریکی فوجی زخمی ہوئے، پینٹاگون کی تصدیق ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کے مقدمے کا عبوری چالان جمع، ملزمہ کے خلاف اہم انکشافات حوثیوں کی ناکہ بندی کے اعلان کے بعد سعودی فوجی اتحاد حرکت میں آ گیا، سخت وارننگ جاری جنگ میں مصروف ٹرمپ کو اچانک ٹیرف یاد آ گیا، کینیڈا پر 50 فیصد نئے محصول عائد فیفا ورلڈکپ: فائنل کے بعد ہنگامہ آرائی، ارجنٹینا کیخلاف باضابطہ تحقیقات شروع بنگلادیش کیخلاف ٹیسٹ سیریز کیلیے آسٹریلوی اسکواڈ کا اعلان، اہم کھلاڑیوں کی واپسی گلیشیئرز پگھلنے اور درجہ حرارت بڑھنے سے گلگت بلتستان میں سیلاب، رابطہ سڑکیں بہہ گئیں پی ٹی آئی کا نورین خان کے متنازع بیان اور علیمہ خان کی اسٹریٹ موومنٹ سے لاتعلقی کا اعلان
آزاد کشمیر انتخابات میں حمایت کیلیے مسلم لیگ ن کا ایم کیو ایم سے رابطے کا فیصلہ معرکہ حق کے بارے میں عمران خان کی بہن کے بیان سے متعلق پی ٹی آئی چیئرمین کی وضاحت ایران کے خلاف جنگ میں دو ہفتوں کے دوران تقریباً 100 امریکی فوجی زخمی ہوئے، پینٹاگون کی تصدیق ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کے مقدمے کا عبوری چالان جمع، ملزمہ کے خلاف اہم انکشافات حوثیوں کی ناکہ بندی کے اعلان کے بعد سعودی فوجی اتحاد حرکت میں آ گیا، سخت وارننگ جاری جنگ میں مصروف ٹرمپ کو اچانک ٹیرف یاد آ گیا، کینیڈا پر 50 فیصد نئے محصول عائد فیفا ورلڈکپ: فائنل کے بعد ہنگامہ آرائی، ارجنٹینا کیخلاف باضابطہ تحقیقات شروع بنگلادیش کیخلاف ٹیسٹ سیریز کیلیے آسٹریلوی اسکواڈ کا اعلان، اہم کھلاڑیوں کی واپسی گلیشیئرز پگھلنے اور درجہ حرارت بڑھنے سے گلگت بلتستان میں سیلاب، رابطہ سڑکیں بہہ گئیں پی ٹی آئی کا نورین خان کے متنازع بیان اور علیمہ خان کی اسٹریٹ موومنٹ سے لاتعلقی کا اعلان آزاد کشمیر انتخابات میں حمایت کیلیے مسلم لیگ ن کا ایم کیو ایم سے رابطے کا فیصلہ معرکہ حق کے بارے میں عمران خان کی بہن کے بیان سے متعلق پی ٹی آئی چیئرمین کی وضاحت ایران کے خلاف جنگ میں دو ہفتوں کے دوران تقریباً 100 امریکی فوجی زخمی ہوئے، پینٹاگون کی تصدیق ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کے مقدمے کا عبوری چالان جمع، ملزمہ کے خلاف اہم انکشافات حوثیوں کی ناکہ بندی کے اعلان کے بعد سعودی فوجی اتحاد حرکت میں آ گیا، سخت وارننگ جاری جنگ میں مصروف ٹرمپ کو اچانک ٹیرف یاد آ گیا، کینیڈا پر 50 فیصد نئے محصول عائد فیفا ورلڈکپ: فائنل کے بعد ہنگامہ آرائی، ارجنٹینا کیخلاف باضابطہ تحقیقات شروع بنگلادیش کیخلاف ٹیسٹ سیریز کیلیے آسٹریلوی اسکواڈ کا اعلان، اہم کھلاڑیوں کی واپسی گلیشیئرز پگھلنے اور درجہ حرارت بڑھنے سے گلگت بلتستان میں سیلاب، رابطہ سڑکیں بہہ گئیں پی ٹی آئی کا نورین خان کے متنازع بیان اور علیمہ خان کی اسٹریٹ موومنٹ سے لاتعلقی کا اعلان

بدخشاں طالبان کیلئے ڈرائونا خواب

Link copied!

تحریر:شجاع الدین امینی
ترجمہ : سیف اللہ خالد
سپاہیانِ میہن (وطن کے سپاہی) کے نام سے ایک نئے محاذ کا ظہور محض طالبان مخالف ایک اور مسلح گروہ کی تشکیل کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اس پیش رفت کی اصل اہمیت اس حقیقت میں مضمر ہے کہ طالبان کی توقعات کے برعکس وقت گزرنے کے ساتھ نہ صرف ان کے خلاف مسلح محاذوں کی تعداد میں کمی نہیں آئی بلکہ نئے محاذوں کی تشکیل کے واضح اور سنجیدہ آثار بھی سامنے آنے لگے ہیں۔اقتدار میں واپسی کے بعد طالبان نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ افغانستان میں جنگ ختم ہو چکی ہے اور ان کے تمام مسلح مخالفین یا تو ختم ہو گئے ہیں یا دوبارہ منظم ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ تاہم نئے محاذوں کا سامنے آنا اس بیانیے کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن گیا ہے۔اگرچہ یہ محاذ عسکری لحاظ سے ابھی چھوٹے ہوں اور کسی گاؤں پر قبضہ کرکے اسے برقرار رکھنے کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں، لیکن ان کا وجود خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ طالبان حکومت کے خلاف ناراضی اور مسلح مزاحمت کے اسباب نہ صرف ختم نہیں ہوئے بلکہ پہلے سے زیادہ سازگار ہوتے جا رہے ہیں۔یقیناً ایسے محاذ اچانک نہیں بن جاتے۔ ان کے قیام کے لیے کئی عوامل کا یکجا ہونا ضروری ہوتا ہے، جن میں انسانی نیٹ ورک، مالی وسائل، عسکری صلاحیت، بیرونی حمایت اور کم از کم اتنا جغرافیائی علاقہ شامل ہوتا ہے جہاں وہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔سپاہیانِ میہن کی اہمیت صرف اس کے نئے نام میں نہیں بلکہ اس انداز میں بھی ہے جس کے ذریعے اس نے اپنے وجود کا اعلان کیا، یعنی بدخشاں کے ضلع یفتلِ پایان کے ضلعی مرکز پر چند گھنٹوں کے لیے قبضہ کر کے۔اس محاذ نے اپنی سرگرمی کا آغاز ایک ایسے آپریشن سے کیا جو بیک وقت عسکری بھی تھا اور پروپیگنڈا مہم بھی۔ اگرچہ یہ کارروائی صرف چند گھنٹے جاری رہی اور بعد ازاں طالبان دوبارہ علاقے پر قابض ہو گئے، لیکن اس مختصر کارروائی نے اتنی زیادہ میڈیا توجہ حاصل کی اور سوشل میڈیا پر اس کا اتنا وسیع خیرمقدم ہوا کہ گویا طالبان حکومت ہی گر گئی ہو۔نئے مسلح گروہوں کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ ثابت کریں کہ وہ صرف کاغذی تنظیم نہیں بلکہ عملی کارروائی کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ کسی ضلعی مرکز پر، خصوصاً بدخشاں کے مرکزی علاقے کے قریب واقع ضلع پر، وقتی قبضہ دراصل یہی پیغام دینے کی کوشش تھی۔اسی لیے گزشتہ تقریباً پانچ برسوں میں سامنے آنے والے دیگر طالبان مخالف محاذوں کے مقابلے میں سپاہیانِ میہن کو الگ حیثیت سے دیکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ دوسرے بیشتر محاذ اب تک کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہیں کر سکے۔البتہ صرف چند گھنٹوں کی ایک کارروائی کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ سپاہیانِ میہن مستقبل قریب میں ایک فیصلہ کن عسکری قوت بن جائے گا۔ کسی علاقے پر مستقل کنٹرول قائم رکھنا اور اسے طاقت کے مستحکم مرکز میں تبدیل کرنا بڑی تعداد میں افرادی قوت، وافر مالی وسائل، عوامی حمایت اور مؤثر انتظامی صلاحیت کا تقاضا کرتا ہے۔اس کے باوجود اس ابتدائی کارروائی کی اہمیت کو بھی کم نہیں سمجھنا چاہیے۔ تاریخ میں بہت سی مسلح تحریکوں نے ابتدا محدود کارروائیوں سے کی اور بعد میں بہتر تنظیم اور زیادہ حمایت حاصل ہونے کے بعد اپنی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع کیا۔طالبان کے لیے بھی اصل مسئلہ صرف ایک ضلع پر دوبارہ قبضہ حاصل کرنا نہیں بلکہ یہ جاننا ہے کہ آیا یفتلِ پایان پر حملہ ایک وقتی واقعہ تھا یا کسی نئے سلسلے کا آغاز۔اگر طالبان مخالف نئے محاذ اسی طرح مسلسل بنتے رہے تو خواہ ان میں سے کوئی بھی فوری طور پر طالبان کے لیے بڑا عسکری خطرہ نہ بنے، وہ کم از کم طالبان کے اس بیانیے کو ضرور کمزور کر دیں گے کہ افغانستان میں جنگ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔
یفتلِ پایان پر چند گھنٹوں کے قبضے کی اہمیت کا اندازہ صرف عسکری پیمانوں سے نہیں لگایا جا سکتا۔ اگرچہ طالبان نے مختصر وقت میں حملہ آوروں کو پسپا کر کے دوبارہ علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا، لیکن اس واقعے کا اصل اثر اس کا سیاسی اور نفسیاتی پیغام ہے۔طالبان کے قیام کے بعد سے ان کے اہم ترین دعوؤں میں سے ایک یہ رہا ہے کہ انہوں نے پورے افغانستان میں مکمل امن قائم کر دیا ہے اور جنگ کا مکمل خاتمہ کر دیا ہے۔ طالبان ہمیشہ اپنے آپ کو ایسی حکومت کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں جو سابقہ حکومتوں کے برعکس پورے افغانستان پر مکمل کنٹرول رکھتی ہے اور کسی بھی مسلح مخالف قوت کو سرگرم ہونے کی اجازت نہیں دیتی۔ایسے میں اگر کوئی مخالف محاذ کسی ضلعی مرکز میں چند گھنٹوں کے لیے بھی داخل ہونے میں کامیاب ہو جائے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ طالبان کا زمینی کنٹرول اتنا مطلق اور ناقابل چیلنج نہیں جتنا وہ ظاہر کرتے ہیں۔یقیناً ایک محدود حملے کو طالبان کی مکمل سکیورٹی ناکامی یا علاقے پر ان کے کنٹرول کے خاتمے سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا، لیکن جو حکومت خود کو مطلق اختیار اور جنگ کے خاتمے کی علامت کے طور پر پیش کرتی ہو، اس کے لیے مخالفین کا چند گھنٹوں کے لیے بھی کسی انتظامی مرکز میں داخل ہو جانا ایک نمایاں نفسیاتی اور تشہیری نقصان کا باعث بنتا ہے۔اسی لیے حالیہ حملے کا مقصد علاقے پر مستقل قبضہ کرنا نہیں بلکہ اپنی قوت کا مظاہرہ کرنا تھا۔یہ تمام پیش رفتیں دو دیگر حالیہ واقعات سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہیں، جن میں طالبان کے وزیر دفاع کا حالیہ دورۂ بدخشاں اور جمعہ خان فتح کی نافرمانی کا معاملہ شامل ہے۔چند روز قبل طالبان کے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب مجاہد کا بدخشاں کے دور دراز علاقوں کا دورہ معمول کا سرکاری دورہ معلوم نہیں ہوتا تھا۔ طالبان کے فوجی دستوں کے درمیان ان کی موجودگی، چین، پاکستان اور تاجکستان سے متصل سرحدی علاقوں کا دورہ اور مختلف سماجی و مذہبی حلقوں سے ملاقاتیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ بدخشاں اس وقت طالبان قیادت کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔اس کی وجہ صوبے کی حساس جغرافیائی حیثیت، سرحدی محل وقوع، نسلی و مذہبی تنوع اور اس پہاڑی خطے میں مختلف سیاسی و عسکری تحریکوں کی تاریخی موجودگی ہے۔ملا یعقوب کی بدخشاں کی اسماعیلی برادری سے ملاقات کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ طالبان کی جانب سے ان سماجی اور مذہبی طبقات سے روابط بڑھانے کی کوشش، جو ماضی میں طالبان سے نسبتاً فاصلے پر رہے ہیں، اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ طالبان اب اقلیتی برادریوں کی حمایت حاصل کرنے یا کم از کم ان کے اندر موجود بے چینی کو کم کرنے کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں۔طالبان کو غالباً یہ احساس ہو چکا ہے کہ کسی حساس علاقے پر صرف فوجی موجودگی کے ذریعے دیرپا کنٹرول برقرار نہیں رکھا جا سکتا بلکہ اس کے لیے مقامی سماجی حلقوں کے ساتھ روابط بھی ناگزیر ہیں۔یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ طالبان کے وزیر دفاع کو یفتلِ پایان پر حملے کی پیشگی اطلاع تھی، تاہم ان کے دورے کا مقصد یقیناً طالبان جنگجوؤں کے حوصلے بلند کرنا، مقامی بے چینی کم کرنا، داخلی اختلافات کو ختم کرنا اور ممکنہ حملوں کی روک تھام کرنا تھا۔اس کے علاوہ اگرچہ یفتلِ پایان پر حملے کا جمعہ خان فتح کے معاملے سے کوئی براہ راست یا ثابت شدہ تعلق نہیں، تاہم اسے بدخشاں کی موجودہ سیاسی اور سکیورٹی صورتحال سے الگ کرکے بھی نہیں دیکھا جا سکتا۔جمعہ خان فتح، جو طالبان قیادت کے حالیہ فیصلوں سے اختلاف رکھتے دکھائی دیتے ہیں، کے لیے یہ حملہ کسی حد تک اطمینان کا باعث ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے طالبان قیادت کو یہ پیغام ملا ہے کہ بدخشاں پر مستقل کنٹرول برقرار رکھنا آسان کام نہیں بلکہ اس کے لیے علاقے کی جغرافیائی ساخت، مقامی سماجی ڈھانچے اور عوام کی زبان و ثقافت کی گہری سمجھ ضروری ہے۔یہی نکتہ جمعہ خان فتح نے اپنے معاملے میں بھی اٹھایا تھا، جب انہوں نے کہا تھا کہ وہ زابل کے ڈپٹی گورنر کے طور پر خدمات جاری رکھنے پر آمادہ نہیں کیونکہ وہ نہ زابل کے لوگوں کی زبان سے واقف ہیں اور نہ زابل کے لوگ ان کی زبان سے۔فتح کے نزدیک مقامی کمانڈر، چاہے وہ طالبان قیادت سے اختلاف ہی کیوں نہ رکھتے ہوں، پھر بھی مقامی سکیورٹی حقیقت کا حصہ ہوتے ہیں اور انہیں مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ان کے خیال میں مقامی کمانڈروں کو ہٹا کر باہر سے آنے والے افراد کو تعینات کرنے سے طالبان حکومت اور مقامی آبادی کے درمیان خلیج مزید وسیع ہو جاتی ہے۔
البتہ طالبان موجودہ صورتحال کو ایک مختلف زاویے سے بھی دیکھ سکتے ہیں، یعنی ان کے مخالفین کی جانب سے طالبان کے اندرونی اختلافات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش۔طالبان کے لیے حالیہ حملہ، جو داخلی اختلافات کے منظر عام پر آنے کے ساتھ ہی پیش آیا، ایک واضح انتباہ ہے کہ تنظیم کے اندر موجود اختلافات کو اس حد تک بڑھنے نہیں دینا چاہیے کہ وہ مخالفین کے لیے سرگرم ہونے کا موقع بن جائیں۔طالبان اس حقیقت سے بھی بخوبی آگاہ ہیں کہ جب کسی سیاسی نظام کے اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آنے لگتے ہیں تو اس کی کمزوری نمایاں ہو جاتی ہے اور مخالف قوتیں سمجھتی ہیں کہ ان کے لیے سرگرمیوں کے نئے مواقع پیدا ہو گئے ہیں۔اسی تناظر میں جمعہ خان فتح کا معاملہ طالبان کے لیے محض ایک ناراض مقامی کمانڈر کا مسئلہ نہیں بلکہ تنظیمی اتحاد اور اندرونی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کا بھی امتحان ہے۔طالبان اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ جمعہ خان فتح جیسے بااثر مقامی رہنماؤں سے نمٹتے وقت انہیں دو مقاصد کے درمیان توازن قائم رکھنا ہوگا۔ ایک طرف وہ ایسے طاقت کے مراکز وجود میں نہیں آنے دینا چاہتے جو مرکزی قیادت کے لیے چیلنج بن جائیں، جبکہ دوسری طرف وہ مقامی کمانڈروں کو اس حد تک بھی نظرانداز نہیں کر سکتے کہ اس سے بدخشاں جیسے حساس صوبے میں بغاوت اور مزاحمت کی نئی لہر جنم لے۔مختصراً، بدخشاں میں اس وقت جو صورتحال جنم لے رہی ہے، اسے فی الحال اس بات کا قطعی ثبوت نہیں کہا جا سکتا کہ یہ صوبہ طالبان کی ایڑی کی کمزوری بن چکا ہے، تاہم اس کے آثار واضح طور پر دکھائی دینے لگے ہیں۔اگر طالبان کے اندرونی اختلافات اسی طرح منظر عام پر آتے رہے اور برقرار رہے، اگر مقامی کمانڈروں کو یکے بعد دیگرے اقتدار کے مراکز سے ہٹایا جاتا رہا، اگر صوبے کی معدنیات اور قدرتی وسائل پر تنازعات شدت اختیار کرتے رہے، اگر بدخشاں میں ایسے منتظمین تعینات کیے جاتے رہے جو نہ مقامی زبان سے واقف ہوں اور نہ ہی علاقے کے سماجی ڈھانچے کو سمجھتے ہوں، اور اگر “سپاہیانِ میہن” جیسے نئے طالبان مخالف محاذوں کو مزید منظم ہونے اور سرگرم ہونے کے مواقع ملتے رہے، تو بدخشاں مستقبل میں طالبان حکومت کے لیے ایک بڑے سیاسی اور سکیورٹی بحران کا مرکز بن سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مقبول خبریں
Link copied!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *