ہفتہ‬‮   18   مئی‬‮   2024
 
 

بھارت کو عالمی مذہبی آزادی کے مجرم ممالک کی فہرست میں شامل نہ کرناامریکہ کی سیاسی چال ہے

       
مناظر: 332 | 14 Dec 2022  

 

واشنگٹن (نیوز ڈیسک )ایک اعلیٰ امریکی عہدیدارنے بھارت کو مذہبی اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کے خوفناک ریکارڈ کی وجہ سے بدترین مذہبی آزادی کے مجرم ملک کے طورپر نامزد کرنے میں ناکامی پر بائیڈن انتظامیہ پر تنقید کی ہے ۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے کمشنر ڈیوڈ کری نے کیپٹل ہل میں کانگریس کی بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ کا بھارت کو عالمی مذہبی آزادی کے مجرم ممالک کی فہرست میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ ایک سیاسی چال اورشرمناک اقدام ہے ۔ بریفنگ کا اہتمام انڈین امریکن مسلم کونسل نے کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن اور محکمہ خارجہ نے بھارت کو خصوصی تشویش کا حامل ملک قرار دینے سے انکار کر کے قانون کا احترام نہیں کیا جبکہ بھارت واضح طورپر اس فہرست میں شامل ہونے کی پوری اہلیت رکھتا ہے۔ڈیوڈ کری نے بھارت کو خصوصی تشویش کا حامل ملک قرار دینے میں امریکی محکمہ خارجہ کی ناکامی پر سخت مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہاکہ وہ اور امریکی کمیشن بھارت کو خصوصی تشویش کا حامل ملک قرار دینے کی ہماری سفارشات پر عمل نہ کرنے پر محکمہ خارجہ سے سخت مایوس ہیں ۔انہوں نے کہاکہ بھارت واضح طور پر بین الاقوامی مذہبی آزادی ایکٹ کے خصوصی تشویش کے حامل ممالک کے طے شدہ معیارات پر پورا اترتا ہے اور بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اسے نظر انداز کرنادراصل ایک سیاسی چال ہے جو کہ انتہائی شرمناک ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ 22 نومبر کوامریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے بھارت سے متعلق ایک کنٹری اپ ڈیٹ رپورٹ جاری کی تھی، جس میں مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھااورامریکی محکمہ خارجہ سے بھارت کو خصوصی تشویش کاحامل ملک قراردینے کی سفارش کی تئی تھی ۔ تاہم امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن اور محکمہ خارجہ نے خصوصی تشویش کے حامل ممالک کی فہرست جاری کی تاہم ہماری سفارشات کے باوجود بھارت کو اس میں شامل نہیں کیاگیا۔ ڈیوڈ کری نے “دوہرے معیار”پر بھی توجہ مرکوز کی جو محکمہ خارجہ کی جانب سے سعودی عرب اور پاکستان سمیت دیگر امریکی اتحادیوں کواس فہرست میں شامل کرنے پر رضامندی سے ظاہر ہوتا ہے جبکہ ہندوستان مسلسل اس فہرست میں شامل نہیں کیاجارہاہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی حکومت ان موضوعات پر بات کرنے والوں کو بدنام کرنے پر بہت زیادہ وقت اورپیسہ صرف کر رہی ہے۔ اور سیاسی طبقے میں خوف پایاجاتا ہے،۔امریکی کمیشن کے کمشنر نے کہاکہ بڑھتی ہوئی ہندو انتہا پسندی پر بات کرنا “ہندوستانی ثقافت کی توہین نہیں ہے اور”ہم بھارت کے لوگوں کی اقدار اور ثقافتی اہمیت کو سمجھتے ہیں، لیکن یہ نکتہ اس سے الگ نہیں ہے۔ اس کا ازالہ کرنا ہوگا۔ ہمیں ہندوستانی حکومت کی طر ف سے مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے کی حوصلہ افزائی بند کرناہوگی ۔ڈیوڈ کری نے بریفنگ کے انعقاد پرانڈین امریکن مسلم کونسل کا شکریہ ادا کیا اور اسکی رپورٹ “نسل کشی کنونشن اینڈ دی پرسیوشن آف انڈیا ان انڈیا” کو ایک “انتہائی اہم” دستاویز قرار دیا۔