مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک نئے خطرناک موڑ میں داخل ہو گئی ہے، جہاں اسرائیل ایران کے توانائی مراکز پر بڑے حملوں کی تیاری مکمل کر چکا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک سینئر اسرائیلی دفاعی عہدیدار کے مطابق حملے کا حتمی فیصلہ اب امریکا کے گرین سگنل سے مشروط ہے۔
عہدیدار نے انکشاف کیا کہ اگر امریکہ کی جانب سے منظوری مل گئی تو آئندہ ایک ہفتے کے اندر اندر ایران کے اہم توانائی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے جس کے خطے پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو 48 گھنٹوں کا سخت الٹی میٹم دے رکھا ہے جس کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اگر اسرائیل نے ایران کے تیل اور گیس کے مراکز پر حملہ کیا تو نہ صرف جنگ کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ خطے میں پہلے ہی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی برادری تشویش میں مبتلا ہے۔