چوٹ براہ راست سر میں لگی ہے اور شائد بہت شدید بھی ، حالانکہ’’ لڑکوں ‘‘کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ہاتھ’’ ہولا‘‘ رکھا تھا ، دانستہ زیادہ نہیں مارا ،’’ ہولے‘‘ ہاتھ کا نتیجہ یہ ہے کہ تو کراری چوٹ کا کیا ہوگا ؟ بھارتی آرمی چیف پورا ایک سال آپریشن بنیان مرصوص کے کامل ایک سال بعد قومے سے اٹھےہیں اور اٹھتے ہی’’ اواتوا‘‘بولنے لگے ہیں ۔ ایسا ہوتا ہے ، شدید چوٹ سے دماغ پلٹ جاتا ہے اور انسان ایسی ہی باتیں کرتا ہے ، جیسی بھارتی آرمی چیف کر رہا ہے ، کہتا ہے’’ پاکستان فیصلہ کرلے کہ جغرافیہ پر رہنا ہے یا تاریخ میں ‘‘۔جنرل احمد شریف نے درست تشخیص کی ہے کہ ’’ذہنی دیوالیہ پن ہے ‘‘ جنرل احمد شریف کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ڈاکٹر بشیر صاحب کے لخت جگر ہیں ، ادب اور زبان کے معیار سے نیچے نہیں اترسکتے ، ورنہ سیدھا کہہ دیتے کہ ’’پاگل ای اوئے ‘‘۔
جنرل اوپیندر دویدی روانی میں پڑھیں تو دیدی بھی پڑھا جا سکتا ہے ، ڈی جی آئی ایس پی آر نے پچھلے دنوں کہا تھا کہ ’’بھارتیو آپریشن کا نام مردانہ رکھ لو‘‘ وہ شائد بھول گئے کہ جب جنرل کا نام ہی زنانہ ہو ، اور کام بھی زنانہ تو آپریشن کا نام مردانہ کیسے رکھ سکتے تھے ۔ تفنن بر طرف ، جنرل دیدی ، اوہ سوری دویدی کے سر میں چوٹ نہ لگی ہوتی تو وہ اس طرح کا بیان کبھی نہ دیتے ، انہیں معلوم ہوتا کہ پاکستان جغرافیہ کا حصہ تو اسی دن بن گیا تھا ، جب ہندوستان کی سرزمین پر پہلے شخص نے کلمہ پڑھا تھا ، یہ اس وقت تک جغرافیہ کا حصہ رہے گا ، جب تک آخری انسان اس دھرتی پر سانس لیتا رہے گا ۔ رہ گئی تاریخ تو وہاں سب سے پہلے 14اگست 1947کو پاکستان کا نام اس وقت جگمگایا تھا جب اس نے ہندوستان کا جغرافیہ اور تاریخ دونوں بدل ڈالے تھے ۔۔۔اور پھر مئی 2025 میں بھارت کو عبرت ناک شکست دے کر پاکستان نے اپنا نام تاریخ کے ان فاتحین میں لکھوالیا ہے ، جنہوں نے خلاق عالم کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ، کفرستانوں میں لرزہ طاری کیا اور بت کدوں کو ویران کرکے اللہ کا نام بلند کیا ۔ پاکستان جغرافیہ اور تاریخ کا انمٹ نقش اور جزو لاینفک ہے ، ہاں یہی پاکستان ہے ، جو پہلے بھی بھارت کا جغرافیہ اور تاریخ دونوں بگاڑ چکا ہے۔ چتاونی البتہ یہ ہے کہ سنگھ پریوار باز نہ آیا تو آئندہ بھی بہت جلد یہ کام ہوسکتا ہے اور اس بار اگلے پچھلے سارے حساب برابر ہوں گے ۔ پاکستان تو رہے گا ،لیکن بھارت نام کا کوئی ملک نہ پہلے کبھی جغرافیہ کا حصہ تھا ، نہ آئندہ ہوگا، وہی مغلوں سے قبل کے ہزاروں راجواڑے ہوں گے ، ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ،لوٹ مار کرتے ۔
جنرل دیدی سوری دیودی کے ہوش ٹھکانے آجائیں تو ذرا خالصتان ، منی پور،چھتیس گڑھ آسام،ناگا لینڈ،میگھالیہ،تری پورہ میں عوام کی ترنگے سے ابلتی ہوئی نفرت ، بھڑکتے ہوئے علیحدگی کے جذبات کو ذرا دیکھ سمجھ لیں ، جہاں لوگ اشارے کے منتظر ہیں ، پاکستان کو صرف اشارہ کرنے کی دیر ہے اور ’’بھارت ہے ‘‘سے ’’بھارت تھا‘‘ ، بن جائے گا ۔ کشمیر کا ذکر اس فہرست میں اس لئے شامل نہیں کہ وہ کبھی بھارت کا حصہ تھا ، نہ ہے ، نہ ہوگا کشمیر ی پون صدی سے کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ لگا رہے ہیں اور اب وہ وقت دور نہیں جب صبح آزادی کا سویرا کشمیریوں کی زندگیوں کو منور کردیگا ۔ ادھر حیدر آباد کی جانب سے اک نظر دوڑالیں جہاں ایک اور پاکستان اپنے قیام کی جانب بڑھ رہا ہے ۔
اگر کوئی سمجھتا ہے کہ ہمیں جنرل دیدی کی اس ہفوات کی وجوہات کا عمل نہیں تو وہ احمقوں کی جنت میں بستا ہے ، جس پاکستان کے بارے میں خود بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف یہ مان رہا تھا کہ ’’پاکستان ہمارے جہازوں کو اور ہماری افواج کو ایسے دیکھ رہا تھا جیسے ٹی وی پر دیکھا جاتا ہے ، وہ پاکستان اچھے سے جانتا ہے کہ جنرل دیدی کی زبان کیوں کھلی ہے اور وہ کیا شئے ہے ، جس نے دیدی کو بولنے پر مجبور کردیا ہے ۔پاکستان صرف میدان جنگ میں دشمن کے جہازوںا ور ٹینکوں کی نقل وحرکت پر ہی نظر نہیں رکھتا بلکہ وہ دشمن کے دل ودماغ میں بھی جھانکنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ کون کیوں بولا ؟ کس کےا شارے پر بولا ؟ یہ ہم سے مخفی پہلے تھا ،نہ اب ہے ۔
اصل قصہ یہ ہے کہ بھارتی حکومت کو اپنی گرتی ہوئی عالمی ساکھ اور اندرونی خلفشار کو روکنے کی خاطر وقت چاہئے ، اس کے لئے آر ایس ایس کے سیکریٹری جنرل دتاتریہ ہوسابلے اور سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نراوکی زبان سے امن اور مذاکرات کی ضرورت کا راگ الاپا گیا ، تاکہ امریکہ یا کسی اور درمیان میں ڈال کر پاکستان سے بات چیت کے لئے منت ترلہ کیا جا سکےا ور پھر بات چیت کو ہمیشہ کے کی طرح وقت حاصل کرنے کی خاطرا ستعمال کیا جا سکے ، لیکن اس کا اثر الٹا ہو کہ بھارت کےا ندر سرنڈر کے نعرے لگ گئے ، لوگوں نے اسے مودی کے سرنڈر اور ایک سال قبل کی جنگ میں شکست کےاعتراف کے طور پر لیا ، اب مودی کے حکم پر جنرل دیدی اس لئے زبان سے توپ چلا رہا ہے تاکہ اگربھارت کی درخواست پر مذاکرات کی میز سجائی بھی جائے تو بھارتیوں کو دھوکہ دیا جا سکے کہ ’’پاکستان دیدی کے بیان سے ڈر کر مذاکرات کر رہا ہے ۔ ‘‘
ہم سے بہتر کون جانتا ہے کہ یہ بھارت کی روائتی ڈبل ٹریک یعنی منافقانہ پالیسی ہے ، جو اب نہیں چل سکتی ۔ یہ بھی خوب جانتے ہیں کہ اس قسم کے بیانات کا واحدمقصد اندرونی سیاست اور پبلک پریشر کو روکنا ہوتا ہے ورنہ سخت گیر قوم پرست ہندوتوا کے بند مودی کے ہی گلے پڑجائیں گے اور اسے پاکستان سے دبنے کے معنوں میں لے کر ایسی اچھل کود شروع کردیں گے کہ سنبھالنا مشکل ہوجائے گا ۔دیدی کی اس لسانی جمناسٹک کا دو ٹوک مطلب یہ ہے کہ دلی اب گھٹنے ٹیکنے جا رہا ہے ، پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی بھیک مانگنے میں اپنی بقا کا راستہ دیکھ رہا ہے ، لیکن اب کے بار یہ اتنا آسان نہیں ہوگا ۔ پاکستان مودی کی دیدی کے رقص سے مائل بہ کرم نہیں ہوگا ، مودی اور دیدی کو اگر بات چیت کرنی ہے تو اس سے پہلے کچھ کرکے دکھانا ہوگا ، دہشت گردی روکنا ہوگی ، تسلیم کرنا ہوگی ، یعنی اقبال جرم اور پھر معافی کی درخواست ، کشمیر پر 5اگست 2019 کے اقدامات واپس لینا ہوں گے ۔ اب کچھ کئے بغیر بات چیت ناں دیدی ناں ۔