وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ محسن نقوی سسٹم کی تبدیلی کا آغاز نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے کریں۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے سسٹم کی کسمپرسی کے بارے وزیر داخلہ کے بیان کے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات اگر آئینی و قانونی فورم پارلیمنٹ میں دیئے جائیں تو اچھے نتائج آسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ محسن نقوی خود ایک پاور ہاوٴس ہیں، سسٹم کی تبدیلی کا آغاز نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد وزارت اور وزارت داخلہ سے کریں۔
انہوں نے کہا کہ ایسا کرنے سے یہ ادارے اور سسٹم مضبوط ہوگا اور تبدیلی آئینی عمل سے گزرے گی، محترم کابینہ کے نہایت اور معتبر رکن ہیں، اتفاق ہے نقوی صاحب کی ان دونوں اداروں یعنی پارلیمنٹ اور کابینہ کے اجلاس میں کبھی کبھار حاضر ہوتے ہیں، ان اداروں کو غیر متعلقہ کرکے ملک کے مایہ ناز اور قابل احترام تاجروں کو مدعو کر کے اتنی بڑی بات میری دانست میں وہ اثر نہیں رکھتی جتنا آئینی فورمز بات کرنے سے پزیرائی ملتی۔
وزیر دفاع نے لکھا کہ نقوی صاحب اس نظام کے انتہائی طاقتور عہدوں پہ ساڑھے تین سال سے فائز ہیں، اگر وہ چاہتے تو نظام کی تبدیلی کی بات یا پیش رفت اس عرصے میں کرسکتے تھے، چلیں دیر آید درست آید۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے 13 نکات یا پوائنٹ کا ذکر کیا، ایک پوائنٹ پہ عمل درآمد جو ہماری افواج کے ذمہ تھا اس پہ عملدرآمد اور تکمیل جانوں کی قربانیوں سے ہورہا ہے۔
خواجہ آصف نے لکھا کہ 12 پوائنٹ وزارت داخلہ کی ذمہ داری ہے جن پہ عملدرآمد نہیں ہوا، نقوی صاحب سسٹمْ کی تبدیلی کا آغاز نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے کریں، سسٹم میں تبدیلی کا آغاز اپنی وزارت سے کریں، صرف ہماری قابل احترام تاجر برادری ہی نہیں پوری قوم آپ کے ساتھ ہے۔