تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی جانب سے اپنے مقامی رہنماؤں کے مفاد کے لئے نجی تعلیمی اداروں کے لئے پہلے سے بنے سخت قانون میں مجرمانہ ترمیم کا انکشاف ہوا ہے۔
صوبائی حکومت کے ایکٹ کے مطابق 9 جون 2017 کو جاری ہونے والے خیبرپختونخوا پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی قانون کی شق 22 (4) کے مطابق کسی بھی پرائیویٹ اسکول کو کوتاہی برتنے پر بند یا سیل کیا جا سکتا تھا۔
9 جون 2017 کو جاری ہونے والے خیبرپختونخوا پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی قانون کی شق 22 کے مطابق کسی بھی پرائیویٹ اسکول کو صوبے میں کام جاری رکھنے کے لیے اس اتھارٹی کے ساتھ رجسٹر ہونا لازمی تھا۔
صوبائی حکومت ایکٹ میں کہا گیا کہ پرائیویٹ اسکول کے اتھارٹی کے ساتھ رجسٹر نا ہونے کی صورت میں شق 22 کے مطابق اتھارٹی کو ان پرائیوٹ اسکولوں کو سیل یا بند کرنے کا اختیار تھا، 23 جون 2017 کو صوبائی حکومت نے اس نوٹیفکیشن میں مجرمانہ تبدیلی کرکے اس نوٹیفکیشن میں سے پرائیویٹ اسکولوں کو سیل یا بند کرنے کی شق 22 (4) کو اڑا دیا اور صرف جرمانہ سے تبدیل کر دیا۔
ذرائع نے کہا کہ خیبرپختونخوا پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی قانون میں ترمیم کرکے اسد قیصر، مشتاق غنی سمیت دیگر رنماؤں کے نجی تعلیمی اداروں کو تحفظ دیا گیا، اِسی مقصد کے لئے خیبرپختونخوا پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ کی شق 22 ذیلی شق 4 میں ترمیم کی گئی۔
ذرائع نے کہا کہ 2017 میں یہ ترمیم اس وقت کے تحریک انصاف کے اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی اسد قیصر اور دیگر کی خواہش پر شامل کی گئی کیونکہ وہ خود نجی اسکولوں کے کاروبار سے منسلک تھے۔