پاکستان سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کیلیے شانہ بشانہ کھڑا ہے، وزیراعظم حوثی ۔ابرہہ کے بدمست ہاتھی اور ابابیل ٹرمپ نے ایران میں امریکی فوج اتارنے اور جوہری حملے کا امکان مسترد کر دیا ہم جنگ پسند نہیں، لیکن ہر جارحیت کا فیصلہ کن جواب دیں گے، ایران کا دوٹوک اعلان امریکی اسکول میں 16 سالہ لڑکے کی فائرنگ، 3 معصوم بچے اور استاد ہلاک انگلینڈ کرکٹ ٹیم ون ڈے ٹرائی سیریز میں شرکت کیلئے پاکستان پہنچ گئی محمد یوسف کا نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور کا دورہ، جدید سہولیات اور ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ پشاور اسکول سانحہ: 30 بچوں اور خاتون ٹیچر کی ہلاکت کا مقدمہ درج پی ٹی آئی حکومت کا رہنماؤں کے مفاد کے لیے اسکولز سے متعلق قانون میں ترمیم کا تہلکہ خیز انکشاف وزیراعلیٰ سندھ کی میئر شنگھائی سے ملاقات، کراچی کو سسٹر سٹی بنانے کی تجویز پاکستان سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کیلیے شانہ بشانہ کھڑا ہے، وزیراعظم حوثی ۔ابرہہ کے بدمست ہاتھی اور ابابیل ٹرمپ نے ایران میں امریکی فوج اتارنے اور جوہری حملے کا امکان مسترد کر دیا ہم جنگ پسند نہیں، لیکن ہر جارحیت کا فیصلہ کن جواب دیں گے، ایران کا دوٹوک اعلان امریکی اسکول میں 16 سالہ لڑکے کی فائرنگ، 3 معصوم بچے اور استاد ہلاک انگلینڈ کرکٹ ٹیم ون ڈے ٹرائی سیریز میں شرکت کیلئے پاکستان پہنچ گئی محمد یوسف کا نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور کا دورہ، جدید سہولیات اور ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ پشاور اسکول سانحہ: 30 بچوں اور خاتون ٹیچر کی ہلاکت کا مقدمہ درج پی ٹی آئی حکومت کا رہنماؤں کے مفاد کے لیے اسکولز سے متعلق قانون میں ترمیم کا تہلکہ خیز انکشاف وزیراعلیٰ سندھ کی میئر شنگھائی سے ملاقات، کراچی کو سسٹر سٹی بنانے کی تجویز
پاکستان سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کیلیے شانہ بشانہ کھڑا ہے، وزیراعظم حوثی ۔ابرہہ کے بدمست ہاتھی اور ابابیل ٹرمپ نے ایران میں امریکی فوج اتارنے اور جوہری حملے کا امکان مسترد کر دیا ہم جنگ پسند نہیں، لیکن ہر جارحیت کا فیصلہ کن جواب دیں گے، ایران کا دوٹوک اعلان امریکی اسکول میں 16 سالہ لڑکے کی فائرنگ، 3 معصوم بچے اور استاد ہلاک انگلینڈ کرکٹ ٹیم ون ڈے ٹرائی سیریز میں شرکت کیلئے پاکستان پہنچ گئی محمد یوسف کا نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور کا دورہ، جدید سہولیات اور ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ پشاور اسکول سانحہ: 30 بچوں اور خاتون ٹیچر کی ہلاکت کا مقدمہ درج پی ٹی آئی حکومت کا رہنماؤں کے مفاد کے لیے اسکولز سے متعلق قانون میں ترمیم کا تہلکہ خیز انکشاف وزیراعلیٰ سندھ کی میئر شنگھائی سے ملاقات، کراچی کو سسٹر سٹی بنانے کی تجویز پاکستان سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کیلیے شانہ بشانہ کھڑا ہے، وزیراعظم حوثی ۔ابرہہ کے بدمست ہاتھی اور ابابیل ٹرمپ نے ایران میں امریکی فوج اتارنے اور جوہری حملے کا امکان مسترد کر دیا ہم جنگ پسند نہیں، لیکن ہر جارحیت کا فیصلہ کن جواب دیں گے، ایران کا دوٹوک اعلان امریکی اسکول میں 16 سالہ لڑکے کی فائرنگ، 3 معصوم بچے اور استاد ہلاک انگلینڈ کرکٹ ٹیم ون ڈے ٹرائی سیریز میں شرکت کیلئے پاکستان پہنچ گئی محمد یوسف کا نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور کا دورہ، جدید سہولیات اور ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ پشاور اسکول سانحہ: 30 بچوں اور خاتون ٹیچر کی ہلاکت کا مقدمہ درج پی ٹی آئی حکومت کا رہنماؤں کے مفاد کے لیے اسکولز سے متعلق قانون میں ترمیم کا تہلکہ خیز انکشاف وزیراعلیٰ سندھ کی میئر شنگھائی سے ملاقات، کراچی کو سسٹر سٹی بنانے کی تجویز

حوثی ۔ابرہہ کے بدمست ہاتھی اور ابابیل

Link copied!

یمن کا تاریخی اور بلقیس و سبا کی عظمت کا حامل ملک آج جس بھیانک موڑ پر کھڑا ہے، اس کی بنیادی ذمہ داری اس مسلح حوثی گروہ پر عائد ہوتی ہے جس نے اقتدار پر ناجائز قبضے اور بیرونی اشاروں پر ناچ کر پورے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ تاریخی حوالوں اور موجودہ سیاسی صورتِ حال کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو حوثی تحریک اپنے متشدد رویوں اور غیر ذمہ دارانہ اقدامات کی وجہ سے خطے کی تباہی کا سبب بن رہی ہے۔
2014 میں صنعا پر قبضہ کر کے حوثی ملیشیا نے جس تفرقہ انگیز اور پرتشدد سیاست کا آغاز کیا، اس نے یمن کے آئینی و جمہوری ڈھانچے کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ یمن کے معصوم اور غیر جانبدار شہریوں کو یرغمال بنا کر ایک پورے ملک کو قرونِ وسطیٰ کے دور میں دھکیل دیا گیا۔ بین الاقوامی برادری کی جانب سے انسانی امداد کی ترسیل میں رکاوٹیں ڈالنا، سیاسی مخالفین کو تشدد کا نشانہ بنانا اور یمنی بچوں کو زبردستی جنگ کا ایندھن بنانا حوثی ملیشیا کے وہ سیاہ کارنامے ہیں جن پر عالمی اداروں نے بارہا تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یمن کی وزیرِ خارجہ افراح الزوبہ نے ایک بریفنگ میں خبردار کیا ہے کہ اگر دنیا نے حوثیوں کو وقت دیا تو وہ ’ناقابلِ شکست‘ ہو جائیں گے اور ان کی حکومت نہ تو اس ایران نواز ملیشیا کے ساتھ کسی جنگ بندی کی خواہش مند ہے اور نہ ہی مذاکرات کی۔
’اگر حوثیوں کو مزید وقت دیا گیا تو وہ شیطان بن جائیں گے۔حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کو ’دہشت گردی کی دوہری کارروائیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ملیشیا کو اب صرف یمن کے اندرونی تنازع کا ایک فریق نہیں سمجھا جا سکتایہ علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے ایک خطرہ بن چکے ہیں۔تہران کی جانب سے بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے آبنائے ہرمز کو عملی طور پر بند کرنے اور سعودی عرب کی جانب سے تیل کی برآمدات کو اپنی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی طرف موڑنے کے بعد ’باب المندب کو بلاک کرناجو جہاز رانی کے لیے ایک اور اہم راستہ ہے اس سب کے پیچھے ایرانی ذہنیت ہے جو حوثیوں کو کبھی اسرائیل اور اب سعودیہ کے خلاف استعمال کررہی ہے۔ ایران نواز تمام گروہ کرائے کے غنڈہ ہیں جو ایرانی مفاد اور طاقت کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک کسی کے بھی خلاف جاسکتے ہیں۔ایران حوثیوں کو ہتھیار، فنڈنگ، تربیت اور مدداور افرادی قوت فراہم کرتا ہے یہ بات کو محض ایک سیاسی اندازہ نہیں بلکہ ’دستاویزی ثبوتوں سے یہ سب ثابت ہے۔
2013 میں ایرانی ہتھیاروں سے لادے گئے مال بردار جہاز ’جہان 1‘ کی ضبطی اور 2025 میں حوثیوں کے لیے لے جائے جانے والے قریباً 750 ٹن سامان اور ہتھیاروں کی پکڑ دھکڑ ان دونوں واقعات کی تحقیقات اقوامِ متحدہ کے ماہرین کے پینل نے کی تھی۔
حوثی ایرانی مہارت کے فائدہ اٹھانے والے سے بڑھ کر اب اس کے برآمد کنندہ بن چکے ہیں۔پینل کے مطابق حوثی ملٹری انجینیئرز نے الشباب کے جنگجوؤں کو دھماکہ خیز مواد کے استعمال، ڈرون میں تبدیلیوں اور ہتھیاروں کی دیکھ بھال کی تربیت دینے کے لیے صومالیہ کا سفر کیا تھا۔یہ ’ایڈ سی ایکسس‘ نیٹ پھیلتا ہوا اب ہارن آف افریقہ تک پہنچ چکا ہے۔بین الاقوامی جہاز رانی پر حوثیوں کے حملے شروع ہونے سے پہلے بحیرہ احمر عالمی تجارت کا قریباً 12 سے 15 فیصد حصہ نقل و حمل کے لیے استعمال کرتا تھا۔ہرمز پر بھی دباؤ کے ساتھ، باب المندب کی سلامتی اب پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔‘
بقول یمن کی وزیرِ خارجہ صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی کے حکم پر 4 اکتوبر کو شروع کیا گیا ’آپریشن ڈان آف یمن‘ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت کیا جا رہا ہے’فیصلہ یمنی ہے، کمانڈ یمنی ہے، سپاہی یمنی ہیں‘ اور یمن میں قانونی حیثیت کی بحالی کے لیے اتحادی شراکت دار فضائی معاونت فراہم کر رہے تھے یمن کی حکومتی فورسز نے آبنائے باب المندب کے سامنے واقع اہم ساحلی مقامات کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے اور تعز، مأرب، حدیدہ اور مغربی ساحل کے ساتھ لڑائی جاری ہے۔
یمن چاہتا ہے کہ تنازع کا کوئی بھی حل طے شدہ شرائط اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد 2216 کے مطابق حوثیوں کو ہتھیار ڈلوانے پر مشتمل ہونا چاہیے،حوثی ایک دہشت گرد ملیشیا ہیں جس نے طاقت کے بل بوتے پر ریاستی اداروں اور علاقوں پر قبضہ کیا اور یمنی عوام کو یرغمال بنا رکھا ہے اور اپنے سرپرستوں کی شہ پر یمن کے ہمسائیہ ممالک پرحملوں میں ملوث ہے اس بدبخت گروہ نے کوفیوں کی ایماء پر ابرہہ نسل ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے بیت اللہ پر بھی حملہ کی کوشش کی اور مسلسل سعودیہ پر حملہ آور ہیں سعودی اتحادی ابھی مصلحت کا شکار ہیں کوئی ایسی بڑی کاروائی کرنے سے گریزاں ہیں جس سے اسلام دشمن طاقتوں کو سعودیہ پربڑے حملہ کا موقع ملے۔
حوثی قیادت کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ یمن کی ریاست بننا چاہتی ہے یا ایران کی علاقائی حکمتِ عملی کا مسلح مہرہ بن کر اپنے ہی عوام کو جنگ، بھوک اور تباہی کے حوالے کرتی رہے گی۔ باب المندب کو یرغمال بنانا، سعودی عرب پر حملے کرنا اور یمنی شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنا مزاحمت نہیں، بلکہ ایک پورے خطے کے امن کو داؤ پر لگانے کی حکمتِ عملی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Link copied!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *