کشمیر — ایک کشمیری خاندان نے ریلی کے سلسلے میں ایف آئی آر درج ہونے کے بعد مسلسل ہراسانی اور دھمکیوں کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں، جس سے سیاسی کارکنوں اور ان کے اہلِ خانہ پر دباؤ سے متعلق تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
متعدد نیوز چینلز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ناصر لیاقت نے بتایا کہ ان کے خاندان کو پولیس اہلکاروں اور سادہ لباس میں ملبوس نامعلوم افراد کی جانب سے بار بار ہراساں کیا جا رہا ہے، جو مسلسل ان سے ان کے بھائی کو حوالے کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
ناصر کے مطابق ان کے بھائی انصار لیاقت ایک مقامی کشمیری تنظیم (جے کے این ایس ایف) کے ڈپٹی آرگنائزر ہیں۔ اہلِ خانہ کے بیان کے مطابق، انصار ڈیٹوٹی سے نکلنے والی ایک پُرامن ریلی کی قیادت کر رہے تھے، جسے پولیس نے راستے میں روک دیا۔ واقعے کے دوران بعض شرکاء کی جانب سے مبینہ طور پر پولیس پر پتھراؤ کیا گیا، جس کے بعد مقدمہ درج کر لیا گیا۔ چونکہ انصار ریلی کی قیادت کر رہے تھے، اس لیے ان کا نام بھی ایف آئی آر میں شامل کر دیا گیا، جس کے باعث انہوں نے اپنی حفاظت کے پیشِ نظر علاقہ چھوڑ دیا۔
ناصر لیاقت نے انٹرویو میں بتایا،
“ہمیں دن رات ہراساں کیا جا رہا ہے… کبھی دن کے وقت پولیس آتی ہے اور رات کو نامعلوم افراد ہمیں دھمکاتے ہیں۔ ہم صرف اپنے بھائی کے لیے تحفظ چاہتے ہیں۔”
خاندان کا کہنا ہے کہ مسلسل دباؤ نے ان کے سکون اور سلامتی کو شدید متاثر کیا ہے، اور انہوں نے حکام سے اپیل کی ہے کہ قانونی کارروائی مکمل ہونے تک انصار لیاقت کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔
تاہم، پولیس حکام کی جانب سے تاحال ان الزامات پر کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا ہے۔
