بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیلی کارروائی، غزہ جانے والے امدادی بحری بیڑے کی کشتیوں پر قبضہ اے آئی بوٹس کے ذریعے سائبر حملوں میں اضافے کا انکشاف! کم عمر افراد میں بڑھتے کینسر کی ممکنہ وجہ کی نشاندہی پانچ غباروں کو طویل مدت تک ہوا میں اچھالنے کا انوکھا ریکارڈ سیال کینیڈا 2026ء؛ فوڈ نمائش میں پاکستانی مصنوعات نے بھرپور توجہ حاصل کرلی پاکستانی سفیر کی امریکی کانگریس کے چیئرمین امور خارجہ کمیٹی سے ملاقات، عالمی صورتحال پر گفتگو مشرق وسطیٰ میں 10 ماہ سے تعینات امریکی طیارہ بردار بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ امریکی ناکہ بندی کا مقصد ایران کو اندر سے توڑنا ہے، باقر قالیباف روس نے یوم فتح کے موقع پر یوکرین کو جنگ بندی کی پیشکش کر دی توانائی بحران بڑھنے کا خدشہ، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیلی کارروائی، غزہ جانے والے امدادی بحری بیڑے کی کشتیوں پر قبضہ اے آئی بوٹس کے ذریعے سائبر حملوں میں اضافے کا انکشاف! کم عمر افراد میں بڑھتے کینسر کی ممکنہ وجہ کی نشاندہی پانچ غباروں کو طویل مدت تک ہوا میں اچھالنے کا انوکھا ریکارڈ سیال کینیڈا 2026ء؛ فوڈ نمائش میں پاکستانی مصنوعات نے بھرپور توجہ حاصل کرلی پاکستانی سفیر کی امریکی کانگریس کے چیئرمین امور خارجہ کمیٹی سے ملاقات، عالمی صورتحال پر گفتگو مشرق وسطیٰ میں 10 ماہ سے تعینات امریکی طیارہ بردار بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ امریکی ناکہ بندی کا مقصد ایران کو اندر سے توڑنا ہے، باقر قالیباف روس نے یوم فتح کے موقع پر یوکرین کو جنگ بندی کی پیشکش کر دی توانائی بحران بڑھنے کا خدشہ، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ
بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیلی کارروائی، غزہ جانے والے امدادی بحری بیڑے کی کشتیوں پر قبضہ اے آئی بوٹس کے ذریعے سائبر حملوں میں اضافے کا انکشاف! کم عمر افراد میں بڑھتے کینسر کی ممکنہ وجہ کی نشاندہی پانچ غباروں کو طویل مدت تک ہوا میں اچھالنے کا انوکھا ریکارڈ سیال کینیڈا 2026ء؛ فوڈ نمائش میں پاکستانی مصنوعات نے بھرپور توجہ حاصل کرلی پاکستانی سفیر کی امریکی کانگریس کے چیئرمین امور خارجہ کمیٹی سے ملاقات، عالمی صورتحال پر گفتگو مشرق وسطیٰ میں 10 ماہ سے تعینات امریکی طیارہ بردار بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ امریکی ناکہ بندی کا مقصد ایران کو اندر سے توڑنا ہے، باقر قالیباف روس نے یوم فتح کے موقع پر یوکرین کو جنگ بندی کی پیشکش کر دی توانائی بحران بڑھنے کا خدشہ، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیلی کارروائی، غزہ جانے والے امدادی بحری بیڑے کی کشتیوں پر قبضہ اے آئی بوٹس کے ذریعے سائبر حملوں میں اضافے کا انکشاف! کم عمر افراد میں بڑھتے کینسر کی ممکنہ وجہ کی نشاندہی پانچ غباروں کو طویل مدت تک ہوا میں اچھالنے کا انوکھا ریکارڈ سیال کینیڈا 2026ء؛ فوڈ نمائش میں پاکستانی مصنوعات نے بھرپور توجہ حاصل کرلی پاکستانی سفیر کی امریکی کانگریس کے چیئرمین امور خارجہ کمیٹی سے ملاقات، عالمی صورتحال پر گفتگو مشرق وسطیٰ میں 10 ماہ سے تعینات امریکی طیارہ بردار بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ امریکی ناکہ بندی کا مقصد ایران کو اندر سے توڑنا ہے، باقر قالیباف روس نے یوم فتح کے موقع پر یوکرین کو جنگ بندی کی پیشکش کر دی توانائی بحران بڑھنے کا خدشہ، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ

جنیوا میں مذاکرات کا تیسرا راؤنڈ: امریکا نے ایران کے میزائل پروگرام کو بات چیت کا مرکزی نکتہ بنا دیا

Link copied!
جنیوا میں مذاکرات کا تیسرا راؤنڈ: امریکا نے ایران کے میزائل پروگرام کو بات چیت کا مرکزی نکتہ بنا دیا

امریکا اور ایران کے درمیان آج سوئٹزرلینڈ کے شہر جینیوا میں نئے بالواسطہ مذاکرات شروع ہو رہے ہیں، جن کا مقصد کشیدگی کم کرنا اور ممکنہ تصادم کو روکنا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے حالیہ ہفتوں میں ایران پر ممکنہ حملے کی دھمکیوں اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی بڑھانے کے بعد یہ مذاکرات غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔

اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں ٹرمپ نے ایران پر ’خطرناک جوہری عزائم‘ رکھنے کا الزام عائد کیا اور دعویٰ کیا کہ تہران ایسے میزائل تیار کر رہا ہے جو یورپ اور امریکی اڈوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں، حتیٰ کہ مستقبل میں امریکا تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

ایرانی وزارتِ خارجہ نے ان الزامات کو ’بڑے جھوٹ‘ قرار دیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کے میزائلوں کی زیادہ سے زیادہ رینج دو ہزار کلومیٹر ہے، جبکہ امریکی کانگریس کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ حد تقریباً تین ہزار کلومیٹر تک ہو سکتی ہے، جو امریکی سرزمین تک پہنچنے کے لیے ناکافی ہے۔

تنازع کا بنیادی معاملہ ایران کا جوہری پروگرام ہے۔ مغربی ممالک کا مؤقف ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ تہران مسلسل کہتا آیا ہے کہ اس کا پروگرام پُرامن مقاصد کیلئے ہے۔ امریکا اب ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور اسرائیل مخالف گروہوں کی حمایت کے معاملات کو بھی مذاکرات میں شامل کرنا چاہتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مذاکرات سے قبل کہا کہ ایران کو میزائل پروگرام پر بھی بات کرنا ہوگی، اور اس معاملے سے انکار ’ایک بڑا مسئلہ‘ ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ صدر سفارتی حل چاہتے ہیں۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے مذاکرات کے حوالے سے مثبت امید ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ اس عمل سے ’نہ جنگ نہ امن‘ کی موجودہ صورتحال سے آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں، جنہوں نے ان مذاکرات کو ’تاریخی موقع‘ قرار دیا ہے۔

امریکی وفد میں خصوصی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں۔ عمان اس پورے عمل میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ اس سے قبل بھی دونوں ممالک کے درمیان عمان اور جنیوا میں بات چیت ہو چکی ہے۔

گزشتہ برس اسرائیل کی جانب سے ایران پر اچانک حملوں کے بعد 12 روزہ جنگ چھڑ گئی تھی، جس میں امریکا نے بھی ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری کی تھی۔ اس کے بعد خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں ایک بڑی جنگ کے خدشات موجود ہیں، تاہم کئی علاقائی ممالک امریکا کو ایران پر حملے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تہران میں عوامی سطح پر بھی رائے منقسم ہے کہ آیا جنگ ہو گی یا سفارتی حل نکل آئے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Link copied!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *