سری لنکا کے ہیڈ کوچ سنتھ جے سوریا نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں مایوس کن کارکردگی کے بعد عہدہ چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ پاکستان کے کپتان سلمان آغا نے کہا ہے کہ وہ قیادت برقرار رکھنے یا نہ رکھنے کے فیصلے کے لیے وقت لیں گے۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے مشترکہ میزبان سری لنکا سپر ایٹ مرحلے تک تو پہنچ گیا، تاہم 2014 کا چیمپئن گروپ ٹو میں اپنے تینوں میچ ہار کر پوائنٹس ٹیبل پر آخری نمبر پر رہا۔
ہفتے کے روز پاکستان کے خلاف سنسنی خیز شکست کے بعد جے سوریا نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ یہ ذمہ داری کسی اور کو سونپ دی جائے۔ ان کے مطابق وہ دو ماہ قبل ہی اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے اور انگلینڈ کے خلاف سیریز کے دوران عندیہ بھی دے دیا تھا کہ وہ زیادہ عرصہ اس عہدے پر نہیں رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ ورلڈ کپ میں ٹیم بہتر کارکردگی دکھائے تاکہ وہ اچھے انداز میں رخصت ہوں، لیکن ایسا نہ ہو سکا جس کا انہیں افسوس ہے۔ جے سوریا کا معاہدہ جون تک ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ ابھی تک باضابطہ طور پر اپنا فیصلہ سری لنکا کرکٹ کو نہیں بتایا اور جلد بورڈ حکام سے مشاورت کریں گے۔
دوسری جانب پاکستان کا بھی ٹورنامنٹ توقعات کے مطابق نہیں رہا۔ روایتی حریف بھارت کے ہاتھوں گروپ میچ میں بھاری شکست کے علاوہ دیگر میچوں میں بھی ٹیم کا مڈل آرڈر دباؤ میں مؤثر کارکردگی نہ دکھا سکا۔ سری لنکا کی اسپن ساز وکٹوں پر پاکستانی سلو بولرز بھی خاطر خواہ فائدہ نہ اٹھا سکے۔
سلمان علی آغا نے صحافیوں سے گفتگو میں اعتراف کیا کہ ٹیم پورے ٹورنامنٹ میں اپنی صلاحیتوں کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ دباؤ کے لمحات میں فیصلوں کی غلطیوں کے باعث ٹیم سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ وہ اور ہیڈ کوچ مائیک ہیسن عالمی ایونٹ میں خراب کارکردگی کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ کپتان نے اپنی فارم پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا، تاہم واضح کیا کہ وہ فوری طور پر قیادت چھوڑنے کا فیصلہ نہیں کریں گے۔
32 سالہ سلمان علی آغا کے مطابق اس مرحلے پر استعفیٰ دینا جذباتی فیصلہ ہوگا، اس لیے وہ وطن واپسی کے بعد غور و فکر کے بعد ہی کوئی حتمی اعلان کریں گے۔