امریکی جریدے ڈی سی جرنل نے مودی کی اسرائیل نواز پالیسی کے منفی اثرات کا پوسٹ مارٹم کر دیا۔
ڈی سی جرنل کے مطابق مودی کے دورۂ اسرائیل سے خلیجی ممالک میں بھارتی مفادات کو دھچکا لگنے کے خدشات بڑھنے لگے جبکہ نریندر مودی نے بھارتی تارکین وطن کا مستقبل خطرات سے دوچار کر دیا۔
جریدے کے مطابق مودی کا دورہ اسرائیل معمول کی سفارت کاری نہیں بلکہ ایران مخالف واضح سیاسی صف بندی ہے اور مودی کی نیتن یاہو سے کھلی قربت نے بھارت کی متوازن خارجہ پالیسی پر سوال کھڑے کر دیے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی جانب جھکاؤ نے ایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ بھارت کا توازن کمزور کر دیا اور خلیجی ممالک میں بھارت کو اسرائیل نواز سیکیورٹی کیمپ کا حصہ سمجھا جانے لگا ہے جبکہ مودی کی اسرائیل پالیسی پر خلیجی عوام کی رائے میں منفی تاثر بڑھ رہا ہے۔
امریکی جریدے کے مطابق مودی کی غیر متوازی خارجہ پالیسی سے سب سے بڑا خطرہ خلیجی ممالک میں مقیم لاکھوں بھارتی کارکنوں کو ہے اور ممکنہ ردعمل کی صورت میں بھارتی کارکنوں کو ویزا، روزگار اور سماجی دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے جبکہ کشیدگی بڑھی تو بھارتی تارکین وطن کی ترسیلات زر بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ڈی سی جرنل کے مطابق مودی کی پالیسی سے ایران کے ساتھ بھارت کے اسٹریٹجک مفادات متاثر ہونے کا خدشہ ہے اور امریکی دباؤ میں چابہار بندرگاہ منصوبہ بھی خطرے میں پڑ گیا۔