اسلحہ ڈیلرز کے لیے ڈیجیٹل انوینٹری لازم قرار؛ 26 اگست آخری تاریخ کیف پر روس کا بڑا میزائل حملہ، 5 افراد ہلاک متعدد زخمی ایران کا آبنائے ہرمز میں متحدہ عرب امارات کا آئل ٹینکر قبضے میں لینے کا دعویٰ امریکا میں سخت مالیاتی بحران کا خدشہ، قرض 40 ہزار ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا فیلڈ مارشل عاصم منیر کا عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ، خطے کے بحران کا سفارتی حل نکالنے پر گفتگو ٹرمپ کا ایران کے خلاف اقتصادی جنگ کا اعلان، حمایت کرنے والے ممالک کو بھی سنگین نتائج کی دھمکیاں وہ دن دور نہیں جب بلوچستان سے دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ ہو جائے گا، صدر مملکت میزائیل حملوں کے بعد متحدہ عرب امارات کا ایران سے تجارت اور مالی لین دین معطل کرنے کا اعلان آبنائے ہرمز کی صورتحال پر غیر یقینی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھ گئیں اسرائیل کی شام میں ایئربیس پر میزائل حملے؛ ہائی الرٹ جاری اسلحہ ڈیلرز کے لیے ڈیجیٹل انوینٹری لازم قرار؛ 26 اگست آخری تاریخ کیف پر روس کا بڑا میزائل حملہ، 5 افراد ہلاک متعدد زخمی ایران کا آبنائے ہرمز میں متحدہ عرب امارات کا آئل ٹینکر قبضے میں لینے کا دعویٰ امریکا میں سخت مالیاتی بحران کا خدشہ، قرض 40 ہزار ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا فیلڈ مارشل عاصم منیر کا عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ، خطے کے بحران کا سفارتی حل نکالنے پر گفتگو ٹرمپ کا ایران کے خلاف اقتصادی جنگ کا اعلان، حمایت کرنے والے ممالک کو بھی سنگین نتائج کی دھمکیاں وہ دن دور نہیں جب بلوچستان سے دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ ہو جائے گا، صدر مملکت میزائیل حملوں کے بعد متحدہ عرب امارات کا ایران سے تجارت اور مالی لین دین معطل کرنے کا اعلان آبنائے ہرمز کی صورتحال پر غیر یقینی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھ گئیں اسرائیل کی شام میں ایئربیس پر میزائل حملے؛ ہائی الرٹ جاری
اسلحہ ڈیلرز کے لیے ڈیجیٹل انوینٹری لازم قرار؛ 26 اگست آخری تاریخ کیف پر روس کا بڑا میزائل حملہ، 5 افراد ہلاک متعدد زخمی ایران کا آبنائے ہرمز میں متحدہ عرب امارات کا آئل ٹینکر قبضے میں لینے کا دعویٰ امریکا میں سخت مالیاتی بحران کا خدشہ، قرض 40 ہزار ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا فیلڈ مارشل عاصم منیر کا عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ، خطے کے بحران کا سفارتی حل نکالنے پر گفتگو ٹرمپ کا ایران کے خلاف اقتصادی جنگ کا اعلان، حمایت کرنے والے ممالک کو بھی سنگین نتائج کی دھمکیاں وہ دن دور نہیں جب بلوچستان سے دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ ہو جائے گا، صدر مملکت میزائیل حملوں کے بعد متحدہ عرب امارات کا ایران سے تجارت اور مالی لین دین معطل کرنے کا اعلان آبنائے ہرمز کی صورتحال پر غیر یقینی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھ گئیں اسرائیل کی شام میں ایئربیس پر میزائل حملے؛ ہائی الرٹ جاری اسلحہ ڈیلرز کے لیے ڈیجیٹل انوینٹری لازم قرار؛ 26 اگست آخری تاریخ کیف پر روس کا بڑا میزائل حملہ، 5 افراد ہلاک متعدد زخمی ایران کا آبنائے ہرمز میں متحدہ عرب امارات کا آئل ٹینکر قبضے میں لینے کا دعویٰ امریکا میں سخت مالیاتی بحران کا خدشہ، قرض 40 ہزار ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا فیلڈ مارشل عاصم منیر کا عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ، خطے کے بحران کا سفارتی حل نکالنے پر گفتگو ٹرمپ کا ایران کے خلاف اقتصادی جنگ کا اعلان، حمایت کرنے والے ممالک کو بھی سنگین نتائج کی دھمکیاں وہ دن دور نہیں جب بلوچستان سے دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ ہو جائے گا، صدر مملکت میزائیل حملوں کے بعد متحدہ عرب امارات کا ایران سے تجارت اور مالی لین دین معطل کرنے کا اعلان آبنائے ہرمز کی صورتحال پر غیر یقینی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھ گئیں اسرائیل کی شام میں ایئربیس پر میزائل حملے؛ ہائی الرٹ جاری

فیفا کی پالیسیوں پر سابق جرمن فٹبالر کی تنقید، ورلڈ کپ کو فروخت شدہ قرار دے دیا

Link copied!
فیفا کی پالیسیوں پر سابق جرمن فٹبالر کی تنقید، ورلڈ کپ کو فروخت شدہ قرار دے دیا

’’ورلڈ کپ فروخت ہو چکا ہے‘‘، فلپ لاہم کا فیفا کی پالیسیوں پر اعتراض

جرمنی کے سابق کپتان، ورلڈ کپ فاتح اور معروف فٹبالر فلپ لاہم نے فیفا اور اس کے صدر جیانی انفانٹینو پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی فٹبال میں کھیل اور شائقین کے مفادات کے مقابلے میں تجارتی فوائد کو فوقیت دی جا رہی ہے۔

اپنے ایک اخباری کالم میں فلپ لاہم نے ٹکٹوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں اضافے اور فٹبال کے بڑھتے ہوئے کاروباری رجحان پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ورلڈ کپ فروخت ہو چکا ہے‘‘، جس کے بعد فٹبال حلقوں میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

لاہم کے بقول مالی فوائد کے حصول کی بڑھتی ہوئی کوششیں فٹبال کی اصل شناخت اور مقبولیت کو متاثر کر رہی ہیں، جبکہ شائقین بھی کھیل کے روایتی تشخص سے دوری محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مداحوں کے لیے اب کھیل کے حقیقی جذبے اور تجارتی مفادات کے درمیان فرق کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

انہوں نے خاص طور پر فیفا کلب ورلڈ کپ کے توسیعی فارمیٹ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ٹیموں کی تعداد 7 سے بڑھا کر 32 کرنا کھلاڑیوں پر غیر ضروری بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق پہلے ہی مصروف شیڈول اور مسلسل سفر کرنے والے کھلاڑیوں کو مزید دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

فلپ لاہم نے خبردار کیا کہ میچوں کی تعداد میں اضافہ کھلاڑیوں کی فٹنس، کارکردگی اور ذہنی و جسمانی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے، جبکہ انجریز اور تھکن کے خدشات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

انہوں نے 2026 فیفا ورلڈ کپ کے ٹکٹوں کی قیمتوں پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ قیمتوں کے تعین اور فروخت کے طریقہ کار میں زیادہ شفافیت لائی جائے تاکہ شائقین کو بہتر معلومات فراہم کی جا سکیں۔

تاہم فلپ لاہم نے 2026 ورلڈ کپ میں ٹیموں کی تعداد 48 تک بڑھانے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے ابھرتی ہوئی فٹبال قوموں کو عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا بہتر موقع ملے گا اور عالمی فٹبال کا دائرہ مزید وسیع ہوگا۔

مزید پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ: میسی نے ریٹائرمنٹ کے اعلان کے بعد شاندار کارکردگی سے تاریخ رقم کی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Link copied!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *