ایران کے سینئر رہنما اور امریکا کے ساتھ مذاکراتی عمل میں اہم کردار ادا کرنے والے محمد باقر قالیباف نے امریکا پر ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دباؤ، دھمکیوں اور طاقت کے استعمال کا دور گزر چکا ہے۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ واشنگٹن نے متعدد ایسے اقدامات کیے ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ مفاہمتی فریم ورک کے منافی ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز کے انتظامی معاملات میں مداخلت کی، ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائیوں کی دھمکیاں دیں، ایرانی تیل پر دوبارہ پابندیاں عائد کیں اور جنوبی ایران میں حملے کیے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائیاں کی ہیں اور ایرانی تیل کی فروخت سے متعلق دی گئی بعض رعایتیں بھی واپس لے لی ہیں۔
دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان طے شدہ عبوری مفاہمتی معاہدے کے مستقبل کے بارے میں بھی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مستقل معاہدے کے لیے مذاکرات کا عمل پہلے ہی تعطل کا شکار ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق محمد باقر قالیباف کا سخت مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران موجودہ صورتحال کو معاہدے کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ سمجھ رہا ہے اور مستقبل میں دونوں ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کم نہ ہوئی تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔