ثناء اللہ مجاہد
ایران و اسرائیل کا ٹاسک پورا ہوگیا۔۔
غزہ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا…
60 فیصد غزہ پر اسرائیل کو قبضہ دلوا کر…
80 ہزار لوگوں کو مروا کر…
دو لاکھ فلسطینی زخمی کروا کر…
اور 90 فیصد پورا ڈھانچہ تباہ کروا کے…
باقی غزہ والوں کو آسمان تلے رہنے پر مجبور کروا کے…
یعنی پوری طرح سے غزہ کو تباہی کے دہانے پہ لاکر۔۔۔
ایران نے اپنایت کالبادہ اوڑھ کر عالمی سطح پر اپنے لیے ہمدردی سمیٹی اور اپنے کوفیانہ خصلت سے لاکھوں مظلوم فلسطینی عوام کا تباہ کردیا۔۔
حماس کی قیادت کو شہیدکرواکراپنےتابعدار مسلم مخالف گروہ حزب اللہ کو حماس کی قیادت پر بٹھاکر
حماس پر قابض اسرائیل نواز قیادت نے اعلان کیا ہے کہ اب ہم غزہ پر حکومت نہیں کریں گے!!!
یہ ہے ایرانی اور اسرائیل کے مشترکہ پراجیکٹ نمبر 1 کی کہانی!!!
اسرائیل سے زیادہ فلسطینیوں کوحماس پرقابض ایرانی ایجنٹ قیادت نے پریشان کیا ہے اور تباہ کیا ہے…
بہت سے عقل کے اندھے چڑھتے سورج کے پجاری آج بھی حماس پرقابض ایرانی قیادت کی تعریف کر رہے ہیں کہ حماس نے حکومت سے دستبرداری اختیار کر لی ہے اس میں بہت بڑی مصلحت ہے!!
عقل کے اندھو!یہ فیصلہ حماس کا نہیں حماس پر قابض ایرانی قیادت کاہے جس کا اور اسرائیل کا ایک ہی مقصد ہے فلسطین کو اسرائیل نواز شیعہ ریاست بنانا۔
حماس کی شہید قیادت کے ہوتے ہوئے ایسا ممکن نہ تھا۔ ایک عرصہ سے ایران اسرائیل سے مل کر فلسطین کو اسرائیل نواز شیعہ ریاست بنانے کے لیے کوشاں تھا مگر حماس کے ہوتے ہوئے ممکن نہ تھا حماس سے ڈائریکٹ لڑائی بھی نہیں کرسکتاتھا ایران۔عالمی سطح پر ایران کی مخالفت ہوتی فلسطین حمایتی کے نام پرھمدردی ختم ہوجاتی ۔ اسی لیے اسرائیل سے ملکر حماس کو ختم کرنے کی بجائے اس کی قیادت پر قبضہ کا منصوبہ بنایاگیا جو اب بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے۔
حماس کے نام پر ایرانی ایجنٹس فلسطین کو تباہ کررہے ہیں۔
ظاہر ہے جو فسادی ہوتا ہے وہ فسادیوں کا ساتھ دیتا ہے انہیں مظلوم فلسطینیوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے…
آج پورا غزہ سراپا احتجاج ہے غزہ کا رہنے والا ہر باشندہ حماس پرقابض ایرانی ایجنٹس کو گالی دے رہا ہے اور انہیں پوری تباہی کا ذمہ دار بتا رہا ہے..
اسی تسلسل میں ایرانی اور اسرائیل کے مشترکہ پراجیکٹ نمبر 2 لانچ کیاگیا تاکہ ایران کی اسرائیل مخالف پہچان برقرار رہے!!!
حالیہ جنگ بھی ایک یہودی وکوفی پراجیکٹ تھا اسرائیل ایران پر میزائل گراتا تو ایران جوابی حملہ مسلم عرب ریاستوں پر کرتا ہے۔ یہ بھیانک پراجیکٹ تھا کہ عرب مسلمز کی تباہی یا ایران کی تابعداری اوراسرائیل کی فرمانبرداری۔ جس میں یہ دونوں کامیاب ہے۔ ایران کی اسرائیل ہمدرد قیادت نے اعتدال پسند رہبر آیت اللہ خامنائی کو راستہ سے ہٹواکر دو مقاصد حاصل کیے ایک تو ایرانی عوام کو اسرائیل مخالفت میں پُرجوش اور اکٹھا کیا دوسرا اعتدال پسند آیت اللہ خامنائی کو اپنے مشترکہ اسرائیلی پراجیکٹ کی راہ میں آجانے کا خطرہ ختم کیا اگر آیت اللہ خامنائی حیات ہوتے تو اس جنگ کا منظر نامہ کچھ اور ہوتا۔
جو کردار ایران حمایت میں آئے ہیں ایک دن پچھتائیں گے۔ یہ کوفی کبھی کسی کے ساتھ مخلص نہیں ہوسکتے ان کے خون میں شامل ہے بچھوانہ خصلت۔