اسلام آباد ( عمر ابدالی ) مقامی ذرائع نے افغانستان انٹرنیشنل کو بتایا ہے کہ دایکنڈی اور غزنی میں پیش آنے والے دو الگ الگ واقعات میں ایک سابق انٹیلی جنس اہلکار اور ایک قبائلی رہنما کو قتل کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق سابق سکیورٹی اہلکار محمد علی طوفان کو جمعرات کی شام نامعلوم مسلح افراد نے دایکنڈی میں قتل کر دیا۔دوسری جانب غزنی کے ضلع قرہ باغ سے تعلق رکھنے والے قبائلی رہنما قادر علی رفعت کی لاش 24 گھنٹے لاپتا رہنے کے بعد برآمد ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی لاش پر تشدد اور جسمانی تشدد کے واضح نشانات موجود تھے۔
دوسرے واقعے میں غزنی کے مقامی ذرائع نے بتایا کہ ضلع قرہ باغ کے قبائلی رہنما قادر علی رفعت جمعرات 16 جولائی کی صبح موٹر سائیکل پر اپنے گھر سے علی آباد تمکی بازار جانے کے لیے روانہ ہوئے تھے، تاہم راستے میں لاپتا ہوگئے۔ذرائع کے مطابق مقامی افراد نے 24 گھنٹے تک تلاش کے بعد ان کی لاش برآمد کی۔ اطلاعات ہیں کہ حملہ آوروں نے انہیں قتل کرنے سے قبل تشدد کا نشانہ بنایا۔دونوں واقعات کے محرکات اور حملہ آوروں کی شناخت تاحال سامنے نہیں آسکی ہے، جبکہ طالبان نے بھی ان دونوں واقعات پر ابھی تک کوئی ردعمل یا بیان جاری نہیں کیا۔