کابل( عمر ابدالی ) افغانستان کے مشرقی صوبے نورستان میں پیر کے روز آنے والے اچانک سیلاب کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد جاں بحق جبکہ 100 سے زائد لاپتہ ہو گئے ہیں۔ طالبان حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امدادی اور تلاش کی کارروائیاں جاری رہنے کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔طالبان کے قومی ادارہ برائے انسداد آفات (اینڈما) کے ترجمان یوسف حماد نے بتایا کہ سیلاب نے صوبائی دارالحکومت پارون اور اس سے ملحقہ علاقوں کو پیر کی شام اپنی لپیٹ میں لیا، جس کے نتیجے میں تقریباً 80 افراد زخمی ہوئے جبکہ بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔یوسف حماد کے مطابق ہلاکتوں، زخمیوں اور لاپتہ افراد کی تعداد ابتدائی معلومات پر مبنی ہے اور امکان ہے کہ یہ اعداد و شمار مزید بڑھ سکتے ہیں۔نورستان میں طالبان گورنر کے دفتر نے بھی سیلاب کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ موسلا دھار بارشوں کے باعث اچانک آنے والے سیلاب بعض علاقوں میں مسلسل چھ گھنٹے تک جاری رہے، جس سے انسانی جانوں کے ضیاع اور املاک کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا۔تاحال گھروں، سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، جبکہ یہ بھی واضح نہیں کہ کتنے افراد اب بھی سیلابی علاقوں میں پھنسے ہوئے یا بے گھر ہیں۔اینڈما کے مطابق متاثرہ علاقوں کا ابتدائی تخمینہ لگانے کے لیے ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں، جبکہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن بدستور جاری ہے۔افغانستان ہر سال موسمی بارشوں کے دوران اچانک آنے والے سیلابوں کے شدید خطرے سے دوچار رہتا ہے۔ حالیہ برسوں میں ملک کے مختلف حصوں میں آنے والے مہلک سیلابوں میں کمزور بنیادی ڈھانچے اور محدود امدادی صلاحیت کے باعث بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوتا رہا ہے۔