امریکا ایران کشیدگی کے باعث خطے میں غیر یقینی صورتحال کے باوجود پاکستان کی معیشت میں مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی گلوبل نے پاکستان کی خودمختارکریڈٹ ریٹنگ مائنس بی سے بڑھاکر بی کردی ہے اور اس کاآؤٹ لک مستحکم قراردیاہے، جسے آئی ایم ایف کے تعاون سے ہونیوالی معاشی اصلاحات،مالیاتی نظم و ضبط اورزرمبادلہ ذخائر میں بہتری کانتیجہ قراردیاجا رہاہے۔
حکومت نے برآمدات کے فروغ کیلیے مالی سال 2027 کے دوران تقریباً 98 ارب روپے کی لاگت سے تین بڑے مراعاتی منصوبوں کی منظوری دی ہے،جبکہ مجموعی پیکیج کی مالیت 255 ارب روپے سے زائد بتائی جارہی ہے۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے فیصلے کے مطابق ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے تحت برآمدکنندگان کو چھ ماہ کیلیے 8۔5 فیصد مقررہ شرح پر ورکنگ کیپیٹل قرضے فراہم کیے جائیں گے،جس پر حکومت مالی سال 2027 میں 58 ارب روپے کی سبسڈی دے گی۔
اسی طرح لانگ ٹرم ایکسپورٹ گروتھ فنانسنگ فیسلٹی کے تحت نئے صنعتی منصوبوں اور جدیدمشینری کی خریداری کیلیے 350 ارب روپے تک کے قرضے فراہم کیے جائیں گے۔
قرض لینے والوں سے ابتدائی دوسال 2 فیصد جبکہ اگلے آٹھ سال 5 فیصد شرح سودوصول کی جائیگی،جبکہ باقی سودحکومت برداشت کریگی، گزشتہ سال کے مقابلے میں 10 فیصد تک اضافی برآمدات کرنیوالوں کو اضافی برآمدی مالیت کاایک فیصد جبکہ 10فیصدسے زیادہ اضافہ کرنے والوں کودو فیصد ترغیبی رقم دی جائیگی، اس اسکیم پر سالانہ تقریباً 15 ارب خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔
مالی سال 2027 کے بجٹ میں بھی برآمدی شعبے کومتعددسہولتیں دی گئی ہیں۔ماہرین کے مطابق حکومت نے ترسیلات زر پردی جانیوالی مراعات ختم کرکے وسائل کوبرآمدی شعبے کی طرف منتقل کیاہے،جس سے صنعتی پیداوار،روزگار، ٹیکس وصولیوں اور مستقل زرمبادلہ آمدن میں اضافہ متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معیشت اب بھی آئی ایم ایف پروگرام، چین اورسعودی عرب کے مالی تعاون پر انحصارکرتی ہے، اس لیے پائیدارمعاشی استحکام کیلیے برآمدات اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں نمایاں اضافہ ناگزیر ہے۔
ماہرین کاکہناہے کہ حکومت نے برآمدی شعبے کوسستی مالی سہولتیں، ٹیکس ریلیف اوردیگر مراعات فراہم کر دی ہیں،اب برآمدکنندگان کی ذمہ داری ہے کہ وہ نئی منڈیوں تک رسائی،مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن اور برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ یقینی بنائیں، تاکہ پاکستان مستقبل میں آئی ایم ایف پروگراموں اور بیرونی مالی امداد پر انحصارکم کرسکے۔