امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ مکہ مکرمہ میں ہونے والا معاہدہ عالم اسلام کے لیے نیک شگون ہے.
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سہ فریقی معاہدے میں ایران کو بھی شامل کیا جانا چاہیے تاکہ مسلم ممالک کا مضبوط دفاعی نیٹ ورک قائم ہو سکے۔ معاہدے کے تناظر میں افغانستان کے مسئلے کو بھی حل کیا جا سکتا ہے اور اس کے لیے ایک جرگہ تشکیل دیا جائے جو تجارت اور امن و امان کے امور کو دیکھے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال پر سوالات اٹھ رہے ہیں جبکہ سوات میں پیش آنے والا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے جس میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ انہوں نے زور دیا کہ امن کے قیام کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جائے اور اندرونی حالات کو بہتر بنایا جائے تاکہ بیرونی مداخلت کا راستہ روکا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ 7 اگست کو جماعت اسلامی کی جانب سے مہنگائی کے خلاف کیا گیا احتجاج تاریخی تھا اور 16 اگست کو ملک بھر میں دھرنے دیے جائیں گے۔ انہوں نے نوجوانوں سمیت تمام طبقوں سے اس احتجاج میں شرکت کی اپیل کی اور کہا کہ دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی ان کے مؤقف کی حمایت کی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے پٹرولیم مصنوعات اور دیگر اشیاء پر عائد ٹیکسز ختم کرنے اور پٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر مقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے حکومت کو نااہلی اور کرپشن کا مجموعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئی پی پیز کے خلاف احتجاج کامیاب رہا ہے اور پرامن احتجاج عوام کا حق ہے۔