سہہ فریقی دفاعی معاہدہ، حوثیوں کے حملے۔پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ بلوچستان کے ضلع سوراب کی تاریخ میں پہلی بار خواتین کیلئے گرینڈ کھلی کچہری قائداعظم محمد علی جناح کا یوم وفات، گورنر اور وزیراعلیٰ کی مزار پر حاضری عمان کے قریب دو بحری جہازوں پر نامعلوم پروجیکٹائلوں سے حملہ، ایک میں آگ لگ گئی مودی سرکار کی معاشی پالیسیوں کو دھچکا،غیر ملکی سرمایہ کاروں کا بھارتی منڈیوں سے انخلا تیز سعودی عرب کا حوثیوں پر امریکی حملوں کا مطالبہ، ٹرمپ نے مسترد کر دیا رضا اللہ کا تیز رفتاری سے مایوس کن کارکردگی تک کا سفر عالمی تجارت متاثر ہونے کا خدشہ، حوثیوں نے باب المندب پر قبضے کا دعویٰ کر دیا فراڈ کی الزامات پر حسینہ واجد کی بیٹی ڈبلیو ایچ او کے عہدے سے مستعفی مریم نواز کی صاحبزادی ماہ نور کا نکاح طے، تاریخ سامنے آگئی سہہ فریقی دفاعی معاہدہ، حوثیوں کے حملے۔پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ بلوچستان کے ضلع سوراب کی تاریخ میں پہلی بار خواتین کیلئے گرینڈ کھلی کچہری قائداعظم محمد علی جناح کا یوم وفات، گورنر اور وزیراعلیٰ کی مزار پر حاضری عمان کے قریب دو بحری جہازوں پر نامعلوم پروجیکٹائلوں سے حملہ، ایک میں آگ لگ گئی مودی سرکار کی معاشی پالیسیوں کو دھچکا،غیر ملکی سرمایہ کاروں کا بھارتی منڈیوں سے انخلا تیز سعودی عرب کا حوثیوں پر امریکی حملوں کا مطالبہ، ٹرمپ نے مسترد کر دیا رضا اللہ کا تیز رفتاری سے مایوس کن کارکردگی تک کا سفر عالمی تجارت متاثر ہونے کا خدشہ، حوثیوں نے باب المندب پر قبضے کا دعویٰ کر دیا فراڈ کی الزامات پر حسینہ واجد کی بیٹی ڈبلیو ایچ او کے عہدے سے مستعفی مریم نواز کی صاحبزادی ماہ نور کا نکاح طے، تاریخ سامنے آگئی
سہہ فریقی دفاعی معاہدہ، حوثیوں کے حملے۔پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ بلوچستان کے ضلع سوراب کی تاریخ میں پہلی بار خواتین کیلئے گرینڈ کھلی کچہری قائداعظم محمد علی جناح کا یوم وفات، گورنر اور وزیراعلیٰ کی مزار پر حاضری عمان کے قریب دو بحری جہازوں پر نامعلوم پروجیکٹائلوں سے حملہ، ایک میں آگ لگ گئی مودی سرکار کی معاشی پالیسیوں کو دھچکا،غیر ملکی سرمایہ کاروں کا بھارتی منڈیوں سے انخلا تیز سعودی عرب کا حوثیوں پر امریکی حملوں کا مطالبہ، ٹرمپ نے مسترد کر دیا رضا اللہ کا تیز رفتاری سے مایوس کن کارکردگی تک کا سفر عالمی تجارت متاثر ہونے کا خدشہ، حوثیوں نے باب المندب پر قبضے کا دعویٰ کر دیا فراڈ کی الزامات پر حسینہ واجد کی بیٹی ڈبلیو ایچ او کے عہدے سے مستعفی مریم نواز کی صاحبزادی ماہ نور کا نکاح طے، تاریخ سامنے آگئی سہہ فریقی دفاعی معاہدہ، حوثیوں کے حملے۔پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ بلوچستان کے ضلع سوراب کی تاریخ میں پہلی بار خواتین کیلئے گرینڈ کھلی کچہری قائداعظم محمد علی جناح کا یوم وفات، گورنر اور وزیراعلیٰ کی مزار پر حاضری عمان کے قریب دو بحری جہازوں پر نامعلوم پروجیکٹائلوں سے حملہ، ایک میں آگ لگ گئی مودی سرکار کی معاشی پالیسیوں کو دھچکا،غیر ملکی سرمایہ کاروں کا بھارتی منڈیوں سے انخلا تیز سعودی عرب کا حوثیوں پر امریکی حملوں کا مطالبہ، ٹرمپ نے مسترد کر دیا رضا اللہ کا تیز رفتاری سے مایوس کن کارکردگی تک کا سفر عالمی تجارت متاثر ہونے کا خدشہ، حوثیوں نے باب المندب پر قبضے کا دعویٰ کر دیا فراڈ کی الزامات پر حسینہ واجد کی بیٹی ڈبلیو ایچ او کے عہدے سے مستعفی مریم نواز کی صاحبزادی ماہ نور کا نکاح طے، تاریخ سامنے آگئی

سہہ فریقی دفاعی معاہدہ، حوثیوں کے حملے۔پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

Link copied!
حرم کے پاسبان۔ترکیہ ،سعودیہ اور پاکستان۔

ثناء اللہ مجاہد

یہ سوال صرف ریاض نہیں پوچھ رہا۔دنیا بھی پوچھ رہی ہے، مسلم امہ کی عوام پوچھ رہی ہے کہاں ہے دفاعی اتحاد؟اور پاکستان کے اندر بھی یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ اگر ہم نے سعودی عرب کی سلامتی کو اپنی سلامتی سے جوڑنے کا عہد کیا ہے تو پھر سعودی سرزمین پر ایران نواز حوثیوں کے مسلسل ہورہے ہیں ،حملوں کے وقت ہماری ذمہ داری کہاں سے شروع ہوتی ہے اور کہاں ختم ہوتی ہے؟مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر اس مقام پر کھڑا ہے جہاں ایک غلط اندازہ پورے خطے کو آگ کی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے بعدبڑھتی ہوئی محاذ آرائی، خلیج میں جہاز رانی کے بحران، آبنائے ہرمز کے گرد پیدا ہونے والی کشیدگی، یمن میں حوثیوں کی دوبارہ سرگرمیاں اور سعودی عرب کے خلاف میزائل و ڈرون حملوں نے مسلم دنیا کے سامنے ایک ایسا سوال لا کھڑا کیا ہے جس سے اب کوئی ملک نظریں نہیں چرا سکتا۔
اور پاکستان کے لیے یہ سوال دوسروں سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
ایک طرف سعودی عرب ہے، جس کے ساتھ پاکستان نے ایک باقاعدہ اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ کیا ہے۔ دوسری طرف ایران ہے، جو پاکستان کا نہ صرف ہمسایہ ہے بلکہ صدیوں پر محیط تاریخی، تہذیبی اور جغرافیائی تعلق رکھتا ہے۔ تیسری طرف امریکہ ہے، جو ایران کے ساتھ براہِ راست جنگی محاذ آرائی میں ہے اور جس کے ساتھ پاکستان کے سفارتی، معاشی اور عالمی نظام سے متعلق متعدد مفادات وابستہ ہیں۔
اور چوتھی طرف یمن کے حوثی ہیں، جنہیں بڑے پیمانے پر ایران کے اتحادی اور حمایت یافتہ گروہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو ایک مرتبہ پھر سعودی عرب کے خلاف کھلے حملوں کی طرف لوٹ آئے ہیں۔
8 ستمبر کو حوثیوں نے سعودی عرب کے ابہا، جازان، نجران اور خمیس مشیط سمیت متعدد علاقوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ حملوں میں 73 افراد زخمی ہوئے اور سعودی توانائی و صنعتی تنصیبات کو نقصان پہنچا۔یہ محض یمن کا مسئلہ نہیں رہا۔
یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی، دفاعی ذمہ داری، علاقائی توازن اور قومی مفاد کا امتحان بن چکا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ ہے یا ایران کے ساتھ۔اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کہاں کھڑاہے؟
دفاعی معاہدہ صرف کاغذ نہیں ہوتادنیا کی سفارت کاری میں دفاعی معاہدے جذباتی بیانات نہیں ہوتے۔ ان کے پیچھے ریاستی مفادات، عسکری منصوبہ بندی، مشترکہ دفاع اور ایک دوسرے کے تحفظ کے وعدے ہوتے ہیں۔
پاکستان اور سعودی عرب نے ستمبر 2025 میں اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف جارحیت کو مشترکہ سلامتی کے لیے خطرہ سمجھنے کا عزم ظاہر کیا۔
بعد میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان دفاعی تعاون کا نیا فریم ورک بھی سامنے آیا، جسے خطے میں بدلتی ہوئی سلامتی کی صورتِ حال کے تناظر میں دیکھا گیا۔
یہ معاہدہ اس وقت کیا گیا جب مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا پرانا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا تھا۔لہٰذا یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ یہ صرف تین ممالک کا معمول کا دفاعی تعاون ہے۔اس کے اندر ایک بڑا جغرافیائی پیغام موجود ہےمسلم ممالک اب اپنی سلامتی کے لیے صرف بیرونی طاقتوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتے۔
لیکن اس معاہدے کے سامنے آج ایک بنیادی سوال کھڑا ہے سعودی عرب پر مسلسل حملے ہورہے ہیں تو اس دفاعی معاہدے کی عملی حیثیت کیا ہے؟ پاکستان اس سہہ فریقی دفاعی اتحاد کا سربراہ ہے اس کی اتحاد کی حکمت عملی کیا ہے؟ کیوں پاکستان اپنے ہمسائے ملک ایران کو حوثیوں سے حملے کروانے سے روک نہیں رہا ترکیہ کیوں خاموش ہے کیا یہ اتحاد کاغذی ہے؟
یہ سوال صرف ریاض نہیں پوچھ رہا۔دنیا بھی پوچھ رہی ہے، مسلم امہ کی عوام پوچھ رہی ہے کہاں ہے دفاعی اتحاد؟
اور پاکستان کے اندر بھی یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ اگر ہم نے سعودی عرب کی سلامتی کو اپنی سلامتی سے جوڑنے کا عہد کیا ہے تو پھر سعودی سرزمین پر حملوں کے وقت ہماری ذمہ داری کہاں سے شروع ہوتی ہے اور کہاں ختم ہوتی ہے؟
پاکستان کے لیے اصل مشکل ایران ہےاگر معاملہ صرف سعودی عرب اور یمن تک محدود ہوتا تو پاکستان کے لیے فیصلہ نسبتاً آسان ہوتا۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ حوثی تحریک کو ایران کے ساتھ جوڑا جاتا ہے جس کی پُشت پر تہران ہے حوثیوں پر براہِ راست کنٹرول رکھتاہے تہران مختلف ممالک سے اسلحہ حوثیوں کو سپلائی کرواتا ہے حوثیوں کا واحد ٹارگٹ سعودیہ ہے، عالمی سطح پر حوثیوں کو ایران کے علاقائی اتحادی اور حمایت یافتہ گروہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ حالیہ حملوں کے بعد بھی یہی سوال دوبارہ اٹھا ہے کہ ایران اپنے علاقائی اتحادیوں پر کس حد تک اثر و رسوخ استعمال کرسکتا ہے۔یہاں پاکستان ایک انتہائی نازک مقام پر کھڑا ہے۔کیونکہ ایران پاکستان کا ہمسایہ ہے۔
پاکستان کسی بھی صورت ایران کے ساتھ ایک طویل المدت دشمنی کا متحمل نہیں ہوسکتا کیونکہ پہلے بھی شواہد ہیں کہ بلوچستان میں جاری شورش کے پیچھے ایران کی حمایت ہے بی ایل اے بھارت ایرن سے کنٹرول کرتاہے اورایران نواز حلقے پاکستان میں موجود ہیں جو پاکستان سے زیادہ ایران کے وفادار ہیں پاکستان کو ایرن کے طابع کرنا چاہتے ہیں۔
دوسری طرف سعودی عرب پاکستان کا انتہائی اہم دفاعی، معاشی اور سیاسی شراکت دار ہے۔یہی وہ جغرافیائی حقیقت ہے جو اسلام آباد کو ایک انتہائی مشکل سفارتی امتحان میں ڈالتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Link copied!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *