وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی ہے۔ صدارتی محل میں90 منٹ جاری رہنے والی ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امن کیلیے ثالثی کی کوششوں پر تبادلہ خیال ہوا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، وزیر داخلہ سکندرمومنی بھی موجود تھے۔ تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے مطابق محسن نقوی نے ایرانی صدارتی محل میں تین گھنٹے گزارے۔
ایرانی صدر نے کہا اسلامی ممالک جتنے زیادہ متحد ہوں گے، تسلط کی خواہشمند طاقتوں کی جانب سے بیرونی جارحیت کے امکانات اتنے ہی کم ہوں گے۔
انھوں نے خطے کے ممالک خصوصاً ایران کے ہمسایہ ممالک پر زور دیا وہ اتحاد اور باہمی تعاون کو فروغ دیں تاکہ خطے سے باہر کی طاقتوں کی کسی بھی جارحیت کو ناکام بنایا جا سکے۔قبل ازیں محسن نقوی نے ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف سے ملاقات کی ہے۔
محسن نقوی کا یہ دوران ایران اور امریکہ میں ڈیڈلاک ختم کرنیکی کوششوں کا حصہ ہے۔ باقر قالیباف نے کہا حالیہ جنگ کے دوران پاکستان کی حمایت اور تعاون کو سراہتے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، ثقافتی اور دیگر شعبوں میں تعاون میں اضافہ ہونا چاہئے، حالیہ واقعات سے ظاہر ہے کہ خطے میں امریکی موجودگی سیکیورٹی کے فقدان کی وجہ ہے۔
خطے میں امریکی موجودگی سکیورٹی کو نقصان پہنچانے کا راستہ ہموارکرتی ہے۔ خطے کے ممالک کو اعتماد اور تعاون کے ذریعے سیاسی اور سکیورٹی تعاون کا راستہ ہموار کرنا چاہیے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق مذاکرات کیلئے ایران کی تجویز کے جواب میں امریکہ نے پانچ شرائط عائد کی ہیں۔ جو اس طرح ہیں امریکہ کی جانب سے ایران کو جنگی ہرجانہ ادا نہیں کیا جائے گا، 400 کلو گرام افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کیا جائیگا، صرف ایک ایرانی جوہری تنصیب برقرار رہے گی، ایران کے منجمد اثاثوں کا 25 فیصد بھی نہیں دیا جائے گا۔
مذاکرات تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے سے مشروط ہوں گے۔ دوسری جانب ایران کی جانب سے پیش کی گئی پانچ شرائط میں تمام محاذوں خاص طور پر لبنان میں جنگ کا خاتمہ، ایران پر پابندیوں کا خاتمہ، ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی، ایران کو جنگی ہرجانے کی ادائیگی، آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کو تسلیم کرنا شامل ہے۔
تہران نے امریکی فریق کی جانب سے پاکستانی ثالث کے ذریعے موصول ہونے والی تجاویز کے بعد گزشتہ رات اپنا مؤقف پاکستانی حکام تک پہنچا دیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق امریکہ نے ایرانی تجاویز کے جواب میں کوئی ٹھوس رعایت نہیں دی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا ایران کو جلدی کرنا ہو گی ورنہ ان کیلئے کچھ نہیں بچے گا۔ ایران کیلئے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک تصویر جاری کی ہے جس میں وہ اپنے ملک کے ایک فوجی کمانڈر کے ساتھ دکھائی دے رہے ہیں اور اس پر لکھا ہوا ہے ’طوفان سے پہلے کی خاموشی۔‘
اس تصویر میں ٹرمپ کو ایک جنگی بحری جہاز پر کھڑا دکھایا گیا ہے ٹرمپ نے امریکہ کو پھر سے عظیم بنانے کے الفاظ کی حامل کیپ پہنی ہوئی ہے۔
ایرانی مسلح افواج کے ترجمان ابوالفضل شکارچی نے کہا دوبارہ حملے کی صورت میں ایران کا ردِعمل زیادہ جارحانہ، حیران کن اور طوفانی ہوگا۔ ایران پر مسلط کی گئی تیسری جنگ میں امریکہ کی رسوائی کی تلافی کیلئے کسی بھی احمقانہ کارروائی کا نتیجہ مزید تباہ کن اور شدید حملوں کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
ایرانی اسپیکر باقر قالیباف نے کہا عالمی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں میں ایران مزید تیزی لانے کا باعث بن رہا ہے اور مستقبل گلوبل ساؤتھ کا ہی ہے۔ دنیا ایک نئے دور کی جانب بڑھ رہی ہے۔
متحدہ عرب امارات کی ریاست ابوظہبی کے حکام کا کہنا ہے کہ ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں الظفرہ ریجن میں براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے اندرونی حصار کے باہر موجود ایک بجلی کے جنریٹر میں آگ بھرک اٹھی۔
کسی کے زخمی یا ہلاک ہونے ہونے کی اطلاع نہیں اور نہ ہی کسی قسم کی تابکاری کی اطلاع ہے۔ ویانا میں روس کے مندوب نے اولیانوون میخائل نے کہا ایران پر دوبارہ حملے شروع کرنے کا مطلب ہوگا امریکہ اور اسرائیل نے ماضی کی غلطیوں سے کچھ نہیں سیکھا، آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے مکمل جنگ بندی کی جائے۔
ایران کل منگل سے اپنی سٹاک مارکیٹ دوبارہ کھولے گا۔امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار ایلن آئر نے کہا کہ آبنائے ہرمز جتنے زیادہ دن بند رہے گی، اس کے معاشی اثرات اتنے ہی سنگین ہوتے جائیں گے۔