مکہ دفاعی اتحاد کے ہنگامی اجلاس میں ترکیہ اور پاکستان نے اپنی افواج فوری سعودی عرب بھیجنے کا فیصلہ کرلیا۔
دفتر خارجہ سے جاری اعلامیہ کے مطابق سعودی عرب کو درپیش سیکیورٹی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیر کو ریاض میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم تزویراتی سیاسی و دفاعی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے حکام نے شرکت کی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی ہنگامی اجلاس میں شرکت کی، اجلاس نے لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود (ر) ہلالِ امتیاز (ملٹری) کی مکہ الائنس فار ڈیفنس کے پہلے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے نامزدگی کی توثیق کی۔
ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں مقدس شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں اور برادر ملک سعودی عرب کے خلاف جاری حملوں کی شدید مذمت کی گئی۔ تینوں ممالک نے خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور علاقائی امن و استحکام کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
اجلاس کے دوران پاکستان نے برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مملکت کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ پاکستان نے خطے میں پائیدار امن و استحکام کے حصول کے لیے ہر ممکن کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
مکہ دفاعی اتحاد کی اسٹریٹجک، سیاسی اور دفاعی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد جاری مشترکہ بیان کے مطابق کمیٹی نے اجتماعی دفاعی وعدوں پر فوری طور پر عملی اقدامات شروع کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے مشترکہ عسکری افواج و صلاحیتوں کی فراہمی اور مملکت میں فوری تعیناتی کا فیصلہ کیا ہے۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کی شقوں کے مطابق سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے تینوں ممالک کے اتحاد اور عزم کی تصدیق ہے۔ طے شدہ فوجی دستے اورمطلوبہ صلاحیتیں فراہم کرنے اورانہیں سعودی عرب میں تیزی سے تعینات کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
دفتر خارجہ سے جاری اعلامیے کے مطابق کمیٹی میں اجلاس سے قبل سیاسی اور عسکری مشاورت کے نتائج کا جائزہ جبکہ پیش کردہ سفارشات کی منظوری لی گئی۔ اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ‘مکہ دفاعی اتحاد’ اجتماعی دفاع اور خطرات کا مقابلہ کرنے کے پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق مشترکہ دفاعی اقدامات منظور شدہ طریقہ کار اور فریقین کے قومی قوانین کے مطابق ہوں گے جبکہ اقدامات سے تیاری، عسکری انضمام اور خطرات کا مقابلہ کرنے کی اجتماعی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
ترجمان دفترخارجہ کے مطابق معاہدے کے تحت ہر فریق کی سلامتی تینوں ممالک کی اجتماعی سلامتی کا اٹوٹ حصہ ہے جبکہ مشترکہ دفاع کے لیے مکہ معاہدے‘ کو عملی اقدامات میں ڈھالنا اجتماعی دفاع کے عزم کا ثبوت ہے۔