برصغیر کی عظیم وقدیم دینی درس گاہ جامعہ فتحیہ ذیلدار روڈ، اچھرہ حافظ نعیم الرحمان کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ وزیراعظم اور صدر ایران کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، امن کوششوں پر ایک گھنٹے تک تفصیلی تبادلہ خیال زمین کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ اور کلیدی ذمہ داری ہے، وزیراعظم صرف جنگ بندی کافی نہیں، خلیجی ممالک کا امریکا سے نیا مطالبہ سامنے آگیا راولپنڈیز کا ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ بار بار جمائی لینا صحت کےلیے کس خطرے کی علامت ہے؟ ماہرین کی اہم وارننگ اسکاٹ لینڈ کے ساحل سے ملنے والا بوتل میں بند پیغام خلا سے سمندری تہہ کی پہلی جھلک، ناسا نے نیا نقشہ جاری کر دیا ایران میں فوجی بھیجنے کی ضرورت نہیں، جنگ مہینوں نہیں بلکہ ہفتوں میں ختم ہوگی، مارکو روبیو برصغیر کی عظیم وقدیم دینی درس گاہ جامعہ فتحیہ ذیلدار روڈ، اچھرہ حافظ نعیم الرحمان کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ وزیراعظم اور صدر ایران کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، امن کوششوں پر ایک گھنٹے تک تفصیلی تبادلہ خیال زمین کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ اور کلیدی ذمہ داری ہے، وزیراعظم صرف جنگ بندی کافی نہیں، خلیجی ممالک کا امریکا سے نیا مطالبہ سامنے آگیا راولپنڈیز کا ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ بار بار جمائی لینا صحت کےلیے کس خطرے کی علامت ہے؟ ماہرین کی اہم وارننگ اسکاٹ لینڈ کے ساحل سے ملنے والا بوتل میں بند پیغام خلا سے سمندری تہہ کی پہلی جھلک، ناسا نے نیا نقشہ جاری کر دیا ایران میں فوجی بھیجنے کی ضرورت نہیں، جنگ مہینوں نہیں بلکہ ہفتوں میں ختم ہوگی، مارکو روبیو
برصغیر کی عظیم وقدیم دینی درس گاہ جامعہ فتحیہ ذیلدار روڈ، اچھرہ حافظ نعیم الرحمان کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ وزیراعظم اور صدر ایران کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، امن کوششوں پر ایک گھنٹے تک تفصیلی تبادلہ خیال زمین کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ اور کلیدی ذمہ داری ہے، وزیراعظم صرف جنگ بندی کافی نہیں، خلیجی ممالک کا امریکا سے نیا مطالبہ سامنے آگیا راولپنڈیز کا ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ بار بار جمائی لینا صحت کےلیے کس خطرے کی علامت ہے؟ ماہرین کی اہم وارننگ اسکاٹ لینڈ کے ساحل سے ملنے والا بوتل میں بند پیغام خلا سے سمندری تہہ کی پہلی جھلک، ناسا نے نیا نقشہ جاری کر دیا ایران میں فوجی بھیجنے کی ضرورت نہیں، جنگ مہینوں نہیں بلکہ ہفتوں میں ختم ہوگی، مارکو روبیو برصغیر کی عظیم وقدیم دینی درس گاہ جامعہ فتحیہ ذیلدار روڈ، اچھرہ حافظ نعیم الرحمان کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ وزیراعظم اور صدر ایران کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، امن کوششوں پر ایک گھنٹے تک تفصیلی تبادلہ خیال زمین کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ اور کلیدی ذمہ داری ہے، وزیراعظم صرف جنگ بندی کافی نہیں، خلیجی ممالک کا امریکا سے نیا مطالبہ سامنے آگیا راولپنڈیز کا ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ بار بار جمائی لینا صحت کےلیے کس خطرے کی علامت ہے؟ ماہرین کی اہم وارننگ اسکاٹ لینڈ کے ساحل سے ملنے والا بوتل میں بند پیغام خلا سے سمندری تہہ کی پہلی جھلک، ناسا نے نیا نقشہ جاری کر دیا ایران میں فوجی بھیجنے کی ضرورت نہیں، جنگ مہینوں نہیں بلکہ ہفتوں میں ختم ہوگی، مارکو روبیو

برصغیر کی عظیم وقدیم دینی درس گاہ جامعہ فتحیہ ذیلدار روڈ، اچھرہ

Link copied!
برصغیر کی عظیم وقدیم دینی درس گاہ جامعہ فتحیہ ذیلدار روڈ، اچھرہ

کالم : قاری محمد قاسم بلوچ

لاہور میں بھی دیگر مدارس کی طرح دو ماہ کی تعطیلات کے بعدنئے تعلیمی سال کا آغاز ہو گیا۔ داخلوں کے حوالے سے تمام امور کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ ہر سال کی طرح امسال بھی طلبہ کی بڑی تعداد جامعہ فتحیہ اور دیگر مدارس کارخ کر رہی ہے۔ مدارس میں10 شوال سے داخلے شروع ہونے کے بعد مدارس کی رونقیں لوٹ آئیں۔ داخلے کے بعد جلد باقاعدہ اسباق کا آغاز ہوجائے گا۔
دینی مدارس جہاں اسلام کے قلعے، ہدایت کے سرچشمے، دین کی پناہ گاہیں اور اشاعتِ دین کا بہت بڑا ذریعہ ہیں، وہاں یہ دنیا کی سب سے بڑی این جی اوز بھی ہیں، جو لاکھوں طلبہ وطالبات کو بلا معاوضہ تعلیم وتربیت کے زیور سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں رہائش وخوراک اور مفت طبی سہولیات بھی فراہم کرتے ہیں۔ دینی مدارس کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے، جتنا کہ دینِ اسلام۔ سیکھنے سکھانے کے عمل کا آغاز پہلی وحی’’اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّـذِىْ خَلَقَ‘‘ سے شروع ہوکر مکہ مکرمہ میں دار ارقم اور مدینہ منورہ میں مدرسہ صفہ تک جا پہنچا، جہاں معلمِ انسانیت حضرت محمدﷺ نے صحابۂ کرامؓ کی ایک ایسی جماعت تیار کی جس نے دنیا پر اسلام کے پرچم کو لہرایا۔ یہ ایسے مدارس تھے، جہاں پر آقا ﷺ تزکیۂ نفس اور کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے نظر آتے اور صحابہ کرام ؓیہاں اپنی علمی پیاس بجھاتے۔ یہ سلسلہ چلتے چلتے مختلف ادوار میں مختلف انداز میں قائم رہا۔
برصغیر پاک وہند میں انگریز کے قابض ہونے سے قبل انہی دینی مدارس میں تمام علوم وفنون پڑھائے جاتے تھے۔انگریز سامراج کے قبضے کے بعد مدارس ختم کردئیے گئے، جس کا مقصد مسلمانوں کو دین سے دور کرنا اور ان کی تہذیب وتمدن کو ختم کرنا تھا۔ ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندوں سے یہ کام لیا، جنہوں نے از سر نو دینی مدارس قائم کرکے طاغوت کے سامنے بند باندھا۔ یہ وہی دَور ہے، جب1866ء میں برصغیر کی عظیم علمی، روحانی و دینی درس گاہ دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی گئی اور نو سال کے بعد1875 ء میں برصغیر پاک وہند کی عظیم وقدیم دینی درس گاہ جامعہ فتحیہ ذیلدار روڈ، اچھرہ، لاہورکا قیام عمل میں آیا۔ جامعہ فتحیہ دینی درس گاہوں کے اس مقدس سلسلے کی ایک کڑی ہے، جو برصغیر میں اللہ کے کچھ نیک بندوں نے انگریزی استعمار کی تاریک رات میں دین کی شمعیں روشن رکھنے کےلیے قائم کیا تھا۔ اس کی بنیاد رکھنے والے اس دور کی وہ عظیم ہستیاں تھیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے علم وتقویٰ کے ساتھ ساتھ دنیا کی دولت سے بھی مالا مال کیا تھااور خرچ کرنے کا حوصلہ بھی عطا کیا۔ جامعہ فتحیہ خانوادۂ مخدومان پنجاب کے آخری چشم وچراغ شاہ عبدالرسول قصوری، جن کے خاندان سے حضرت بابا بلھے شاہ ؒ نے بھی فیض پایاکی بشارت پر کہ میں یہاں پر علم وعرفان کے چشمے پھوٹتے دیکھ رہا ہوں، ان کے مرید خاص میاں امام الدین ؒ نے اپنے قابل فخر بیٹے حافظ فتح محمد کے نام پر قائم کیا۔ بانیان کے اخلاص کی بدولت اللہ تعالیٰ نے جامعہ فتحیہ کو یہ اعزاز بخشا کہ یہ مدرسہ مدارس اسلامیہ میں تعلیمی معیار کے لحاظ سے برصغیر میں سرفہرست سمجھا جاتا ہے، یہی وجہ تھی کہ پاکستان بننے سے قبل جامعہ فتحیہ سے فراغت کے بعد جو طلبہ دارالعلوم دیوبند میں داخلے کے لیے جاتے، ان کا ٹیسٹ نہیں لیا جاتا تھا اور وہیں کے شیخ الادب مولانا اعزاز علی ؒ جامعہ فتحیہ میں طلبہ کا امتحان لیا کرتے تھے۔ یہاں سے تعلیم وتربیت حاصل کرنے والے پوری دنیا میں دینی وملّی خدمات میں پیش پیش ہیں، حافظ فتح محمد بچپن میں ظاہری بینائی سے محروم ہوگئے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے باطنی بصارت میں انہیں خوب نوازا اور علم لدنی عطا فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے قرآن وحدیث کی خدمت کے ساتھ ساتھ لوگوں کے تزکیۂ نفس کا کام بھی لیا، بڑے بڑے اولیاء اللہ نے آپ سے روحانی فیض حاصل کیا۔ جامعہ فتحیہ میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ حکمت، خطاطی، جِلد سازی کے ہنر بھی سکھائے جاتے رہے ہیں۔ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ جدید دور کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے شعبۂ تحفیظ القرآن مع انگلش میڈیم اسکول سسٹم، شعبۂ تجویدوقرأت، درسِ نظامی دورہ حدیث تک،اوران تمام طلبہ کے لیے عصری تعلیم پرائمری سے ایم اے تک اور اس کے علاوہ مائیکرو سوفٹ ورڈ،مائیکرو سوفٹ ایکسل، اِن پیج، ٹائپنگ (اردو، انگلش)، گرافک ڈیزائننگ، ویڈیو ایڈیٹنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور دیگر اہم کمپیوٹر کورسز کروائے جارہے ہیں۔
جامعہ فتحیہ پاکستان میں علوم دینیہ کا عظیم مرکز ہے، جہاں سے ہزاروں علماء، فضلا، محدث، مفسّر، فقیہ وادیب، زہادواتقیاء اور مبلغینِ اسلام کی جماعتیں تیار کرکے ہرلمحہ دین کی حفاظت واشاعت میں نمایاں حصہ لیا۔ یہ مرکز علم وحکمت اس مادی دنیا میں ایک روشن مینار ہے، جس کی شعاعیں اکنافِ عالم میں پھیل رہی ہیں۔ جامعہ فتحیہ کی انتظامیہ کی عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے خدمات کو سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ مہتمم اول میاں قمر الدینؒ، مہتمم دوم، مولانا میاں محمد اسلم جان نقشبندی مجددیؒ، مہتمم سوم میاں محمد سلمان ؒجوکہ صاحب نسبت بزرگ علم وعمل کے پیکر اور تقوی کے اعلی مقام پر فائز تھے اور اب ان کے جانشین مہتمم چہارم ممبر قومی اسمبلی حافظ میاں محمد نعمان کے دور اہتمام اور میاں محمد عفان کی نظامت میں جامعہ فتحیہ کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق شان دار عمارت اور دینی وعصری علوم کے حسین امتزاج نے جامعہ کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچادیا ہے۔ جس کی وجہ سے طلبہ کی بڑی تعداد تعلیم وتربیت کے لیے جامعہ فتحیہ کو ترجیح دیتی ہے، اس میں خاص بات یہ ہے کہ روز اول سے اب تک اہتمام کی سعادت اسی خاندان کے پاس ہے، جامعہ کی لائبریری جو کہ نادر ونایاب کتب پر مشتمل ہے، اس میں دو سو پچاس سے زائد مخطوطات، پچاس سے زائد قلمی قرآن پاک، ہیں، 724ہجری میں لکھا گیا قدیم ترین مخطوط تفسیر کشاف کے نسخے سمیت تین ہزار قدیم مطبوعات موجود ہیں۔
ماضی قریب میں مدارس دینیہ نے اس عظیم امانت کی حفاظت اور اس قابل صد فخر وراثت کو اگلی نسلوں تک منتقل کرنے میں جو نمایاں کردار ادا کیا ہے، وہ ہماری علمی وثقافتی تاریخ کا ایک زریں باب ہے، کفر وشرک کے گھٹاٹوپ اندھیرے اور مذہب بےزاری کے اس ماحول میں اسلامی تہذیب و ثقافت اور دینی اقدار وعبادات کے جو روشن آثار نظر آرہے ہیں، وہ ان ہی دینی درس گاہوں کی خدمات کا ثمر ہے۔
جامعہ کے صدر ممبر قومی اسمبلی حافظ میاں محمد نعمان نے اپنے پیغام میں میں کہا کہ تعلیم شعور وآگاہی بخشتی ہے، جہالت کی تاریکیوں کو ختم کرتی ہے، ترقی کی شاہراؤں کو روشن کرتی ہے، جن پر چل کر قومیں باوقار زندگی گزارنے کے قابل ہوتی ہیں۔ تربیت ان اخلاقی اقدار کو پروان چڑھاتی ہیں، جو انسانیت کی قدر، ایثاروقربانی، صبر و تحمل، جود وسخا، فراخ دلی، رواداری اور غیرت وحمیت جیسے اوصاف پیدا کرتی ہے، جس قوم کے افراد کی تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کابھی اہتمام ہوتاہے۔ وہی قوم اس قابل ہوتی ہے کہ اقوام عالم کی قیادت کا فریضہ انجام دے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو نہ صرف حصولِ علم کی ترغیب دی، بلکہ اعلیٰ اخلاقی اقدار اپنانے کا بھی درس دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Link copied!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *