بین الاقوامی جوہری نگران ادارے آئی اے ای اے نے ایران کے علاقے خُنداب میں قائم جوہری تنصیب پر حملے کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی تصدیق کر دی ہے۔
آئی اے ای اے کے مطابق ایران نے 27 مارچ کو خُنداب میں حملے کی اطلاع دی تھی۔
ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرہ پلانٹ اس وقت غیر فعال ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس تنصیب میں کوئی اعلان شدہ جوہری مواد موجود نہیں تھا، جس سے بڑے جوہری خطرے کے امکانات کم ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آئی اے ای اے کے ماہرین کو چاہیے کہ وہ امریکی صدر ٹرمپ کو زمینی حقائق سے آگاہ کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے اندر بھی عوام اسرائیل کے بیانیے پر ناراض دکھائی دیتے ہیں۔
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ امریکی عوام ان پالیسیوں سے تنگ آ چکے ہیں جن کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ اسرائیلی اثر و رسوخ کے تحت بنائی جا رہی ہیں۔ ان کے بقول موجودہ صورتحال نے عالمی سطح پر سیاسی اور سفارتی تناؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خُنداب تنصیب پر حملے اور اس کے بعد آنے والے بیانات خطے میں جاری کشیدگی کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں، تاہم آئی اے ای اے کی رپورٹ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ فوری طور پر کسی بڑے جوہری حادثے کا خطرہ نہیں ہے۔