امریکا کا قومی قرض صرف دو ماہ کے دوران تقریباً 400 ارب ڈالر بڑھ کر 40.4 ٹریلین ڈالر کے قریب پہنچ گیا جس سے دنیا کی سب سے بڑی معیشت کو درپیش مالیاتی دباؤ اور حکومتی اخراجات کے استحکام پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
روسی خبر رساں ادارے تاس کے مطابق امریکی محکمہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ امریکی قومی قرض 19 اگست 2026 کو 40 ٹریلین ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچا تھا جس کے بعد اس میں مزید تقریباً ایک فیصد اضافہ ہوا۔
پیٹرسن انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل اکنامکس کے مطابق اگر حکومتی اخراجات یا ٹیکسوں کے نظام میں اصلاحات نہ کی گئیں تو امریکی قومی قرض آئندہ چھ برس میں 50 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
معاشی ماہرین کے لیے اصل تشویش صرف قرض کی ریکارڈ سطح نہیں بلکہ اس کی رفتار سے بڑھتی ہوئی سود کی ادائیگیاں بھی ہیں۔
قرض پر زیادہ رقم خرچ ہونے سے دفاع، صحت، سماجی بہبود اور دیگر شعبوں کے لیے دستیاب مالی گنجائش محدود ہوسکتی ہے، جبکہ بلند شرح سود کی صورت میں نئے قرض کا حصول مزید مہنگا پڑ سکتا ہے۔