ایک زمانہ تھا جب دنیا بھر میں یہ کہا جاتا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل ہر بحران کے پیچھے سازش کرتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ ہو، کسی ملک میں عدم استحکام پیدا ہو، یا خطے میں خونریزی کی نئی آگ بھڑکے، انگلیاں واشنگٹن اور تل ابیب کی طرف اٹھتی تھیں۔ لیکن وقت کا پلٹنا دیکھیے کہ اب وہی امریکہ اور اسرائیل پاکستان پر “سازش” کے الزامات لگا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیا ہوگیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پاکستان کے خلاف زہر اگلنے پر مجبور ہوگیا؟ کیوں امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس ایک ایسی کہانی گھڑتا ہے جس کا نہ کوئی ثبوت ہے، نہ کوئی منطقی جواز؟ اور کیوں امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کانگریس کی سماعت میں پاکستان کی ثالثی پر حملہ آور ہوتا دکھائی دیتا ہے؟کیا یہ سب اتفاق ہے ؟ نہیں، قطعا ً نہیں۔ واقعات کا تسلسل، بیانات کی ساخت اور پروپیگنڈے کا انداز صاف بتاتا ہے کہ پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار نے کچھ طاقتوں کو بے چین کردیا ہے۔
سی بی ایس کی رپورٹ نے نور خان ایئربیس پر ایرانی طیاروں کی موجودگی کو اس انداز میں پیش کیا جیسے پاکستان کسی خفیہ عسکری کھیل کا حصہ بن گیا ہو۔ حقیقت مگر اس سے یکسر مختلف ہے۔ جنگ بندی کے بعد، اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کے دوران امریکہ اور ایران دونوں کے وفود پاکستان آئے۔ ان وفود کے ساتھ آنے والے طیارے، عملہ اور سیکیورٹی انتظامات نور خان ایئربیس پر موجود رہے۔ کچھ ایرانی طیارے بعد کے مذاکراتی مراحل کی توقع میں وہیں رکے رہے۔ اسی طرح امریکی ٹیموں کے طیارے بھی کچھ عرصہ موجود رہے اور بعد میں علاقائی امریکی اڈوں پر منتقل کردیئے گئے۔یہ کوئی خفیہ معاملہ نہیں تھا۔ پاکستان دونوں فریقوں کے ساتھ مکمل شفافیت کے ساتھ ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا۔ نہ کوئی خفیہ عسکری اتحاد بنا، نہ کسی جنگی کارروائی میں شمولیت ہوئی۔ ایرانی طیارے جنگ بندی کے دوران موجود تھے، نہ کہ فعال جنگ کے دوران۔ اور خود امریکہ نے بھی جنگ بندی کے دوران ایران کے اندر کسی ایرانی طیارے کو نشانہ نہیں بنایا۔ اس کے باوجود سی بی ایس نے اس معمول کی سفارتی اور لاجسٹک سرگرمی کو ایک خوفناک سازشی رنگ دے کر پیش کیا۔
سوال یہ ہے کہ کیوں؟جواب اسی وقت سامنے آجاتا ہے جب ہم نیتن یاہو کے حالیہ بیانات کو دیکھتے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نے الزام لگایا کہ پاکستانی سوشل میڈیا اسرائیل کے خلاف مہم چلا رہا ہے اور امریکہ و اسرائیل کے تعلقات خراب کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ یہ بیان محض ایک شکایت نہیں بلکہ ایک نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے۔ اسرائیل جانتا ہے کہ غزہ کی تباہی، فلسطینی بچوں کے قتلِ عام اور مشرقِ وسطیٰ میں مسلسل جنگی پالیسیوں کے خلاف دنیا بھر میں نفرت بڑھ رہی ہے۔ پاکستان میں عوامی سطح پر فلسطین کے حق میں جو شدید جذبات موجود ہیں، صرف وہ ہی اسرائیل کے لیے ناقابلِ برداشت تھے ، اب جب پاکستان عالم اسلام کے اتحاد کی علامت بن کر سامنے آرہا ہے، جب پاکستان کے کردار کی وجہ سے اسرائیل ایران اور عربوں کو باہم لڑانے میں ناکام ہوچکا ہے ، جب اس اس کی سازشیں الٹ رہا ہے ، تو وہ برداشت کیسے کرے ؟اسی پس منظر میں امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کا بیان سامنے آتا ہے۔ کانگریس کی سماعت کے دوران اس نے پاکستان کو “نامناسب ثالث” قرار دینے کی کوشش کی۔ سوال یہ ہے کہ آخر پاکستان کی ثالثی سے اتنی تکلیف کیوں؟ اگر پاکستان واقعی غیر اہم ہے تو پھر واشنگٹن اور تل ابیب دونوں اس کے خلاف اتنے متحرک کیوں ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان پہلی بار صرف ایک علاقائی ریاست نہیں بلکہ ایک مؤثر سفارتی قوت کے طور پر ابھرتا دکھائی دے رہا ہے۔یہ وہ پاکستان نہیں جو صرف امداد کے لیے دروازے کھٹکھٹاتا تھا۔ یہ وہ پاکستان ہے جو ایران اور امریکہ جیسے دشمن فریقوں کے درمیان رابطے کا پل بننے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو امریکی صدر کو ایران پر حملے سے روک سکتا ہے ، سعودی عرب کو ایران کو جواب دینےا ور ایران کو سعودی عرب کے خلاف کارروائی سے روک سکتا ہے ، یہی چیز صہیونی لابی اور اس کے حامی حلقوں کو ہضم نہیں ہورہی۔اس پوری مہم میں ایک اور خطرناک پہلو بھی موجود ہے۔ جب میڈیا، سیاسی بیانات اور سفارتی دباؤ ایک ہی سمت میں چلنے لگیں تو یہ محض اتفاق نہیں رہتا۔ یہ ایک منظم بیانیہ بنتا ہے۔ پہلے شک پیدا کیا جاتا ہے، پھر اس کی نیت پر سوال اٹھایا جاتا ہے، پھر اسے عالمی امن کے لیے خطرہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہی طریقہ عراق، لیبیا اور کئی دوسرے ممالک کے خلاف استعمال کیا گیا تھا۔
یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا معاملہ صرف بیانات تک محدود رہے گا؟ تاریخ کہتی ہے کہ صہیونی سیاست صرف لفظوں پر اکتفا نہیں کرتی۔ خطرہ یہ ہے کہ اسرائیل اور بھارت مل کر پاکستان کے خلاف کوئی نئی سازش ترتیب دے سکتے ہیں۔ کوئی فالس فلیگ آپریشن، کوئی دہشت گرد حملہ، کوئی سرحدی اشتعال انگیزی، یا کوئی ایسی گھٹیا حرکت جس کا مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنا ہو۔خطے کی موجودہ صورتحال میں یہ خدشات غیر حقیقی نہیں۔ بھارت پہلے ہی پاکستان کے خلاف ہائبرڈ وار، میڈیا وار اور سفارتی محاذ پر سرگرم ہے۔ اسرائیل کے ساتھ اس کے تعلقات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ دونوں ریاستوں کے درمیان عسکری، انٹیلی جنس اور ٹیکنالوجی تعاون مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں اگر پاکستان کے خلاف کوئی مشترکہ پروپیگنڈا یا خفیہ کارروائی سامنے آئے تو حیرت نہیں ہونی چاہیے۔یہ تمام صورتحال اس امر کی دلیل ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششیں اثر دکھا رہی ہیں۔ اگر پاکستان واقعی غیر مؤثر ہوتا تو نہ اسرائیلی وزیراعظم اس کا نام لیتا، نہ امریکی سینیٹر کانگریس میں اس پر حملہ کرتا، نہ امریکی میڈیا اس کے خلاف کہانیاں گھڑنے میں مصروف ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے ایک ایسے وقت میں امن، مذاکرات اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کی بات کی ہے جب دنیا کو جنگ کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔
صہیونیت کی پوری سیاست خوف، جنگ اور عدم استحکام پر کھڑی ہے۔ اسے ایسے کسی بھی کردار سے نفرت ہے جو مذاکرات، امن اور ثالثی کی بات کرے۔ پاکستان آج اسی جرم کا مرتکب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے خلاف پروپیگنڈے کی نئی لہر چلائی جارہی ہے۔اب سوال صرف سفارت کاری کا نہیں رہا۔ معاملہ قومی سلامتی، قومی وحدت اور ریاستی استحکام تک پہنچ چکا ہے۔ جب دشمن کھل کر سامنے آچکا ہے تو داخلی انتشار، سیاسی تقسیم اور ریاستی کمزوری کی باتیں دشمن کے ایجنڈے کو ہی مضبوط کریں گی۔ ایسے وقت میں قومی یکجہتی ہی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔پاکستان کے خلاف یہ شور دراصل ایک اعتراف ہے۔ اعتراف اس بات کا کہ پاکستان اب صرف ایک تماشائی نہیں رہا بلکہ عالمی سیاست کے حساس ترین مرحلے میں ایک اہم کردار ادا کررہا ہے۔ اور یہی وہ حقیقت ہے جس نے تل ابیب سے واشنگٹن تک کچھ حلقوں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔