امریکی ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپ ٹورنایول (Tornaivol) نے ایسے جدید مائیکرو ڈرونز تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو فضا میں اڑتے ہوئے کیڑوں کا تعاقب کرکے انہیں نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کمپنی کے مطابق مصنوعی ذہانت سے لیس یہ ننھے ڈرون مستقبل میں مچھروں کے خاتمے کے لیے کم خرچ اور مؤثر متبادل ثابت ہو سکتے ہیں۔
کمپنی کے مطابق اس کا ہدف صرف 40 گرام وزنی ایسے ڈرون تیار کرنا ہے جو اسمارٹ فون میں استعمال ہونے والے مائیکروفونز، الٹراسونک سینسرز اور جدید سافٹ ویئر کی مدد سے مچھروں کی درست شناخت کر سکیں۔ یہ ڈرون الٹراسونک لہریں خارج کرتے ہیں اور ان کی بازگشت کا تجزیہ کرتے ہیں، جبکہ مچھروں کے پروں کی حرکت سے پیدا ہونے والی مخصوص ڈوپلر آواز کی بنیاد پر انہیں دیگر اڑنے والے کیڑوں سے الگ پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ٹورنایول کے انجینئرز الیکس توسان اور کلوویس پیڈالو کا کہنا ہے کہ ان کی خواہش ہے کہ مستقبل میں ایسے مائیکرو ڈرونز کے غول بڑے شہروں میں مچھروں کی آبادی پر قابو پانے کے لیے استعمال کیے جائیں۔ ان کے مطابق صرف 10 چھوٹے ڈرون ایک مربع کلومیٹر کے علاقے میں خون چوسنے والے مچھروں کا مؤثر انداز میں خاتمہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے، جس سے صحت عامہ کے شعبے میں بھی مثبت نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔