آزاد کشمیر کا الیکشن: جمہوریت کا امتحان یا بیانیوں کی جنگ؟ امریکا: کم وقت میں بند آنکھوں سے روبک حل کرنے کا ریکارڈ گوگل نے اپنی ارتھ سروس سے متنازع فیچر واپس لے لیا برآمدات بڑھانے کیلیے حکومت کا 255 ارب پیکیج کا اعلان پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں انوکھا واقعہ، پانچ وکٹیں لینے والے بولر کو ہی ڈراپ کردیا کراچی: جناح اسپتال میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کیلئے جدید سینٹر کا افتتاح آبنائے ہرمز میں یونانی ایل این جی ٹینکر کو پراسرار ’حادثہ‘، کمپنی کا اہم بیان سامنے آگیا روس اور یوکرین میں خونریز حملے، 14 افراد ہلاک، جنگ مزید شدت اختیار کر گئی لوگوں کو مارنے کے بجائے معاہدہ کرنا پسند ہے، ایران سے مذاکرات آج ہوں گے، صدر ٹرمپ محسن نقوی اتنے طاقتور وزیر ہیں جو کئی معاملات میں وزیراعظم کو بھی جوابدہ نہیں، خواجہ آصف آزاد کشمیر کا الیکشن: جمہوریت کا امتحان یا بیانیوں کی جنگ؟ امریکا: کم وقت میں بند آنکھوں سے روبک حل کرنے کا ریکارڈ گوگل نے اپنی ارتھ سروس سے متنازع فیچر واپس لے لیا برآمدات بڑھانے کیلیے حکومت کا 255 ارب پیکیج کا اعلان پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں انوکھا واقعہ، پانچ وکٹیں لینے والے بولر کو ہی ڈراپ کردیا کراچی: جناح اسپتال میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کیلئے جدید سینٹر کا افتتاح آبنائے ہرمز میں یونانی ایل این جی ٹینکر کو پراسرار ’حادثہ‘، کمپنی کا اہم بیان سامنے آگیا روس اور یوکرین میں خونریز حملے، 14 افراد ہلاک، جنگ مزید شدت اختیار کر گئی لوگوں کو مارنے کے بجائے معاہدہ کرنا پسند ہے، ایران سے مذاکرات آج ہوں گے، صدر ٹرمپ محسن نقوی اتنے طاقتور وزیر ہیں جو کئی معاملات میں وزیراعظم کو بھی جوابدہ نہیں، خواجہ آصف
آزاد کشمیر کا الیکشن: جمہوریت کا امتحان یا بیانیوں کی جنگ؟ امریکا: کم وقت میں بند آنکھوں سے روبک حل کرنے کا ریکارڈ گوگل نے اپنی ارتھ سروس سے متنازع فیچر واپس لے لیا برآمدات بڑھانے کیلیے حکومت کا 255 ارب پیکیج کا اعلان پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں انوکھا واقعہ، پانچ وکٹیں لینے والے بولر کو ہی ڈراپ کردیا کراچی: جناح اسپتال میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کیلئے جدید سینٹر کا افتتاح آبنائے ہرمز میں یونانی ایل این جی ٹینکر کو پراسرار ’حادثہ‘، کمپنی کا اہم بیان سامنے آگیا روس اور یوکرین میں خونریز حملے، 14 افراد ہلاک، جنگ مزید شدت اختیار کر گئی لوگوں کو مارنے کے بجائے معاہدہ کرنا پسند ہے، ایران سے مذاکرات آج ہوں گے، صدر ٹرمپ محسن نقوی اتنے طاقتور وزیر ہیں جو کئی معاملات میں وزیراعظم کو بھی جوابدہ نہیں، خواجہ آصف آزاد کشمیر کا الیکشن: جمہوریت کا امتحان یا بیانیوں کی جنگ؟ امریکا: کم وقت میں بند آنکھوں سے روبک حل کرنے کا ریکارڈ گوگل نے اپنی ارتھ سروس سے متنازع فیچر واپس لے لیا برآمدات بڑھانے کیلیے حکومت کا 255 ارب پیکیج کا اعلان پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں انوکھا واقعہ، پانچ وکٹیں لینے والے بولر کو ہی ڈراپ کردیا کراچی: جناح اسپتال میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کیلئے جدید سینٹر کا افتتاح آبنائے ہرمز میں یونانی ایل این جی ٹینکر کو پراسرار ’حادثہ‘، کمپنی کا اہم بیان سامنے آگیا روس اور یوکرین میں خونریز حملے، 14 افراد ہلاک، جنگ مزید شدت اختیار کر گئی لوگوں کو مارنے کے بجائے معاہدہ کرنا پسند ہے، ایران سے مذاکرات آج ہوں گے، صدر ٹرمپ محسن نقوی اتنے طاقتور وزیر ہیں جو کئی معاملات میں وزیراعظم کو بھی جوابدہ نہیں، خواجہ آصف

آزاد کشمیر کا الیکشن: جمہوریت کا امتحان یا بیانیوں کی جنگ؟

Link copied!

آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا کہ یہ خطہ صرف انتخابی سیاست کا نہیں بلکہ ریاستی استحکام، عوامی اعتماد اور سیاسی بیانیوں کی کشمکش کا بھی مرکز بن چکا ہے۔ اس بار انتخابی نتائج سے زیادہ انتخابی عمل، دھاندلی کے الزامات، احتجاجی سیاست اور امن و امان کی صورتحال زیرِ بحث رہی۔
مسلم لیگ (ن) نے انتخابی مہم کے دوران وفاق کے ساتھ مضبوط تعلقات، ترقیاتی منصوبوں اور سیاسی استحکام کو اپنا بنیادی بیانیہ بنایا۔ ابتدائی نتائج بھی متعدد حلقوں میں اس کی برتری کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم کامیابی کے ساتھ ہی اس جماعت کو شدید سیاسی تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے نتائج سامنے آنے کے بعد متعدد حلقوں میں مسلم لیگ (ن) پر انتخابی دھاندلی، انتظامی مداخلت اور عوامی مینڈیٹ تبدیل کرنے کے الزامات عائد کیے۔ پارٹی قیادت نے بعض نشستوں پر دوبارہ پولنگ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا، جبکہ مسلم لیگ (ن) نے ان الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے انہیں سیاسی شکست کو قبول نہ کرنے کی کوشش قرار دیا۔ یوں عوام کے سامنے دو متضاد بیانیے آئے اور اصل فیصلہ آئینی و قانونی فورمز پر چھوڑ دیا گیا۔
انتخابی ماحول کا تیسرا حساس پہلو کشمیر ایکشن کمیٹی (جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی) کا کردار رہا۔ گزشتہ برسوں میں مہنگائی، بجلی کے نرخ اور عوامی حقوق کے حصول کے نام پر اس نے عوام میں مہم چلائی جسے کشمیر کے عوام جلد ہی سمجھ گئے اور پیچھے ہٹ گئے کچھ ضمیرفروش مفاد پرست اس گروہ کے ذریعے شورش پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں جنہیں الخوارج کی آشیرباد بھی حاصل ہے، لیکن حالیہ انتخابی مرحلے میں کمیٹی کے بعض عناصر نے انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے، بدامنی پھیلانے اور پرتشدد کارروائیوں کی کوشش کی، حتیٰ کہ بعض سرکاری بیانات میں بیرونی سرپرستی اور شدت پسند عناصر سے روابط کے دعوے بھی سامنے آئے۔
اس پورے منظرنامے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کشمیری عوام کیا چاہتے ہیں؟ میڈیا رپورٹس اور زمینی مشاہدات سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ عام شہری کی اولین ترجیح اقتدار کی تبدیلی نہیں بلکہ بہتر طرزِ حکمرانی، روزگار اور امن ہے۔ عوام یہ بھی چاہتے ہیں کہ انتخابی نتائج خواہ کسی کے حق میں ہوں، لیکن ان پر اعتماد قائم رہے، کیونکہ جمہوریت کی اصل طاقت ووٹ پر عوام کے یقین سے جنم لیتی ہے، صرف کامیابی کے اعلان سے نہیں۔
آزاد کشمیر کی سیاست اب ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے۔ اگر مسلم لیگ (ن) اپنی کامیابی کو عوامی خدمت میں بدلنے میں کامیاب ہوتی ہے تو اس کا سیاسی فائدہ اسی کو ہوگا۔ اگر پیپلز پارٹی اپنے دھاندلی کے الزامات کے حق میں شواہد پیش کرکے انہیں قانونی فورمز پر لے جاتی ہے توانتشاری ٹولہ عالمی سطح پر اسے اچھالے گا اور اُن کا موقف مضبوط ہوگا۔ کشمیر ایکشن کمیٹی واقعی عوامی حقوق کی نمائندہ تحریک ہے تو اسے بھی احتجاج اور سیاسی جدوجہد کو مکمل طور پر پرامن اور جمہوری دائرے میں رکھنا ہوگا، تاکہ بیرونی طاقتوں کو اپنا پاکستان مخالف بیانیہ پھیلانے کا موقع نہ ملے۔
جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ اختلاف ہو، لیکن اداروں پر اعتماد بھی برقرار رہے۔ آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات نے یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ اب عوام صرف نعروں سے مطمئن نہیں ہوں گے؛ وہ شفاف انتخاب، ذمہ دار سیاست اور نتائج دینے والی حکمرانی چاہتے ہیں۔ یہی وہ معیار ہے جس پر آنے والے دنوں میں تمام سیاسی قوتوں کو پرکھا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Link copied!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *