پنجاب کے لہو سے کھینچی گئی پاک بھارت سرحدی لکیر۔ آسٹریلیا: انجینئرز نے نظروں سے اوجھل ہونے والا ڈرون تیار کر لیا ایران سے مذاکرات جاری، جنگ جلد ختم ہوگی اور آبنائے ہرمز کھل جائے گی، ٹرمپ کا دعویٰ 60 سال سے زائد عمر کے کھلاڑی ورلڈکپ میں شرکت کیلیے روانہ انگلینڈ کے 25 سالہ فاسٹ بولر کا اچانک ریٹائرمنٹ کا اعلان محمد بن سلمان اور میکرون کا اہم ٹیلیفونک رابطہ، بحری سلامتی اور دو طرفہ تعاون پر مشاورت ’امریکا بار بار ڈرامائی سفارت کاری کر رہا ہے‘، ایران کے چیف مذاکرات کار کا ٹرمپ پر سخت تنقید ٹرمپ نے امریکی میڈیا کی خبروں کو جھوٹا پروپیگنڈا قرار دے دیا، وزیر دفاع کی بھرپور حمایت حکومت سندھ کے تعاون سے قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کیلئے گھر تعمیر کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان آج ملک بھر میں شاہراہوں پر پرامن احتجاج کیا جائے گا، لیاقت بلوچ پنجاب کے لہو سے کھینچی گئی پاک بھارت سرحدی لکیر۔ آسٹریلیا: انجینئرز نے نظروں سے اوجھل ہونے والا ڈرون تیار کر لیا ایران سے مذاکرات جاری، جنگ جلد ختم ہوگی اور آبنائے ہرمز کھل جائے گی، ٹرمپ کا دعویٰ 60 سال سے زائد عمر کے کھلاڑی ورلڈکپ میں شرکت کیلیے روانہ انگلینڈ کے 25 سالہ فاسٹ بولر کا اچانک ریٹائرمنٹ کا اعلان محمد بن سلمان اور میکرون کا اہم ٹیلیفونک رابطہ، بحری سلامتی اور دو طرفہ تعاون پر مشاورت ’امریکا بار بار ڈرامائی سفارت کاری کر رہا ہے‘، ایران کے چیف مذاکرات کار کا ٹرمپ پر سخت تنقید ٹرمپ نے امریکی میڈیا کی خبروں کو جھوٹا پروپیگنڈا قرار دے دیا، وزیر دفاع کی بھرپور حمایت حکومت سندھ کے تعاون سے قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کیلئے گھر تعمیر کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان آج ملک بھر میں شاہراہوں پر پرامن احتجاج کیا جائے گا، لیاقت بلوچ
پنجاب کے لہو سے کھینچی گئی پاک بھارت سرحدی لکیر۔ آسٹریلیا: انجینئرز نے نظروں سے اوجھل ہونے والا ڈرون تیار کر لیا ایران سے مذاکرات جاری، جنگ جلد ختم ہوگی اور آبنائے ہرمز کھل جائے گی، ٹرمپ کا دعویٰ 60 سال سے زائد عمر کے کھلاڑی ورلڈکپ میں شرکت کیلیے روانہ انگلینڈ کے 25 سالہ فاسٹ بولر کا اچانک ریٹائرمنٹ کا اعلان محمد بن سلمان اور میکرون کا اہم ٹیلیفونک رابطہ، بحری سلامتی اور دو طرفہ تعاون پر مشاورت ’امریکا بار بار ڈرامائی سفارت کاری کر رہا ہے‘، ایران کے چیف مذاکرات کار کا ٹرمپ پر سخت تنقید ٹرمپ نے امریکی میڈیا کی خبروں کو جھوٹا پروپیگنڈا قرار دے دیا، وزیر دفاع کی بھرپور حمایت حکومت سندھ کے تعاون سے قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کیلئے گھر تعمیر کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان آج ملک بھر میں شاہراہوں پر پرامن احتجاج کیا جائے گا، لیاقت بلوچ پنجاب کے لہو سے کھینچی گئی پاک بھارت سرحدی لکیر۔ آسٹریلیا: انجینئرز نے نظروں سے اوجھل ہونے والا ڈرون تیار کر لیا ایران سے مذاکرات جاری، جنگ جلد ختم ہوگی اور آبنائے ہرمز کھل جائے گی، ٹرمپ کا دعویٰ 60 سال سے زائد عمر کے کھلاڑی ورلڈکپ میں شرکت کیلیے روانہ انگلینڈ کے 25 سالہ فاسٹ بولر کا اچانک ریٹائرمنٹ کا اعلان محمد بن سلمان اور میکرون کا اہم ٹیلیفونک رابطہ، بحری سلامتی اور دو طرفہ تعاون پر مشاورت ’امریکا بار بار ڈرامائی سفارت کاری کر رہا ہے‘، ایران کے چیف مذاکرات کار کا ٹرمپ پر سخت تنقید ٹرمپ نے امریکی میڈیا کی خبروں کو جھوٹا پروپیگنڈا قرار دے دیا، وزیر دفاع کی بھرپور حمایت حکومت سندھ کے تعاون سے قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کیلئے گھر تعمیر کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان آج ملک بھر میں شاہراہوں پر پرامن احتجاج کیا جائے گا، لیاقت بلوچ

پنجاب کے لہو سے کھینچی گئی پاک بھارت سرحدی لکیر۔

Link copied!

ثناء اللہ مجاہد

14 اگست 1947 کو کئی واقعات ہوئےانگریز کا قبضہ ختم ہوا ،ہندوستان آزاد ہوا ،پنجاب تقسیم ہوا اورپاکستان وجود میں آیا، مگر اس تقسیم کی سب سے بھاری قیمت پنجاب کی دھرتی اور پنجابیوں نے ادا کی۔
14 اگست آتا ہے تو ہر طرف سبز ہلالی پرچم لہراتے ہیں، بچے نعرے لگاتے ہیں، قومی ترانے گونجتے ہیں اور آزادی کا جشن منایا جاتا ہے۔ مگر اس جشن کے پیچھے ایک ایسی دردناک داستان ہے جسے سننے اور سنانے والے کم رہ گئے ہیں۔ پاکستان کی آزادی میں ایک داستان پنجاب کی ہے؛ ایک ایسا پنجاب جو بسا ہوا تھا، مگر تقسیم کے طوفان میں اجڑ گیا۔ہستے، بستے گھر چھوڑوادئیے گئے ۔دنیا میں ہمیشہ تقسیم علاقوں کی بنیادپرہوتی ہے کبھی خاندان، گھر کھیت رشتے نسلیں تقسیم نہیں ہوتیں۔ مگرایسا ہوا میرے پنجاب کے ساتھ جس کے وجود تقسیم کردیا گیا لہو سے ندیاں بہائی گئیں ہندو کی گہری سازش سے کی گئی غلط منصوبہ بندی۔حدبندی کی وجہ سے۔تقسیم سے قبل ہی ہندو کو خطرہ تھا کہ پنجاب سے پنجابی سے اس نے پہلے ہی انگریز سے مل کر سازش رچائی اگر پنجاب اجاڑا ناگیاتو ہندو کبھی ہندوستان پر کنٹرول نہ رکھ سکے۔ اسی لیے پنجاب کو تقسیم کے نام پر اجاڑ دیا گیا تاکہ ہندو راجہ کرے۔
یہ صرف سرحدوں کی تقسیم نہیں تھی، یہ صدیوں سے آباد بستیوں، رشتوں، یادوں اور نسلوں کی تقسیم تھی۔
لاکھوں پنجابی اپنے صدیوں پرانے گھر، کھیت، بازار، کاروبار اور آباؤ اجداد کی قبریں چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ لاکھوں انسان فسادات کی آگ میں جل گئے، ہزاروں خاندان بکھر گئے، اور بے شمار مائیں اپنے بیٹوں، بہنیں اپنے بھائیوں اور بچے اپنے والدین سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئے۔
جو قافلے پاکستان پہنچے، وہ صرف اپنے جسم لے کر آئے تھے۔ ان کی جمع پونجی، زمینیں، مکانات اور یادیں سب پیچھے رہ گئی تھیں۔ پھر نئے وطن میں بھی بہت سے خاندان برسوں تک کلیم کے حصول کے لیے دفاتر کے چکر لگاتے رہے۔ کئی بزرگ اپنی زندگی کی آخری سانس تک انصاف کے منتظر رہے، اور بہت سے لوگوں نے اپنی عزتِ نفس کی خاطر خاموشی اختیار کر لی۔
یہ وہ دکھ ہے جو سرکاری فائلوں میں مکمل طور پر کبھی درج نہ ہو سکا، مگر لاکھوں خاندانوں کے سینوں میں آج بھی زندہ ہے۔ اسی لیے ہجرت کرنے والی کئی نسلیں آج بھی احساسِ محرومی اور احساسِ کمتری کے بوجھ کے ساتھ زندگی گزارنے کا ذکر کرتی ہیں۔
پنجاب کے جو لوگ پاکستان آئے آج تک مہاجر( پناہیں )گردانے جاتے ہیں۔
یہ دکھ صرف پہلی نسل تک محدود نہیں رہا۔ ہجرت کا درد نسلوں میں منتقل ہوا۔ بہت سے خاندان آج بھی اپنے بزرگوں کی کہانیاں سناتے ہیں؛ وہ کہانیاں جن میں اجڑے ہوئے آنگن، چھوڑے ہوئے کھیت اور بچھڑے ہوئے عزیز بستے ہیں۔ یہ احساسِ محرومی ہماری اجتماعی تاریخ کا حصہ ہے، جس پر زیادہ کھل کر بات نہیں کی گئی۔
وقت بدل گیا، مگر پنجاب کی آزمائشیں ختم نہ ہوئیں۔ آج بھی جب پاک بھارت کشیدگی بڑھتی ہے تو سب سے پہلے سرحدی علاقوں کے لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ بستیاں خالی ہوتی ہیں، لوگ نقل مکانی کرتے ہیں، اور خوف کی فضا سب سے زیادہ انہی علاقوں میں محسوس کی جاتی ہے۔
آج بھی سیلاب آجائے تو دونوں پنجاب تباہ ہوجاتے ہیں سموگ آئے تو دونوں پنجاب مشکل میں ،جنگ ہو پاک بھارت تو محاذ بنتاہے صرف پنجاب دونوں طرف سے تباہ ہوتا ہے تو پنجاب کسی اور بارڈر ایریا پر کوئی ٹنشن نہیں ہوتی اتنی طویل سرحد ہے بھارت پاکستان کی مگر میدان جنگ صرف پنجاب کیوں؟
صرف پنجاب نے قیامِ پاکستان کے لیے اپنا لہو بھی دیا، اپنے گھر بھی قربان کیے، اپنی زمینیں بھی چھوڑیں اور اپنے پیارے بھی کھوئے۔ یہ قربانیاں پاکستان کی تاریخ کا ایسا باب ہیں جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
اور آج پنجاب کے بھائی پنجاب کو ہی تنقیدی نظرسے دیکھتے ہیں اس کے پیچھے یہی سوچ ہے کہ بھارتی پنجاب سے یہ لوگ اجڑ کے آئے ہیں ہم اس دھرتی کے وارث ہیں۔ کھاتے بھی پنجابی کی محنت سے ہیں اور گالی بھی دونوں طرف پنجاب کو پڑتی ہے۔
یومِ آزادی پاکستان کا مطلب صرف آتش بازی، جھنڈے اور نعرے نہیں۔ یہ اُن لاکھوں انسانوں جن میں اکثریت پنجاب کی ہے کی قربانیوں کو یاد کرنے کا دن بھی ہے جنہوں نے اپنے خواب، اپنا گھر، اپنا مال اور اپنے پیارے اس وطن کے لیے کھو دیے۔ ان قربانیوں میں پنجاب کا حصہ ہمیشہ تاریخ کا اہم باب رہے گا۔
اگر ہم واقعی آزادی کا حق ادا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی تاریخ کے ہر باب کو دیانت داری سے پڑھنا ہوگا۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو یہ بتانا ہوگا کہ پاکستان صرف سیاسی فیصلوں سے نہیں بنا، بلکہ پنجاب کے لاکھوں انسانوں کے آنسوؤں، ہجرتوں اور قربانیوں سے وجود میں آیا۔
14 اگست صرف جشن کا دن نہیں، یہ اُن خاموش قافلوں کو سلام پیش کرنے کا دن بھی ہے جنہوں نے اپنے آج کو قربان کر کے ہماری آنے والی نسلوں کو ایک وطن دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Link copied!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *