ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت اور عوامی منظر نامے سے طویل غیر حاضری کے حوالے سے نئی قیاس آرائیاں سامنے آئی ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران مخالف ویب سائٹ ایران وائر نے دعویٰ کیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای گزشتہ فروری میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد سے ایرانی کابینہ کے کسی رکن سے براہِ راست ملاقات نہیں کرسکے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تاحال کوئی ایسا حکومتی شخص سامنے نہیں آیا ہے جس نے حال ہی میں براہ راست مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کا دعویٰ کیا ہوا۔ ایرانی صدر کی ملاقات کو بھی کئی ماہ ہوگئے۔
رپورٹ کے مطابق ایک ذریعے نے یہاں تک دعویٰ کیا کہ حکومتی ایوانوں میں یہ چہ مگوئیاں بھی ہو رہی ہیں کہ سپریم لیڈر کی حالت انتہائی تشویشناک ہے تاہم اس حوالے سے کسی بھی آزاد یا سرکاری ذریعے نے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی۔
یاد رہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای مارچ میں سپریم لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد سے اب تک کسی عوامی تقریب میں نظر نہیں آئے اور نہ ہی ان کی کوئی ویڈیو یا آڈیو تقریر جاری کی گئی ہے۔ سرکاری میڈیا صرف ان سے منسوب تحریری بیانات شائع کرتا رہا ہے۔
بعض غیر مصدقہ رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ فروری میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران وہ زخمی ہوئے تھے تاہم ایران نے ان اطلاعات کی کبھی تصدیق نہیں کی۔
ایرانی حکومت یا سپریم لیڈر کے دفتر کی جانب سے ایران وائر کی رپورٹ پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یہ پُراسرار خاموشی بھی بذات خود کئی خدشات کو جنم دے رہی ہے۔