آسیہ اندرابی کشمیر کی خاتون آہن صرف 11 منٹ کی اضافی نیند جان لیوا کیفیت سے بچا سکتی ہے: تحقیق نیدرلینڈز: 1300 برس قدیم وائکنگز کی کشتی کا ٹکڑا دریافت سائنسدانوں کی نئی دریافت نے 300 سال پرانا قانون توڑ ڈالا پابندیوں کے خاتمے پر ایران کی جوہری ہتھیار نہ بنانے کی ضمانت دینے پر آمادگی پاکستانی سفارتکاری کے سامنے بھارتی خارجہ پالیسی چاروں شانے چت، بھارتی میڈیا کے تبصرے ایران جنگ؛ یہ جال ہمارے لیے بچھایا گیا تھا ہم اس میں نہیں پھنسیں گے، ترک صدر ايران ميں اس بار’درست لوگوں‘ سے بات چیت جاری ہے؛ جلد پیش رفت ممکن ہے؛ ٹرمپ آئی پی ایل فرنچائز رائل چیلنجرز بینگالورو مہنگے داموں فروخت شائقین کرکٹ سے معذرت، ملک و قوم کا مفاد سب سے پہلے دیکھنا ہوتا ہے، محسن نقوی آسیہ اندرابی کشمیر کی خاتون آہن صرف 11 منٹ کی اضافی نیند جان لیوا کیفیت سے بچا سکتی ہے: تحقیق نیدرلینڈز: 1300 برس قدیم وائکنگز کی کشتی کا ٹکڑا دریافت سائنسدانوں کی نئی دریافت نے 300 سال پرانا قانون توڑ ڈالا پابندیوں کے خاتمے پر ایران کی جوہری ہتھیار نہ بنانے کی ضمانت دینے پر آمادگی پاکستانی سفارتکاری کے سامنے بھارتی خارجہ پالیسی چاروں شانے چت، بھارتی میڈیا کے تبصرے ایران جنگ؛ یہ جال ہمارے لیے بچھایا گیا تھا ہم اس میں نہیں پھنسیں گے، ترک صدر ايران ميں اس بار’درست لوگوں‘ سے بات چیت جاری ہے؛ جلد پیش رفت ممکن ہے؛ ٹرمپ آئی پی ایل فرنچائز رائل چیلنجرز بینگالورو مہنگے داموں فروخت شائقین کرکٹ سے معذرت، ملک و قوم کا مفاد سب سے پہلے دیکھنا ہوتا ہے، محسن نقوی
آسیہ اندرابی کشمیر کی خاتون آہن صرف 11 منٹ کی اضافی نیند جان لیوا کیفیت سے بچا سکتی ہے: تحقیق نیدرلینڈز: 1300 برس قدیم وائکنگز کی کشتی کا ٹکڑا دریافت سائنسدانوں کی نئی دریافت نے 300 سال پرانا قانون توڑ ڈالا پابندیوں کے خاتمے پر ایران کی جوہری ہتھیار نہ بنانے کی ضمانت دینے پر آمادگی پاکستانی سفارتکاری کے سامنے بھارتی خارجہ پالیسی چاروں شانے چت، بھارتی میڈیا کے تبصرے ایران جنگ؛ یہ جال ہمارے لیے بچھایا گیا تھا ہم اس میں نہیں پھنسیں گے، ترک صدر ايران ميں اس بار’درست لوگوں‘ سے بات چیت جاری ہے؛ جلد پیش رفت ممکن ہے؛ ٹرمپ آئی پی ایل فرنچائز رائل چیلنجرز بینگالورو مہنگے داموں فروخت شائقین کرکٹ سے معذرت، ملک و قوم کا مفاد سب سے پہلے دیکھنا ہوتا ہے، محسن نقوی آسیہ اندرابی کشمیر کی خاتون آہن صرف 11 منٹ کی اضافی نیند جان لیوا کیفیت سے بچا سکتی ہے: تحقیق نیدرلینڈز: 1300 برس قدیم وائکنگز کی کشتی کا ٹکڑا دریافت سائنسدانوں کی نئی دریافت نے 300 سال پرانا قانون توڑ ڈالا پابندیوں کے خاتمے پر ایران کی جوہری ہتھیار نہ بنانے کی ضمانت دینے پر آمادگی پاکستانی سفارتکاری کے سامنے بھارتی خارجہ پالیسی چاروں شانے چت، بھارتی میڈیا کے تبصرے ایران جنگ؛ یہ جال ہمارے لیے بچھایا گیا تھا ہم اس میں نہیں پھنسیں گے، ترک صدر ايران ميں اس بار’درست لوگوں‘ سے بات چیت جاری ہے؛ جلد پیش رفت ممکن ہے؛ ٹرمپ آئی پی ایل فرنچائز رائل چیلنجرز بینگالورو مہنگے داموں فروخت شائقین کرکٹ سے معذرت، ملک و قوم کا مفاد سب سے پہلے دیکھنا ہوتا ہے، محسن نقوی

آسیہ اندرابی کشمیر کی خاتون آہن

Link copied!
آسیہ اندرابی کشمیر کی خاتون آہن

دہلی کی ہندوتوا عدالت سے آسیہ اندرابی کو عمر قید کی سزا کا احمقانہ فیصلہ پون صدی سے کشمیریوں کے خون سے لکھی جانے والی کتاب حریت کا تازہ باب ہے جس میں ایک نہتی، باکردار اور باہمت کشمیری خاتون نےبھارت کے غرور کو چیلنج کیا ہوا ہے۔ آسیہ اندرابی آج محض ایک قیدی نہیں، وہ کشمیر کی تاریخ کا وہ روشن چراغ ہیں جسے ظلم کی آندھیاں بجھا نہیں سکیں۔ بھارتی عدالت نے انہیں عمر قید اور ان کی ساتھیوں ناہدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی کو تیس تیس سال کی سزا سنادی ہے، مگر اس فیصلے نے ان کی شخصیت کو کمزور نہیں کیا بلکہ مزید طاقت دے دی ہے۔ دنیا جانتی ہے ، یہ قیدو بند، یہ دارو رسن، یہ جلیں ، اور سزائیں رہروان آزادی کے پیروں کی دھول اور ہتھکڑیوں کی چھنچھناہٹ آزادی کے گیت سے زیادہ نہیں ۔
جب ساز سلاسل بجتے تھے ، ہم اپنے لہو میں سجتے تھے
وہ رِیت ابھی تک باقی ہے ، یہ رسم ابھی تک جاری ہے
آسیہ اندرابی کی پوری زندگی کشمیر کی آزادی، انسانی حقوق اور خواتین کی عزت و وقار کے تحفظ کا استعارہ ہے ۔ وہ بندوق کی زبان نہیں جانتی مگر دلیل، اصول اور ثابت قدمی کے ہتھیار سے بندوقوں پر لرزہ طاری کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہیں کبھی ریاستی املاک پر حملوں کا ماسٹر مائنڈ نہ ثابت کیا جا سکا، کبھی کسی مسلح کارروائی میں ملوث نہ دکھایا جا سکا۔ اس سب کے باوجود انہیں وہ سزائیں سنائی گئیں جو قاتلوں اور دہشت گردوں کو بھی کم ہی ملتی ہیں۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ کشمیر کے حق خودارادیت کی سب سے توانا آواز تھیں۔ بھارتی ریاست کو یہ خوف ہمیشہ لاحق رہا کہ اگر یہ آواز زندہ رہی تو کشمیر میں ظلم کا پردہ چاک ہوتا رہے گا، لیکن سوال یہ ہے کہ صدا، نعرے اور جذبے کو بھی قید کیا جا سکتا ہے ؟ ماضی میں ایسا کبھی ممکن ہو سکا ، نہ اب ہو سکے گا ۔ بھارتی تحقیقاتی ادارے برسوں سے ان کے خلاف بھاری سزاؤں کا مطالبہ کررہے تھے۔ انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں آٹھ سال سے زائد وقت ہو چکا ہے۔ یہ وہی راستہ ہے جو پہلے مقبول بٹ اور پھر افضل گورو کے مقدمات میں اختیار کیا گیا۔ دونوں کو اسی طرح کے فیصلوں کے تحت موت کے گھاٹ اتارا گیا، جبکہ شواہد نہ ہونے کا اعتراف خود بھارتی اعلیٰ عدالتوں نے بھی کیا، افضل گورو کی سزا کا فیصلہ بھارت اور بھارتی عدلیہ کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کرنے کو کافی ہے ۔ جب بھارتی چیف جسٹس نے لکھا ’’ ملزم افضل گورو کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا ، استغاثہ الزام ثابت کرنے میں ناکام رہا ،لیکن عوام کو خوش رکھنے کی خاطر اسے سزائے موت دی جائے‘‘ لکھ لعنت، اس نظام پر اس عدلیہ پر ۔ یہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارتی عدلیہ بھی ہندوتوا کے بجرنگی رنگ میں رنگی جا چکی ہے ۔آسیہ کا فیصلہ اسی عدالتی تاریخ میں ایک اور سیاہ باب کا اضافہ ہے۔
یہ احتجاج عجب ہے خلاف تیغ ستم
زمیں میں جذب نہیں ہو رہا ہے خوں میرا
آسیہ اندرابی کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ وہ پاکستان سے رشتہ کیا ۔۔لاالہ اللہ کا نعرہ لگاتی ہے ، کشمیر پر بھارتی قبضہ تسلیم نہیں کرتی ،کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کو فطری اور تاریخی حقیقت سمجھتی ہیں، وہ لاکھوں کشمیری بیٹیوں کے لئے حوصلے اور وقار کی علامت ہیں۔ یونہی نہیں کہ انہیں کشمیر کی آئرن لیڈی کہا جاتا ہے۔ مودی حکومت کے لئے یہ بات ناقابل برداشت تھی کہ ایک غیر مسلح، محض فکری اور سیاسی قوت رکھنے والی بزرگ خاتون بھی ان کے ظلم کو للکارتی رہے۔چشم فلک گواہ ہے کہ کشمیر ی عشروں سے لاشیں اٹھا رہے ہیں، لیکن ان کے دلوں سے آزادی کی خواہش ایک دن بھی کم نہیں ہوئی۔ سخت سزاؤں کے باوجود جو کشمیر آج بول رہا ہے وہ پہلے سے زیادہ پُراعتماد اور باحوصلہ ہے۔بھارت کشمیر کی مزاحمتی سیاست کو دہشت گردی کے مقدمات میں بدل کر دنیا کو گمراہ کرنا چاہتا ہے لیکن جب ایک بزرگ اور بیمار خاتون پر ایسے سنگین الزامات لگائے جائیں جو کبھی ثابت نہ ہوسکیں تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اصل مقصد سیاسی آواز کا گلا گھونٹنا ہے، لیکن بقول حفیظ جونپوری
قہر ڈھائے گی اسیروں کی تڑپ
اور بھی الجھیں گے حلقے دام کے
آسیہ اندرابی کے اہل خانہ کا ردعمل پوری کشمیری قوم کی آواز ہے۔ ان کے بیٹے کا یہ کہنا کہ یہ سزائیں اس لئے دی جا رہی ہیں تاکہ قیدی کبھی دوبارہ اپنے گھر نہ لوٹ سکیں، ایک ایسی حقیقت ہے جس سے دنیا کو آگاہ ہونا چاہئے۔ کشمیر میں جیل محض قیدخانہ نہیں بلکہ سیاسی بدلے کا اوزار بن چکا ہے۔ وہاں اختلاف کرنے والے ہر شخص کو طویل نظربندی، عمر قید یا پھانسی کے خوف میں زندہ رہنا ہوتا ہے۔ یہ ماحول کسی بھی مہذب معاشرے کی علامت نہیں ہو سکتا۔آسیہ اندرابی آج قید میں ضرور ہیں، مگر دل شکستہ نہیں، ان کا حوصلہ چٹان ہے، بھارتی ریاست کے لئے ایک سوال ہے، اور اس سوال کا آہنگ ہر آنے والے دن کے ساتھ بڑھتا رہے گا ۔ وہ پرامن مزاحمت کی علامت ہیں، انسانی حقوق کی علمبردار ہیں ، ایک ایسی ہیرو جس نے اپنی کمزور ہڈیوں کے ساتھ ایک ظالم ،جابراور انسانیت کی دشمن ریاست کی طاقت کو چیلنج کر رکھا ہے۔ کشمیر کی تحریک آزاد ی میں ان کا مقام ہمیشہ برقرار رہے گا، اور آنے والی نسلیں انہیں ایک ایسی خاتون کے طور پر یاد کریں گی جس نے خوف کے زمانے میں ہمت کی مشعل روشن رکھی۔وقت ثابت کرے گا کہ ظلم کی زنجیریں ٹوٹتی ہیں اور سچائی آخر کار سر اٹھاتی ہے۔ آسیہ اندرابی کے لئے یہ سزائیں محض ایک مرحلہ ہیں، جبکہ تاریخ کا فیصلہ بہت مختلف ہوگا،انشااللہ ۔
کب یاروں کو تسلیم نہیں ، کب کوئی عدو انکاری ہے
اس کوئے طلب میں ہم نے بھی دل نذر کیا جاں واری ہے
جب ساز سلاسل بجتے تھے ، ہم اپنے لہو میں سجتے تھے
وہ رِیت ابھی تک باقی ہے ، یہ رسم ابھی تک جاری ہے
کچھ اہلِ ستم ، کچھ اہلِ حشم مے خانہ گرانے آئے تھے
دہلیز کو چوم کے چھوڑ دیا دیکھا کہ یہ پتھر بھاری ہے
جب پرچمِ جاں لیکر نکلے ہم خاک نشیں مقتل مقتل
اُس وقت سے لے کر آج تلک جلاد پہ ہیبت طاری ہے
زخموں سے بدن گلزار سہی پر ان کے شکستہ تیر گنو
خود ترکش والے کہہ دیں گے یہ بازی کس نے ہاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Link copied!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *