آئی ایم ایف کا پاکستان کو نئے بجٹ میں ٹیکس نیٹ وسیع اور اخراجات کم کرنے پر زور پاک چین سفارتی تعقات کی 75 ویں سالگرہ پر یادگاری سکہ جاری عوام پر نیا بوجھ؛ ایل این جی کی قیمتوں میں 28 فیصد تک اضافے کا نوٹیفکیشن جاری ہاؤس آف لارڈز میں پاکستان کے عالمی امن و استحکام میں کردار کو خراج تحسین ٹرمپ کی ایرانی تہذیب کو ختم کرنے کی دھمکی، کئی ممالک کو جوہری تصادم کا خدشہ، رپورٹ لبنان میں اسرائیل کا فضائی حملہ، دو افراد جاں بحق ترکیہ میں اپوزیشن جماعت کا انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار تہران نے تمام محاذوں پر جنگ بندی کیلیے نئے مطالبات واشنگٹن کے سامنے رکھ دیے، ایرانی وزارت خارجہ آئی پی ایل: کھلاڑیوں کی مسلسل مشکوک حرکات نے لیگ کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگادیا پاکستان ، آسٹریلیا ون ڈے سیریز کیلئے ٹکٹ آج سے دستیاب ہوں گے ، قیمت 200 روپے مقرر آئی ایم ایف کا پاکستان کو نئے بجٹ میں ٹیکس نیٹ وسیع اور اخراجات کم کرنے پر زور پاک چین سفارتی تعقات کی 75 ویں سالگرہ پر یادگاری سکہ جاری عوام پر نیا بوجھ؛ ایل این جی کی قیمتوں میں 28 فیصد تک اضافے کا نوٹیفکیشن جاری ہاؤس آف لارڈز میں پاکستان کے عالمی امن و استحکام میں کردار کو خراج تحسین ٹرمپ کی ایرانی تہذیب کو ختم کرنے کی دھمکی، کئی ممالک کو جوہری تصادم کا خدشہ، رپورٹ لبنان میں اسرائیل کا فضائی حملہ، دو افراد جاں بحق ترکیہ میں اپوزیشن جماعت کا انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار تہران نے تمام محاذوں پر جنگ بندی کیلیے نئے مطالبات واشنگٹن کے سامنے رکھ دیے، ایرانی وزارت خارجہ آئی پی ایل: کھلاڑیوں کی مسلسل مشکوک حرکات نے لیگ کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگادیا پاکستان ، آسٹریلیا ون ڈے سیریز کیلئے ٹکٹ آج سے دستیاب ہوں گے ، قیمت 200 روپے مقرر
آئی ایم ایف کا پاکستان کو نئے بجٹ میں ٹیکس نیٹ وسیع اور اخراجات کم کرنے پر زور پاک چین سفارتی تعقات کی 75 ویں سالگرہ پر یادگاری سکہ جاری عوام پر نیا بوجھ؛ ایل این جی کی قیمتوں میں 28 فیصد تک اضافے کا نوٹیفکیشن جاری ہاؤس آف لارڈز میں پاکستان کے عالمی امن و استحکام میں کردار کو خراج تحسین ٹرمپ کی ایرانی تہذیب کو ختم کرنے کی دھمکی، کئی ممالک کو جوہری تصادم کا خدشہ، رپورٹ لبنان میں اسرائیل کا فضائی حملہ، دو افراد جاں بحق ترکیہ میں اپوزیشن جماعت کا انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار تہران نے تمام محاذوں پر جنگ بندی کیلیے نئے مطالبات واشنگٹن کے سامنے رکھ دیے، ایرانی وزارت خارجہ آئی پی ایل: کھلاڑیوں کی مسلسل مشکوک حرکات نے لیگ کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگادیا پاکستان ، آسٹریلیا ون ڈے سیریز کیلئے ٹکٹ آج سے دستیاب ہوں گے ، قیمت 200 روپے مقرر آئی ایم ایف کا پاکستان کو نئے بجٹ میں ٹیکس نیٹ وسیع اور اخراجات کم کرنے پر زور پاک چین سفارتی تعقات کی 75 ویں سالگرہ پر یادگاری سکہ جاری عوام پر نیا بوجھ؛ ایل این جی کی قیمتوں میں 28 فیصد تک اضافے کا نوٹیفکیشن جاری ہاؤس آف لارڈز میں پاکستان کے عالمی امن و استحکام میں کردار کو خراج تحسین ٹرمپ کی ایرانی تہذیب کو ختم کرنے کی دھمکی، کئی ممالک کو جوہری تصادم کا خدشہ، رپورٹ لبنان میں اسرائیل کا فضائی حملہ، دو افراد جاں بحق ترکیہ میں اپوزیشن جماعت کا انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار تہران نے تمام محاذوں پر جنگ بندی کیلیے نئے مطالبات واشنگٹن کے سامنے رکھ دیے، ایرانی وزارت خارجہ آئی پی ایل: کھلاڑیوں کی مسلسل مشکوک حرکات نے لیگ کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگادیا پاکستان ، آسٹریلیا ون ڈے سیریز کیلئے ٹکٹ آج سے دستیاب ہوں گے ، قیمت 200 روپے مقرر

سائنسدانوں نے زمین کی گہرائیوں میں چھپے دو دیوہیکل ڈھانچوں کا سراغ لگالیا

Link copied!
سائنسدانوں نے زمین کی گہرائیوں میں چھپے دو دیوہیکل ڈھانچوں کا سراغ لگالیا

سائنسدانوں نے زمین کی سطح کے نیچے موجود ایک نہایت پراسرار اور پیچیدہ دنیا سے متعلق اہم رازوں سے پردہ اٹھایا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین کی اندرونی گہرائیوں تک پہنچنا خلا کے دور دراز حصوں میں سفر کرنے سے بھی کہیں زیادہ مشکل ہے، یہی وجہ ہے کہ انسان اب تک اپنے ہی سیارے کے نیچے چھپے بے شمار حقائق سے پوری طرح واقف نہیں ہو سکا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ انسان نے خلائی جہازوں کو تقریباً 25 ارب کلو میٹر کے فاصلے تک بھیج دیا ہے، مگر زمین میں کھدائی کی حد اب تک صرف 12 کلومیٹر تک ہی پہنچ سکی ہے۔ اسی محدود رسائی کے باعث زمین کی تہوں کے اندر ہونے والے عمل طویل عرصے تک ایک معمہ بنے رہے۔

سائنسی جریدے نیچر جیو سائنس میں شائع ہونے والی تازہ تحقیق کے مطابق محققین کو ایسے شواہد ملے ہیں جو زمین کے اندر دو غیر معمولی حد تک بڑے اور شدید گرم چٹانی ڈھانچوں کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

یہ ساختیں زمین کی بالائی اور نچلی تہوں کی سرحد کے قریب واقع ہیں، جہاں بیرونی حصہ سیال دھات پر مشتمل ہے جبکہ اندرونی حصہ ٹھوس دھاتوں سے بنا ہوا ہے۔ یہ اندرونی تہہ زمین کی سطح سے تقریباً 4 ہزار 800 کلومیٹر نیچے واقع ہے اور اس کا حجم چاند کے لگ بھگ 70 فیصد کے برابر بتایا جاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق یہ دو دیوہیکل گرم چٹانی ڈھانچے افریقہ اور بحرالکاہل کے نیچے تقریباً 2 ہزار 900 کلومیٹر کی گہرائی میں پائے جاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی ٹھوس مگر انتہائی گرم چٹانیں کروڑوں بلکہ اربوں برس سے زمین کے مقناطیسی میدان کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

چونکہ اس گہرائی میں جا کر براہِ راست مشاہدہ کرنا تقریباً ناممکن ہے، اس لیے سائنسدانوں نے جدید کمپیوٹر ماڈلنگ اور قدیم مقناطیسی ریکارڈ، یعنی پیلیو میگنیٹک ڈیٹا، کی مدد لی۔ ان سمیولیشنز کے ذریعے انہوں نے زمین کے پرانے مقناطیسی میدانوں کو دوبارہ تخلیق کیا اور ان تبدیلیوں کا تجزیہ کیا جو گزشتہ 26 کروڑ برس کے دوران وقوع پذیر ہوئیں۔

نتائج سے پتا چلا کہ زمین کی اندرونی تہوں کی سرحد پر درجہ حرارت ہر جگہ یکساں نہیں بلکہ اس میں نمایاں فرق موجود ہے، جبکہ براعظموں کے حجم کے برابر ان چٹانی ڈھانچوں کے نیچے کچھ علاقے غیر معمولی طور پر زیادہ گرم ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ زمین کے مقناطیسی میدان کے بعض حصے لاکھوں برس سے تقریباً مستحکم رہے ہیں، جب کہ کچھ پہلو وقت کے ساتھ ڈرامائی انداز میں تبدیل ہوتے رہے۔

محققین کے مطابق یہ دریافت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ زمین کے گہرے حصوں میں درجہ حرارت کی تقسیم بہت پیچیدہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان معلومات کی مدد سے نہ صرف قدیم مقناطیسی میدان کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکتا ہے بلکہ زمین کی اندرونی ساخت اور اس کی طویل المدت ارتقائی خصوصیات پر بھی نئی روشنی پڑتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Link copied!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *