قومی اسمبلی اجلاس کا شیڈول تبدیل، کل سہ پہر تین بجے طلب ایران کے میزائل حملوں کی 37ویں لہر، اربیل، تل ابیب اور بحرین میں امریکی و اسرائیلی مراکز پر حملے تہران پر امریکا اور اسرائیل کی شدید بمباری، رات بھر دھماکوں سے شہر گونجتا رہا بحرین میں ایرانی حملوں کی ویڈیوز شیئر کرنے پر 5 پاکستانی گرفتار، سخت سزاؤں کا خدشہ افغانستان کیلئے امریکہ کا سفری انتباہ، طالبان رجیم عالمی تنہائی کا شکار بنگلہ دیش نے آخری سیریز میں  پاکستان کو وائٹ واش کیا تھا پی ایس ایل 11 کی ٹرافی کی رونمائی آج کراچی میں ہوگی وزیراعلیٰ پنجاب نے سی سی ڈی کو ناجائز اسلحہ کے خاتمے کا ٹاسک سونپ دیا بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کیخلاف 190 ملین پاؤنڈ کیس میں اہم پیشرفت اسرائیل کے قیام پر برطانیہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ، 45 سے زائد ارکان پارلیمنٹ نے خط لکھ دیا قومی اسمبلی اجلاس کا شیڈول تبدیل، کل سہ پہر تین بجے طلب ایران کے میزائل حملوں کی 37ویں لہر، اربیل، تل ابیب اور بحرین میں امریکی و اسرائیلی مراکز پر حملے تہران پر امریکا اور اسرائیل کی شدید بمباری، رات بھر دھماکوں سے شہر گونجتا رہا بحرین میں ایرانی حملوں کی ویڈیوز شیئر کرنے پر 5 پاکستانی گرفتار، سخت سزاؤں کا خدشہ افغانستان کیلئے امریکہ کا سفری انتباہ، طالبان رجیم عالمی تنہائی کا شکار بنگلہ دیش نے آخری سیریز میں  پاکستان کو وائٹ واش کیا تھا پی ایس ایل 11 کی ٹرافی کی رونمائی آج کراچی میں ہوگی وزیراعلیٰ پنجاب نے سی سی ڈی کو ناجائز اسلحہ کے خاتمے کا ٹاسک سونپ دیا بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کیخلاف 190 ملین پاؤنڈ کیس میں اہم پیشرفت اسرائیل کے قیام پر برطانیہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ، 45 سے زائد ارکان پارلیمنٹ نے خط لکھ دیا
قومی اسمبلی اجلاس کا شیڈول تبدیل، کل سہ پہر تین بجے طلب ایران کے میزائل حملوں کی 37ویں لہر، اربیل، تل ابیب اور بحرین میں امریکی و اسرائیلی مراکز پر حملے تہران پر امریکا اور اسرائیل کی شدید بمباری، رات بھر دھماکوں سے شہر گونجتا رہا بحرین میں ایرانی حملوں کی ویڈیوز شیئر کرنے پر 5 پاکستانی گرفتار، سخت سزاؤں کا خدشہ افغانستان کیلئے امریکہ کا سفری انتباہ، طالبان رجیم عالمی تنہائی کا شکار بنگلہ دیش نے آخری سیریز میں  پاکستان کو وائٹ واش کیا تھا پی ایس ایل 11 کی ٹرافی کی رونمائی آج کراچی میں ہوگی وزیراعلیٰ پنجاب نے سی سی ڈی کو ناجائز اسلحہ کے خاتمے کا ٹاسک سونپ دیا بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کیخلاف 190 ملین پاؤنڈ کیس میں اہم پیشرفت اسرائیل کے قیام پر برطانیہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ، 45 سے زائد ارکان پارلیمنٹ نے خط لکھ دیا قومی اسمبلی اجلاس کا شیڈول تبدیل، کل سہ پہر تین بجے طلب ایران کے میزائل حملوں کی 37ویں لہر، اربیل، تل ابیب اور بحرین میں امریکی و اسرائیلی مراکز پر حملے تہران پر امریکا اور اسرائیل کی شدید بمباری، رات بھر دھماکوں سے شہر گونجتا رہا بحرین میں ایرانی حملوں کی ویڈیوز شیئر کرنے پر 5 پاکستانی گرفتار، سخت سزاؤں کا خدشہ افغانستان کیلئے امریکہ کا سفری انتباہ، طالبان رجیم عالمی تنہائی کا شکار بنگلہ دیش نے آخری سیریز میں  پاکستان کو وائٹ واش کیا تھا پی ایس ایل 11 کی ٹرافی کی رونمائی آج کراچی میں ہوگی وزیراعلیٰ پنجاب نے سی سی ڈی کو ناجائز اسلحہ کے خاتمے کا ٹاسک سونپ دیا بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کیخلاف 190 ملین پاؤنڈ کیس میں اہم پیشرفت اسرائیل کے قیام پر برطانیہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ، 45 سے زائد ارکان پارلیمنٹ نے خط لکھ دیا

طالبان کی دہری پالیسی اور شکست کا اعتراف

Link copied!
طالبان کی دہری پالیسی اور شکست کا اعتراف

افغانستان کی موجودہ صورتحال کواگر جذبات سےہٹ کرزمینی حقائق کی روشنی میں دیکھاجائےتو ایک واضح تضاد سامنے آتا ہے۔ کابل میں طالبان قیادت ایک ہی وقت میں دو مختلف زبانیں بول رہی ہے۔ ایک طرف افغان وزیردفاع ملایعقوب فرمائشی انٹرویو میں  پاکستان کےخلاف سخت بیانات،جھوٹےدعووں،بےسروپاکہانیوں اور دھمکیوں کا سہارا لے رہے ہیں تو دوسری طرف وزیرخارجہ مولوی امیرخان متقی دنیا کے مختلف ممالک سے رابطے کرکے مذاکرات اور سفارتی حمایت کے لئے منت ترلا پروگرام شروع کئے ہوئے ہیں ، وجہ اس کی صاف ظاہر ہے کہ طالبان رجیم میدان میں وہ پوزیشن کھو چکی ہے ، جس کا وہ دعویٰ کر رہی تھی ، طاقت کے نعرے اور عملی کمزوری کا یہ امتزاج کسی بھی کمزور حکومت کی پہچان ہوتا ہے۔

طالبان رجیم جسے مجموعہ اضداد کہنا زیادہ موزوں ہوگا ، اپنے ہی تضادات کا شکارہو رہی ہے ۔ ملا ہیبت اللہ اپنی خود ساختہ شریعت کے تحت مارچ 2024 سے مسلسل احکامات جاری کر رہے ہیں ، انسانوں کی ویڈیوز کو حرام قرار دیاگیا ہے، ٹی وی چینلز کو پابندکیاگیا ہے کہ وہ اپنی نشریات میں زندہ انسانوں کی ویڈیوز استعمال نہیں کریں گے، اسی جرم میں کئی ٹی وی چینلز کو دفاتر کی بندش اور نمائندوں کی گرفتاری تک بھگتنا پڑی اور جب اپنی ضرورت پڑی توشریعت بدل گئی؟ اصل شریعت تو 14سو سال سے تبدیل نہیں ہوئی ،یقیناً خود ساختہ شریعت میں ہی یہ سہولت دستیاب ہو سکتی ہے کہ جب چاہا حلال کرلیا جب چاہا حرام کردیا۔

یہ مسجد ہے یہ میخانہ، تعجب اس پر آتا ہے

جنابِ شیخ کا نقشِ قدم، یوں بھی ہے اور یوں بھی

تبدیل شدہ شریعت کے تحت ملا یعقوب نےفرمائش کرکے طلوع ٹی وی کو انٹرویو ریکارڈ کروایاجس کا ایک ایک سوال یہ بتانے کو کافی تھا کہ انتہائی احتیاط کے ساتھ دھمکیوں اور جھوٹ کے طومار میں لپیٹ کر اعتراف شکست کا اہتمام کیا گیا ہے۔’’ ایک پیغام ہے ، ان کے لئےجو سمجھ سکتے ہیں ۔‘‘ تھکا ہوا لہجہ ،بیانیہ میں تضاد ، اپنی ہی باتوں کی تردید ، ایک ایسے شکست خوردہ فریق کی التجا تھی جو اپنے ساتھیوں میں یہ بھرم بھی رکھنا چاہتا ہو کہ ’’دیکھو میں ہارا نہیں ۔ زمینی حقیقت یہ ہےکہ حالیہ دنوں میں پاکستان کی جانب سے سرحدی علاقوں میں کیےگئے موثرحملوں کے بعدافغانستان کے سرحدی علاقوں سے لےکر کابل تک اسلحہ ڈپو اور ملٹری انفراسٹرکچر تباہ کیا جا چکا ہے جس میں ان کی فرعونیت کا بت باگرام بھی پاش پاش ہوا پڑا ہے۔ امریکہ کا چھوڑا ہوا وہ اسلحہ بھی شامل ہےجس کے بل پر یہ رجیم خود کو سپر پاور خیال کرنے لگی تھی ، اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں کے مراکز اور اسلحہ ڈپو بھی نیست ونابود ہو چکے ہیں ۔نوبت باایں جا رسید کہ پاکستان کے شدید فضائی حملوں کے خوف سے طالبان رجیم نے اپنے بچے کھچے 6 ہیلی کاپٹرز کو بامیان منتقل کردیا ہے، بڑے لیڈروں کی فیملیز بھی وہیں بھیجی جا رہی ہیں جیسے پہلے پاکستان بھیجی جاتی تھیں ، اب پہلی بار انہیں احساس ہوگا کہ پاکستان کی پناہ گاہ ان کے لئے کتنی اہم تھی ۔

 دہشت گردی کا یہ ڈھانچہ ٹوٹنےپرطالبان کو فوری طور پر اپنی حکمت عملی بھی تبدیل کرنا پڑ رہی ہے، جو ان کے تضادات کو مزیدنمایاں کر رہی ہے ۔2024 کی پہلی سہ ماہی میں قندھاری رجیم نے شمال کے نان پشتون طالبان کو سکیورٹی رسک قرار دے کر انہین غیر مسلح کیا تھا، بےچار آرمی چیف قاری فصیح الدین فطرت بھی کچھ نہ کرسکا ،اس وقت شمال والے سکیورٹی رسک تھے ، اب جب پاکستان بارڈر پر پشتون فورسز تباہی سے دوچار ہیں اور بارڈر پرجانےکو تیار نہیں تو شمال سے بڑی بھرتیاں کرکے افرادی قوت پوری کی جارہی ہے ۔ بغلان بدخشاں،تخاراوربلخ سےٹینکس اوردیگراسلحہ کے ساتھ ساتھ جنگجوؤں کو جنوبی اورمشرقی سرحدی علاقوں کی طرف منتقل کیاجارہا ہے۔اگر طالبان واقعی اس پوزیشن میں ہوتےجس کا دعویٰ کیا جارہا ہے تو انہیں اس طرح ہنگامی طور پر فورس اور اسلحہ منتقل کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔

اسی دوران کابل کی سفارتی سرگرمیوں میں اچانک تیزی بھی قابل توجہ ہے۔ افغان وزیرخارجہ مولوی امیرخان متقی نے ایک ہی دن میں چین، روس اور قطر کے حکام سے رابطے کیے۔ چین کے سفیر ژاو شینگ سے ملاقات میں علاقائی سکیورٹی صورتحال اور پاکستان کے ساتھ کشیدگی پر بات کی گئی۔ اس کے علاوہ روسی وزیرخارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں بھی یہی موضوع زیر بحث رہا۔یہاں تک کہ روس میں افغان نمائندے مولوی گل حسن نے روسی صدر کے خصوصی نمائندے ضمیر کابلوف سے ملاقات میں بھی پاکستان کے ساتھ کشیدگی کا مسئلہ اٹھایا۔ اور تو اور کم گو وزیرا عظم ملاحسن سے بھی ملائشین وزیراعظم کو فون کروایا گیا ، یہ منت ترلا پروگرام ہے کہ کوئی سامنے آئے اور پاکستان کو سیزفائر پر مجبور کرے ۔ سوال یہ ہے کہ اگر طالبان واقعی مضبوط ہیں تو انہیں اچانک اتنی سفارتی دوڑ دھوپ کی ضرورت کیوں پڑ گئی؟

اصل حقیقت یہ ہے کہ طالبان اس وقت ایک مشکل صورتحال میں پھنس چکے ہیں۔ ایک طرف پاکستان کا واضح اور سیدھا مطالبہ ہےکہ افغان سرزمین سے کام کرنے والے دہشت گرد گروہوں کو ختم کیا جائے یا انہیں پاکستان کے حوالے کیا جائے۔ دوسری طرف طالبان کے اندر مختلف دھڑوں کے درمیان اختلافات بھی بڑھ رہے ہیں۔پاکستان کا موقف کوئی پیچیدہ یا غیرمعمولی مطالبہ نہیں ہے۔ دنیا کے ہرملک کی طرح پاکستان بھی یہ حق رکھتا ہے کہ اس کی سرزمین کے خلاف کسی دوسرے ملک کی سرزمین استعمال نہ ہو۔ اگر افغانستان واقعی ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر کام کرنا چاہتا ہے تو اسے یہ بنیادی اصول تسلیم کرنا ہوگا۔طالبان کی مشکل یہ ہے کہ جن گروہوں کے خلاف پاکستان کارروائی کا مطالبہ کر رہا ہے، وہ ان کی طاقت کا حصہ ہیں۔ اسی پس منظر میں وزیر دفاع ملا یعقوب کا حالیہ انٹرویو بھی سامنے آیا۔ بظاہر یہ انٹرویو طاقت اور اعتماد کا اظہار تھالیکن اگر اس کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ دراصل ایک شکست خوردہ کمانڈر کی جھوٹی تسلیوں سے زیادہ کچھ نظر نہیں آتا۔اس انٹرویو میں ملا یعقوب نے جو بیانیہ پیش کیا وہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ انہوں نےافغانستان کی عسکری طاقت اور حکمت عملی کے بارے میں بڑے دعوے کیے مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر صورتحال واقعی اتنی مضبوط ہوتی تو طالبان کو نہ سفارتی اپیلوں کی ضرورت پڑتی اور نہ ہی سرحدی علاقوں میں دفاعی نقل و حرکت کی۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ طالبان کا پورا بیانیہ تضادات سے بھرا ہوا ہے۔ ایک طرف وہ دنیا کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ افغانستان ایک ذمہ دار ریاست ہے جو علاقائی امن چاہتی ہے۔ دوسری طرف انہی کی سرزمین سے ایسے گروہ کام کرتے رہے ہیں جو پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔طالبان کے نعرے اور دعوے کچھ اور ہیں، جبکہ زمینی حقائق کچھ اور کہانی سناتے ہیں۔ وہ خود کو ایک مضبوط اور خودمختار حکومت کے طور پر پیش کرتے ہیں مگر عملی طور پر انہیں سفارتی حمایت حاصل کرنے کے لئے ہر دروازہ کھٹکھٹانا پڑ رہا ہے۔یہ صورتحال دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ طالبان اس جنگ کو سیاسی اور سفارتی سطح پر ہار چکے ہیں۔ا ن کے پاس اب صرف ایک ہی راستہ ہے کہ سفارتی قلابازیاں کھانے اور در در پر دست سوال دراز کرنے کے بجائے امن کی جانب لوٹ آئیں ، دہشت گردوں کی سرپرستی چھوڑیں ، انہیں بھلے اپنے سینے سے لگا کر رکھیں لیکن اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف ا ستعمال نہ ہونے دیں ، ورنہ جو ہورہا ہے وہ جاری رہے گا ۔

(عریضہ /سیف اللہ خالد)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Link copied!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *