ریاض: مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود اس ہفتے دو روزہ سرکاری دورے پر چین جائیں گے، جہاں وہ چینی وزیر خارجہ وانگ یی اور دیگر اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔
چینی وزارت خارجہ کے مطابق یہ دورہ منگل سے بدھ تک جاری رہے گا اور وانگ یی کی دعوت پر کیا جا رہا ہے۔ ملاقاتوں میں سعودی عرب اور چین کے دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، علاقائی سلامتی اور مشرقِ وسطیٰ کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب آبنائے ہرمز سے متعلق حالیہ پیش رفت کے باعث امریکا اور ایران کے درمیان تناؤ ایک بار پھر بڑھ گیا ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اور بعد ازاں سوئٹزرلینڈ میں تکنیکی مذاکرات ہوئے، تاہم حالیہ جوابی کارروائیوں نے خطے کی صورتحال کو دوبارہ غیر یقینی بنا دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق رواں سال ہونے والی فوجی جھڑپوں کے دوران ایران نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کرنے والے بعض خلیجی ممالک کو بھی نشانہ بنایا، جس کے باعث آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھی اور بحری تجارت کے ساتھ سعودی عرب کی تیل برآمدات بھی متاثر ہوئیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے دورۂ چین میں علاقائی استحکام، توانائی کے تحفظ، بحری راستوں کی سلامتی اور سفارتی تعاون کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر بھی غور کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: دوحہ میں امریکا اور ایران کے تکنیکی مذاکرات کی تیاری، اہم پیش رفت متوقع