تہران: ایران میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کے سلسلے میں بڑے پیمانے پر انتظامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ حکام کے مطابق سوگ کی تقریبات میں تقریباً دو کروڑ افراد کی شرکت کا امکان ہے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق مرکزی سوگ کی تقریبات کا آغاز 4 جولائی سے تہران اور مقدس شہر قم میں ہوگا، جبکہ آیت اللہ علی خامنہ ای کو 9 جولائی کو ان کے آبائی شہر مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق ایرانی حکومت، پولیس اور پاسدارانِ انقلاب مشترکہ طور پر سکیورٹی، ٹریفک اور دیگر انتظامی امور کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ بڑی تعداد میں آنے والے شرکاء کے لیے مؤثر انتظامات یقینی بنائے جا سکیں۔
رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عراق کے مقدس شہر کربلا میں تعزیتی تقریب کے انعقاد کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔
یاد رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای فروری کے آخر میں تہران میں اپنی سرکاری رہائش گاہ پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔ وفات کے وقت ان کی عمر 86 برس تھی۔
حکام کے مطابق سکیورٹی خدشات اور اعلیٰ سطحی شخصیات کی متوقع شرکت کے باعث آخری رسومات کا شیڈول کئی بار مؤخر کیا گیا، جس کے بعد اب نمازِ جنازہ اور تدفین کی تاریخوں کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کا دوٹوک مؤقف: اسرائیل لبنان چھوڑ دے، ورنہ شکست یقینی ہے