آزاد جموں و کشمیر پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ پرتشدد کارروائیوں کے لیے اسلحہ منتقل کرنے کے الزام میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے مبینہ طور پر وابستہ چند افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق ترساوا سے کوٹلی اسلحہ لے جانے والے افراد کو ایک ناکے پر حراست میں لیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں گرفتار افراد نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ وہ کمیٹی کے رہنما امتیاز اسلم کے لیے کام کر رہے تھے۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم علی نے بیان دیا کہ انہیں ہدایت دی گئی تھی کہ کوٹلی میں دھرنے میں شریک ہونے والا ہر شخص اپنے ساتھ اسلحہ بھی لائے۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ گزشتہ تین برس سے کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے وابستہ تھا، تاہم اب اس تنظیم سے اس کا کوئی تعلق نہیں رہا۔
پولیس کے مطابق ملزم نے مزید الزام عائد کیا کہ کمیٹی نوجوانوں کو آٹا، چینی اور بجلی کے مسائل کی آڑ میں اپنی جانب راغب کر رہی ہے، جبکہ اس کے اصل مقاصد مختلف ہیں۔ اس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ دھرنے میں شریک متعدد افراد کے پاس مختلف نوعیت کا اسلحہ موجود تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ دیگر ممکنہ ملزمان اور سہولت کاروں کے حوالے سے بھی شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
نوٹ: اس خبر میں گرفتار ملزم اور پولیس کے مؤقف کو بیان کیا گیا ہے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، اور متعلقہ فریق کا مؤقف سامنے آنے کی صورت میں اسے بھی شامل کیا جانا چاہیے۔
مزید پڑھیں: لاہور، اسلام آباد ایئرپورٹس کا حفاظتی جائزہ، برطانوی ٹیم پاکستان میں