لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے بورڈ آف گورنرز نے چیئرمین محسن نقوی کی زیر صدارت ہونے والے 84ویں اجلاس میں قومی اور ڈومیسٹک کرکٹرز کے مالی پیکج میں نمایاں اضافے سمیت متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دے دی۔
اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے سرپلس بجٹ اور پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 12ویں ایڈیشن کے بجٹ کی توثیق کی گئی، جبکہ پی ایس ایل کو انتظامی اور مالیاتی لحاظ سے مزید خودمختار بنانے کی بھی منظوری دی گئی۔
بورڈ نے ڈومیسٹک کرکٹ کے لیے مختص فنڈز میں ایک ارب روپے اضافے کی منظوری دی، جس کے بعد اس شعبے کا بجٹ 3 ارب سے بڑھ کر 4 ارب روپے ہو گیا۔
اجلاس میں قومی کرکٹرز کے نئے سینٹرل کنٹریکٹ کے ڈھانچے اور ادائیگی کے نئے نظام کی بھی منظوری دی گئی، جبکہ قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کی میچ فیس بڑھانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
قائداعظم ٹرافی میں شریک کھلاڑیوں کی میچ فیس 30 ہزار روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے مقرر کر دی گئی، جبکہ ریزرو کھلاڑیوں کی فیس 15 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کر دی گئی۔
بورڈ نے ویمنز ون ڈے اور ٹی20 ٹورنامنٹس کے انعقاد کے لیے فنڈز مختص کرنے کی منظوری بھی دی۔ اس کے علاوہ ریجنل گراؤنڈ اسٹاف کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 42 ہزار روپے مقرر کرنے، مزید 12 گراؤنڈز فعال بنانے اور اس مقصد کے لیے افرادی قوت کی فراہمی کی بھی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں نیشنل بینک کرکٹ اسٹیڈیم کراچی اور دیگر کرکٹ انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے 6 ارب 70 کروڑ روپے مختص کرنے کی منظوری دی گئی، جبکہ ہائی پرفارمنس سینٹر لاہور میں جدید بائیو مکینکس مشین کی تنصیب کے لیے بھی فنڈز منظور کیے گئے۔
اجلاس کے دوران چیف فنانشل آفیسر جاوید مرتضیٰ نے نئے مالی سال کے بجٹ پر بریفنگ دی، جبکہ بورڈ آف گورنرز کے اراکین، پی سی بی حکام اور پی ایس ایل انتظامیہ نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
مزید پڑھیں: پرو ہاکی لیگ میں پاکستان کی مسلسل 16ویں شکست، انگلینڈ نے 0-7 سے ہرا دیا