راولپنڈی (نمائندہ خصوصی)قومی پیغام امن سیمنار: معرکۂ حق بنیان مرصوص کے بعد پاکستانی قیادت کے عالمی کردار کی تعریف، دشمنوں کی سازشوں سے خبردارراولپنڈی میں قومی پیغام امن کمیٹی، حکومت پاکستان کے زیر اہتمام قومی پیغام امن سیمنار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے مفتی محمد زاہد منصور نے کہا کہ معرکۂ حق بنیان مرصوص کے بعد ایک جانب پاکستان کی کامیابیاں روز افزوں ہیں تو دوسری جانب وطن اور عالمی امن کے دشمنوں کی سازشیں بھی شدت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔انہوں نے اس عظیم معرکے کے شہدا اور غازیوں کے نام عقیدت و احترام کا سلام پیش کیا اور کہا کہ ان کی قربانیوں کے نتیجے میں پاکستان کو اللہ رب العزت نے جو عزت عطا فرمائی ہے، اس میں پاکستان کا وہ کلیدی عالمی کردار بھی شامل ہے جو اس نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تاریخی معاہدے میں بطور ثالث ادا کیا۔مفتی محمد زاہد منصور نے پاکستان کے سپہ سالار فیلڈ مارشل حافظ سید محمد عاصم منیر، وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اسحٰق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مبارک باد دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قیادت نے ممکنہ جنگ کی تباہی اور لاکھوں انسانی جانوں کو بچانے کے ساتھ ساتھ پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے طوفان کے سامنے مضبوط بند باندھ کر نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کو ریلیف فراہم کیا۔ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کی کامیابی کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمتیں کم ہوئیں، جس سے متعدد ممالک اور ان کے عوام مستفید ہو رہے ہیں۔ ایرانی صدر کا حالیہ دورۂ پاکستان پاکستانی قیادت کی مخلصانہ جدوجہد اور سفارتی حکمت کا واضح اعتراف ہے۔مفتی زاہد منصور نے خبردار کیا کہ اس معاہدے کی کامیابی نے عالمی امن کے دشمنوں کو زخمی سانپ کی طرح بے تاب کر دیا ہے اور وہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے ہر حد تک جا سکتے ہیں۔انہوں نے قومی امن کمیٹی کے اراکین، علماء کرام اور پوری قوم سے اپیل کی کہ وطن عزیز کے خلاف دشمنانِ ملت کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے “پیغام پاکستان” ضابطۂ اخلاق پر عمل پیرا ہوں اور اسے بلاتفریق مسالک ہر فرد تک پہنچائیں۔انہوں نے کہا کہ پیغام پاکستان ملک کے جید علماء و مشائخ کا متفقہ قومی بیانیہ ہے جو انتہا پسندی، فرقہ واریت اور نفرت کے خاتمے کے ساتھ امت کے اتحاد، قومی یکجہتی اور باہمی احترام کو فروغ دیتا ہے۔ محرم الحرام کے اس مبارک مہینے میں اس ضابطۂ اخلاق پر عملدرآمد امن و امان اور بین المسالک ہم آہنگی کے قیام کے لیے ناگزیر ہے۔مفتی محمد زاہد منصور نے زور دیا کہ محرم الحرام ہمیں صبر، استقامت، قربانی اور حق پر ثابت قدمی کا درس دیتا ہے۔ اس مقدس مہینے میں ہمیں ہر اس بیان، عمل اور رویے سے اجتناب کرنا چاہیے جو انتشار، اشتعال یا فرقہ وارانہ کشیدگی کا باعث بنے۔انہوں نے “پیغام پاکستان ضابطۂ اخلاق” کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے اس کے فروغ، تشہیر اور عملی نفاذ کے لیے ہر سطح پر کردار ادا کرنے کا پختہ عزم ظاہر کیا۔سیمنار کے اختتام پر مقرر نے دعا کی کہ “اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔ وطن محفوظ، قوم متحد اور امن قائم رہے۔”