اسلام آباد: قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور اسپیکر کے درمیان گزشتہ روز کی تقاریر سے متعلق دلچسپ مکالمہ دیکھنے میں آیا۔
اظہار خیال کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اسپیکر کا منصب غیر جانبداری کا تقاضا کرتا ہے، اس لیے انہیں ارکان کی تقاریر کا جواب دینے کے بجائے ایوان کی کارروائی چلانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی چمن میں کی گئی تقریر پشتو زبان میں تھی، جس کے بعض نکات کو درست تناظر میں نہیں لیا گیا۔
اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ انہوں نے عوامی مسائل کے حل، عدالتی نظام اور جمہوری عمل سے متعلق اپنے مؤقف کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے حکومت اور ریاستی اداروں سے متعلق مختلف سیاسی معاملات پر بھی اپنے خیالات پیش کیے اور پارلیمان کی خودمختاری، آئین کی بالادستی اور جمہوری اقدار کے فروغ پر زور دیا۔
محمود اچکزئی نے کہا کہ ان کی جماعت کا مقصد کسی ادارے کو متنازع بنانا نہیں بلکہ آئینی حدود میں رہتے ہوئے جمہوری نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر تمام ادارے آئین کے مطابق کام کریں تو ملک میں سیاسی استحکام ممکن ہے۔
بعد ازاں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ان کا مقصد کسی رکن کی دل آزاری کرنا نہیں تھا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ بعض بیانات کی تشریح غلط انداز میں کی گئی اور وہ ہمیشہ ایوان کے وقار اور قواعد کے مطابق کارروائی چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔
اسپیکر نے کہا کہ ایوان میں باہمی احترام اور شائستگی کا ماحول برقرار رہنا چاہیے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اپوزیشن لیڈر کو اظہار خیال کے لیے مقررہ وقت سے زیادہ وقت دیا گیا، جو ایوانی روایات کے احترام کا مظہر ہے۔
مزید پڑھیں:پیپلز پارٹی نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کا مطالبہ کردیا