عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی کی وجہ امریکا ایران معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت معمول پر آنا ہے۔
علاوہ ازیں امریکا کی جانب سے 60 روز کے لیے پابندیاں نرم کرنے کے بعد ایرانی خام تیل کی برآمدات میں ممکنہ اضافے سے بھی عالمی منڈی میں رسد بڑھنے کا امکان ہے۔
ایک اور بڑی وجہ خلیجی ممالک کی جانب سے تیل کی فراہمی میں اضافے اور بعض کارگو رعایتی نرخوں پر فروخت ہونا ہے۔
ان تمام پیشرفتوں کے بعد سرمایہ کاروں نے تیل کی قیمتوں میں شامل اضافی جیو پولیٹیکل رسک پریمیم نکالنا شروع کر دیا ہے جس سے قیمتوں میں مزید تیزی سے کمی آئی۔
اسی دوران سونے کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی گئی جبکہ عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں نسبتاً بہتری آئی ہے۔
اگرچہ اس وقت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے تاہم توانائی کے شعبے کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ کشیدگی بڑھنے یا آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی آسکتی ہے۔