عیسائیوں کے مذہبی پیشوا Pope Leo XIV نے کہا ہے کہ دنیا کے رہنما بھوک کا شکار انسانوں کی مدد کے بجائے جنگوں پر وسائل خرچ کرنے میں مصروف ہیں۔
روم میں World Food Programme کی گورننگ باڈی سے خطاب کرتے ہوئے پوپ لیو نے کہا کہ عالمی ترجیحات کا توازن بگڑ چکا ہے اور دنیا کو بھوک اور غذائی عدم تحفظ جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔
انہوں نے عالمی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ امریکا اور دیگر ممالک کی جانب سے مالی معاونت میں کمی کے بعد پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو دور کریں اور خوراک کی فراہمی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔
پوپ لیو نے عالمی رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھوک کے بحران سے نمٹنے کے لیے زیادہ وسائل مختص کریں اور جغرافیائی سیاسی خدشات کی بنیاد پر خوراک کی امداد کو محدود کرنے سے گریز کریں۔
انہوں نے سیاسی اور انتظامی رکاوٹوں پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ رکاوٹیں انسانی امداد کی فراہمی میں تاخیر کا سبب بن رہی ہیں، جبکہ دوسری جانب فوجی اخراجات میں مسلسل اضافہ بلا روک ٹوک جاری ہے۔