لوئر دیر: ضلع لوئر دیر کے علاقے برچڑئی تالاش میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور ضلعی پولیس کی مشترکہ کارروائی کے دوران 6 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ متعدد مشتبہ عناصر کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
پولیس کے مطابق سیکیورٹی اداروں کو اطلاع ملی تھی کہ دہشت گردوں کا ایک گروہ دیر کی پہاڑیوں میں موجود ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ عناصر چند روز قبل باڈوان پل چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے میں بھی ملوث تھے، جس میں کانسٹیبل محمد اسماعیل شہید ہوئے تھے۔
اطلاع پر سی ٹی ڈی اور ضلعی پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے علاقے کا گھیراؤ کیا۔ کارروائی کے دوران جب اہلکاروں نے دہشت گردوں کو حراست میں لینے کی کوشش کی تو ملزمان نے فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں دونوں جانب سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
جھڑپ کے خاتمے پر سیکیورٹی فورسز نے علاقے کی تلاشی لی، جہاں سے 6 دہشت گردوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ ہلاک ہونے والوں میں خلیل الرحمان عرف صدام، نجم الدین عرف ابوجانہ اور کفایت اللہ شامل ہیں، جبکہ دیگر افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے 6 کلاشنکوفیں، 3 ہینڈ گرینیڈ اور بھاری مقدار میں گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ حکام کے مطابق ہلاک دہشت گرد مختلف دہشت گردی کے مقدمات میں مطلوب تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ علاقے میں فرار ہونے والے دہشت گردوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے اور انہیں جلد قانون کی گرفت میں لانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے کامیاب کارروائی پر سی ٹی ڈی اور ضلعی پولیس کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی اور ریاست کی عملداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ مطلوب دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا جائے گا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کامیاب آپریشن پر سی ٹی ڈی خیبر پختونخوا اور پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بہادر جوانوں نے دہشت گردوں کے مذموم عزائم ناکام بنائے اور قوم کو ان پر فخر ہے۔
مزید پڑھیں: منشیات فروش انمول عرف پنکی کیس میں اہم پیش رفت، تفتیش میں نئی تفصیلات سامنے آگئیں