فیفا نے 2026 فیفا ورلڈ کپ کے دوران مسلم کھلاڑیوں کے مذہبی عقائد اور ثقافتی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ‘پلیئر آف دی میچ’ ایوارڈ کی تقریب اور ٹرافی کے طریقۂ کار میں اہم تبدیلی متعارف کرا دی ہے۔
نئی پالیسی کے تحت ایسے کھلاڑی، جو درخواست کریں، انہیں شراب کے برانڈ کی تشہیر سے پاک خصوصی ٹرافی اور بغیر براkeڈنگ والا بیک ڈراپ فراہم کیا جائے گا۔
یہ تبدیلی اس وقت نمایاں ہوئی جب مراکش کے اسماعیل صیباری نے اسکاٹ لینڈ کے خلاف میچ میں ٹورنامنٹ کا تیز ترین ابتدائی گول کرنے پر ‘پلیئر آف دی میچ’ کا اعزاز حاصل کیا۔ ایوارڈ تقریب میں روایتی بیئر برانڈ کی تشہیر کی جگہ غیر جانبدار ‘سپیریئر پلیئر آف دی میچ’ ڈیزائن اور فیفا ورلڈ کپ کی سرکاری برانڈنگ استعمال کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق مصر کے امام عاشور، اردن کے علی علوان، ایران کے رامین رضائیان، قطر کے گول کیپر محمود ابو ندا اور آئیوری کوسٹ کے یان دیومانڈے کو بھی اسی طرز کے غیر برانڈڈ ایوارڈز دیے گئے۔
فیفا کے ترجمان نے بتایا کہ منتخب کھلاڑی کی درخواست پر بغیر برانڈنگ والی ٹرافی اور بیک ڈراپ فراہم کیا جا سکتا ہے۔ یہی سہولت ان کھلاڑیوں کے لیے بھی دستیاب ہے جو قانونی طور پر شراب نوشی کی مقررہ عمر کو نہیں پہنچے ہوتے۔
واضح رہے کہ 2018 ورلڈ کپ میں مصر کے گول کیپر محمد الشناوی نے شراب کی اسپانسرشپ سے منسلک ‘پلیئر آف دی میچ’ ایوارڈ قبول نہ کرنے کے فیصلے پر عالمی سطح پر توجہ حاصل کی تھی۔
مزید پڑھیں: فیفا کی پالیسیوں پر سابق جرمن فٹبالر کی تنقید، ورلڈ کپ کو فروخت شدہ قرار دے دیا