نیتن یاہو کی جنگی پالیسیوں سے اندرونی بحران، سی آئی اے نے اسرائیل کو بڑے خطرے سے خبردار کردیا گیا سندھ ہائیکورٹ آئینی بینچز کی مدت میں توسیع کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب ایران امریکا کشیدگی، روس نے جنگ بندی کے لیے تہران کو ثالثی کی پیشکش کر دی سعودی ایئرپورٹس پر حوثیوں کے حملوں میں 3 افراد جاں بحق؛ پاکستانی سمیت 36 زخمی صوبہ سندھ میں تقرریاں نہ لینے والے 63 میں سے 20 سب رجسٹراروں کی معطلی سفارش افغانستان میں امریکی واپسی، طالبان کیلیے روسی نرم گوشے کی وجہ افغانستان میں سیاسی تبدیلی جلد آنے والی ہے، گلبدین حکمت یار آئی ایم ایف نے پاکستان کو اسٹاف لیول معاہدے کے تحت 1.2 ارب ڈالر کی منظوری دے دی ایران جنگ ختم کرنا چاہتا ہے تو اسے جوہری یورینیم افزودگی کم کرنی ہو گی، جے ڈی وینس چیٹ جی پی ٹی کی تحریروں میں خفیہ اشارے شامل کرنے کا اعلان! نیتن یاہو کی جنگی پالیسیوں سے اندرونی بحران، سی آئی اے نے اسرائیل کو بڑے خطرے سے خبردار کردیا گیا سندھ ہائیکورٹ آئینی بینچز کی مدت میں توسیع کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب ایران امریکا کشیدگی، روس نے جنگ بندی کے لیے تہران کو ثالثی کی پیشکش کر دی سعودی ایئرپورٹس پر حوثیوں کے حملوں میں 3 افراد جاں بحق؛ پاکستانی سمیت 36 زخمی صوبہ سندھ میں تقرریاں نہ لینے والے 63 میں سے 20 سب رجسٹراروں کی معطلی سفارش افغانستان میں امریکی واپسی، طالبان کیلیے روسی نرم گوشے کی وجہ افغانستان میں سیاسی تبدیلی جلد آنے والی ہے، گلبدین حکمت یار آئی ایم ایف نے پاکستان کو اسٹاف لیول معاہدے کے تحت 1.2 ارب ڈالر کی منظوری دے دی ایران جنگ ختم کرنا چاہتا ہے تو اسے جوہری یورینیم افزودگی کم کرنی ہو گی، جے ڈی وینس چیٹ جی پی ٹی کی تحریروں میں خفیہ اشارے شامل کرنے کا اعلان!
نیتن یاہو کی جنگی پالیسیوں سے اندرونی بحران، سی آئی اے نے اسرائیل کو بڑے خطرے سے خبردار کردیا گیا سندھ ہائیکورٹ آئینی بینچز کی مدت میں توسیع کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب ایران امریکا کشیدگی، روس نے جنگ بندی کے لیے تہران کو ثالثی کی پیشکش کر دی سعودی ایئرپورٹس پر حوثیوں کے حملوں میں 3 افراد جاں بحق؛ پاکستانی سمیت 36 زخمی صوبہ سندھ میں تقرریاں نہ لینے والے 63 میں سے 20 سب رجسٹراروں کی معطلی سفارش افغانستان میں امریکی واپسی، طالبان کیلیے روسی نرم گوشے کی وجہ افغانستان میں سیاسی تبدیلی جلد آنے والی ہے، گلبدین حکمت یار آئی ایم ایف نے پاکستان کو اسٹاف لیول معاہدے کے تحت 1.2 ارب ڈالر کی منظوری دے دی ایران جنگ ختم کرنا چاہتا ہے تو اسے جوہری یورینیم افزودگی کم کرنی ہو گی، جے ڈی وینس چیٹ جی پی ٹی کی تحریروں میں خفیہ اشارے شامل کرنے کا اعلان! نیتن یاہو کی جنگی پالیسیوں سے اندرونی بحران، سی آئی اے نے اسرائیل کو بڑے خطرے سے خبردار کردیا گیا سندھ ہائیکورٹ آئینی بینچز کی مدت میں توسیع کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب ایران امریکا کشیدگی، روس نے جنگ بندی کے لیے تہران کو ثالثی کی پیشکش کر دی سعودی ایئرپورٹس پر حوثیوں کے حملوں میں 3 افراد جاں بحق؛ پاکستانی سمیت 36 زخمی صوبہ سندھ میں تقرریاں نہ لینے والے 63 میں سے 20 سب رجسٹراروں کی معطلی سفارش افغانستان میں امریکی واپسی، طالبان کیلیے روسی نرم گوشے کی وجہ افغانستان میں سیاسی تبدیلی جلد آنے والی ہے، گلبدین حکمت یار آئی ایم ایف نے پاکستان کو اسٹاف لیول معاہدے کے تحت 1.2 ارب ڈالر کی منظوری دے دی ایران جنگ ختم کرنا چاہتا ہے تو اسے جوہری یورینیم افزودگی کم کرنی ہو گی، جے ڈی وینس چیٹ جی پی ٹی کی تحریروں میں خفیہ اشارے شامل کرنے کا اعلان!

افغان طالبان حکومت کی فتنہ الخوارج سے مبینہ وابستگی پر عالمی سطح پر تشویش

Link copied!
افغان طالبان حکومت کی فتنہ الخوارج سے مبینہ وابستگی پر عالمی سطح پر تشویش

برطانوی نمائندے کا افغانستان میں فتنہ الخوارج کی موجودگی اور حمایت کا دعویٰ

افغانستان میں برطانیہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ لنڈسے نے دعویٰ کیا ہے کہ فتنہ الخوارج کو افغانستان سے حمایت حاصل ہے اور اس کی سرگرمیاں خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہیں۔

افغان میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں رچرڈ لنڈسے نے فتنہ الخوارج کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس گروہ کو افغانستان کے اندر مختلف نوعیت کی معاونت میسر ہے۔ ان کے مطابق سرحدی قبائلی علاقوں میں تنظیم کے خاندانی اور سماجی روابط بھی موجود ہیں، جو اس کے نیٹ ورک کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کابل اور قندھار میں طالبان حکام کو فتنہ الخوارج کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس گروہ کی پشت پناہی سے متعلق سوالات کا جواب افغان حکام ہی بہتر طور پر دے سکتے ہیں۔

رچرڈ لنڈسے کے مطابق افغانستان میں فتنہ الخوارج کے تربیتی مراکز موجود ہیں، جہاں جنگجوؤں کو تربیت، اسلحہ اور مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں سیکیورٹی آپریشنز سے فرار ہونے والے عناصر کے لیے افغانستان ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔

برطانوی نمائندے کا کہنا تھا کہ فتنہ الخوارج کی سرگرمیوں کے باعث خطے میں عدم استحکام بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کی جانب سے سیکیورٹی اقدامات اور فوجی ردعمل بھی سامنے آ رہا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور ان کے منظم نیٹ ورکس علاقائی سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کو مالی معاونت، تربیت اور اسلحے کی فراہمی جیسے عوامل خطے میں دہشت گردی کے واقعات اور سیکیورٹی آپریشنز کا سبب بن رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کا افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی موجودگی پرتشویش کا اظہار

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Link copied!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *