سائنس دانوں نے موٹاپے کے علاج کے لیے الینیگلیپرون نامی نئی جی ایل پی-1 گولی تیار کی ہے، جس نے کلینیکل ٹرائلز میں حوصلہ افزا نتائج دکھائے ہیں۔ تحقیق کے مطابق ایک سال تک دوا استعمال کرنے والے شرکا کے جسمانی وزن میں اوسطاً 16.2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کے مضر اثرات بھی نسبتاً کم دیکھے گئے۔
اس دوا کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اسے دن کے کسی بھی وقت، کھانے کے ساتھ یا بغیر کھانے کے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دیگر بعض جی ایل پی-1 ادویات کے برعکس اسے خالی پیٹ لینے کی ضرورت نہیں ہوتی، جس سے اس کا استعمال زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق الینیگلیپرون جسم میں قدرتی جی ایل پی-1 ہارمون کی طرح کام کرتی ہے، بھوک کو کم کرتی ہے اور کھانے کی خواہش پر قابو پانے میں مدد فراہم کرتی ہے۔
دوسرے مرحلے کے کلینیکل ٹرائل میں زائد وزن یا موٹاپے کے شکار افراد نے 36 ہفتوں کے دوران اوسطاً 12 فیصد وزن کم کیا، جبکہ 56 ہفتے (تقریباً ایک سال) تک دوا استعمال کرنے والوں میں وزن میں اوسطاً 16.2 فیصد کمی دیکھی گئی۔
تحقیق کے شریک مصنف پروفیسر رابرٹ کشنر کا کہنا ہے کہ چونکہ الینیگلیپرون ایک چھوٹے مالیکیول پر مبنی دوا ہے، اس لیے اسے اسپرین یا بلڈ پریشر کی عام گولیوں کی طرح کسی بھی وقت کھانے کے ساتھ یا بغیر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ مرحلے کے کلینیکل ٹرائلز بھی کامیاب ثابت ہوئے تو یہ دوا موٹاپے کے علاج کے لیے ایک مؤثر، آسان اور زیادہ قابلِ استعمال متبادل بن سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: بلڈ پریشر نارمل ہوتے ہی ازخود دوا چھوڑ دینا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، ماہرین کی تنبیہ